2025 MLD 573: Court Excludes Non-Heirs from Inheritance Under Shariah.
وراثت کا شرعی اصول: صرف حقیقی وارث کو حق حاصل ہے – غیر وارث کو واراثت سے نکال دیا۔
مقدمہ: منظور احمد بنام چراغ خان (2025 MLD 573)
وراثت ایک ایسا حساس اور اہم معاملہ ہے جس میں شریعتِ اسلامیہ نے مکمل رہنمائی فراہم کی ہے۔ پاکستان کے عدالتی نظام میں قرآن و سنت کی روشنی میں وراثتی فیصلے دیے جاتے ہیں۔ لاہور ہائیکورٹ کے حالیہ فیصلے منظور احمد بنام چراغ خان میں ایک نہایت اہم اصول واضح کیا گیا:
صرف وہی افراد وراثت کے حقدار ہیں جو شریعت کے مطابق وارث شمار ہوتے ہیں، باقی تمام افراد محروم ہوں گے۔
پس منظر:
منظور احمد نامی شخص کا انتقال ہوا۔ اس کی کوئی نرینہ اولاد نہیں تھی، صرف ایک بیٹی تھی۔
بیٹی کچھ عرصے بعد فوت ہو گئی، نہ اس کی اولاد تھی، نہ شوہر۔
اس کے ورثاء میں صرف ایک علاتی (uterine) بھائی زندہ تھا (یعنی ماں ایک لیکن باپ مختلف)۔
مرحوم کے سوتیلے بھائی پہلے انتقال کر چکے تھے، لیکن ان کے بیٹے (یعنی منظور احمد کے بھتیجے) زندہ تھے۔ انہوں نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ چونکہ وہ خاندان سے ہیں، لہٰذا انہیں بیٹی کی جائیداد میں حصہ دیا جائے۔
ابتدائی عدالتی فیصلے:
ٹریل کورٹ اور اپیلٹ کورٹ نے ان بھتیجوں کو حصہ دار قرار دیا اور فیصلہ ان کے حق میں کر دیا۔
ہائیکورٹ میں نظرثانی:
علاتی بھائی نے لاہور ہائیکورٹ میں سول ریویژن دائر کی (Civil Revision No. 164468/18)۔
عدالت نے قرآن مجید کی سورۃ النساء کی آیات 7 تا 11 کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ:
منظور احمد کی بیٹی کی وفات کے بعد صرف علاتی بھائی ہی اس کا وارث ہے۔
سوتیلے چچا کے بیٹے شرعی وارث نہیں، اس لیے انہیں وراثت سے محروم رکھا جائے گا۔
عدالتی فیصلہ:
نچلی عدالتوں کا فیصلہ کالعدم قرار دیا گیا۔
علاتی بھائی کو مکمل جائیداد کا حقدار قرار دیا گیا۔
بھتیجوں کو شرعی وارث نہ ہونے کی بنیاد پر حصہ سے محروم کر دیا گیا۔
شرعی و قانونی اہمیت:
یہ فیصلہ نہ صرف وراثت کے شرعی اصولوں کی وضاحت کرتا ہے بلکہ یہ بھی بتاتا ہے کہ:
وراثت میں رشتہ داری کا تصور شریعت کے مطابق دیکھا جائے گا، نہ کہ محض خاندانی تعلق یا قریبی رشتہ کافی ہے۔
عدالتوں کو فیصلے قرآن و سنت کی روشنی میں کرنا لازم ہے، خواہ نچلی عدالتوں نے غلطی کی ہو۔
نتیجہ:
اگر کوئی فرد وراثت میں اپنے آپ کو حقدار سمجھتا ہے تو پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آیا وہ شریعت کے مطابق وارث بنتا ہے یا نہیں۔ ورنہ عدالت ایسے دعوؤں کو رد کر سکتی ہے جیسا کہ اس مقدمے میں ہوا۔
Must read judgement
2025 MLD 573
Principles of Quran & Sunnah--- Ayat No.7 to 11 of Surah tul Nisa of Holy Quran--- A male Muslim dies without male issue--- His only daughter who dies issueless leaving behind only an alive uterine brother who will inherit her estate whereas progeny of her predeceased uncle or step father will be excluded from her inheritance. Revision Petition allowed. Concurrent (naeem)decisions of lower fora granting share to the sons of her step father were reversed accordingly.
Civil Revision 164468/18
Manzoor Ahmad Vs Chiragh Khan Through LRs
