Legal Requirements for Imprisonment Due to Non-Payment of Decretal Amount: Peshawar High Court Ruling

Legal Requirements for Imprisonment Due to Non-Payment of Decretal Amount: Peshawar High Court Ruling.


عنوان: واجب الادا رقم کی عدم ادائیگی پر قید کی قانونی شرائط: پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ

تعارف:

سول مقدمات میں ایک اہم علاج کے طور پر، جب کوئی فریق کسی عدالتی فیصلے کے مطابق رقم ادا نہیں کرتا، تو عدالت اس رقم کی وصولی کے لیے کارروائی کر سکتی ہے۔ تاہم، جب مدعا علیہ (جو رقم ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہو) رقم ادا کرنے میں ناکام رہتا ہے، تو عدالت بعض حالات میں اس شخص کو قید میں بھیج سکتی ہے۔ پشاور ہائی کورٹ کے 2025 کے فیصلے (2025 CLC 348) میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ قید کے حکم سے پہلے کون سی قانونی شرائط اور طریقہ کار پر عمل کرنا ضروری ہے۔

قانونی فریم ورک:

سیول پروسیجر کوڈ (CPC) کی دفعہ 51، 115 اور آرڈر XXI، قاعدہ 37 کے تحت، جب کسی مدعا علیہ کی طرف سے واجب الادا رقم کی ادائیگی میں ناکامی ہوتی ہے، تو عدالت اُسے قید کرنے کا حکم دے سکتی ہے۔ تاہم، یہ اختیار صرف مخصوص قانونی تقاضوں کے تحت استعمال کیا جا سکتا ہے۔ قانون یہ تقاضا کرتا ہے کہ قید بھیجنے سے پہلے مدعا علیہ کو اپنی پوزیشن واضح کرنے کا موقع دیا جائے۔

اہم قانونی شرائط:

1. دفاع کا موقع دینا:

 مدعا علیہ کو واجب الادا رقم کی ادائیگی میں ناکامی کی وضاحت دینے کا مناسب موقع فراہم کرنا ضروری ہے۔ یہ ایک بنیادی قانونی تقاضا ہے جس سے انصاف اور قانونی عمل کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔

2. ادائیگی کی استطاعت:

 عدالت کو یہ تسلی کرنی چاہیے کہ مدعا علیہ کے پاس رقم ادا کرنے کی استطاعت ہے، یا کم از کم اس رقم کا ایک قابل ذکر حصہ ادا کرنے کی صلاحیت ہے، لیکن اس نے جان بوجھ کر ادائیگی سے انکار کیا ہے۔

3. عدالت کی قانونی ذمہ داری:

 عدالت کو کسی بھی صورت میں بلاجواز عمل نہیں کرنا چاہیے۔ اس پر قانونی طور پر یہ ذمہ داری ہے کہ وہ مدعا علیہ کو قید میں بھیجنے کے فیصلے کے حوالے سے مناسب وجوہات فراہم کرے۔ اس کی عدم تکمیل کی صورت میں، اعلیٰ عدالت اس حکم کو کالعدم قرار دے سکتی ہے۔

پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ:

کیس طارق علی بمقابلہ ہلال شاہ میں درخواست گزار طارق علی نے ایکسیکیوٹنگ کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا، جس میں اُسے واجب الادا رقم کی عدم ادائیگی پر قید بھیجنے کا حکم دیا گیا تھا۔ پشاور ہائی کورٹ نے فیصلہ سنایا کہ ایکسیکیوٹنگ کورٹ نے طارق علی کو قید بھیجنے سے پہلے اُسے اپنی پوزیشن واضح کرنے کا مناسب موقع فراہم نہیں کیا۔ عدالت نے کہا کہ جب قانون کسی عمل کو مخصوص طریقے سے کرنے کی ہدایت کرتا ہے، تو وہ طریقہ اختیار کرنا ضروری ہے۔ نتیجتاً، پشاور ہائی کورٹ نے ایکسیکیوٹنگ کورٹ کے حکم کو منسوخ کرتے ہوئے طارق علی کے حق میں فیصلہ دیا۔

اہم نکات:

1. دفاع کا موقع:

 پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ مدعا علیہ کو قید بھیجنے سے پہلے اُس کو اپنی پوزیشن پیش کرنے کا مناسب موقع دینا ضروری ہے۔


2. عدالتی نگرانی:

 عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ججوں کو یہ یقین دہانی کرنی چاہیے کہ قانونی عمل مکمل طور پر عمل میں لایا جائے اور قید کے فیصلے کے لیے ٹھوس وجوہات موجود ہوں۔

3. انصاف اور منصفانہ عمل:

 یہ فیصلہ اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ قانونی نظام کو جرمانہ یا سزا دینے میں انصاف اور منصفانہ طریقہ کار کا لحاظ کرنا ضروری ہے۔

نتیجہ:

پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ واجب الادا رقم کی وصولی کے عمل میں مدعا علیہ کے قانونی حقوق کی حفاظت کی جائے۔ یہ فیصلے کا مقصد نہ صرف قانونی طریقہ کار کو درست طور پر عمل میں لانا ہے بلکہ یہ اس بات کی ضمانت بھی دیتا ہے کہ کسی بھی سخت سزا کو دینے سے پہلے قانونی تقاضوں کا مکمل خیال رکھا جائے۔

Must read Judgement 

Citation Name : 2025 CLC 348 PESHAWAR-HIGH-COURT
Side Appellant : TARIQ ALI
Side Opponent : HILAL SHAH
Ss.51, 115 & O.XXI, R. 37---Recovery of decretal amount---Arrest and detention---Principle---Petitioner/judgment debtor was aggrieved of his arrest by Executing Court for default in payment of decretal amount---Validity---When judgment debtor refuses or neglects to pay decretal amount, then he can be sent to prison---Before committing to prison, Executing Court has to provide judgment debtor an opportunity of showing cause regarding his committing to prison and upon his satisfaction that judgment debtor has means to pay amount of decree or some substantial part thereof and refuses or neglects or has refused or neglected to pay the same, then he can be sent to civil prison---In such case, Executing Court is under legal obligation to provide justiciable reasons thereof---Executing Court committed serious illegality while not providing petitioner/judgment debtor proper opportunity of showing cause regarding his committing to prison due to non-payment of decretal amount---When law required a thing to done in a particular manner, then the same has to be done in that very manner or it should not be done at all---High Court set aside order passed by Executing Court---Revision was allowed, in circumstances


For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.

































 




































Post a Comment

Previous Post Next Post