Legal Implications of Surety's Responsibility After Debtor's Death - Lahore High Court Judgment 2025.
مدیون کی وفات کے بعد ضامن کی ذمہ داری - لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ 2025
لاہور ہائی کورٹ نے 2025 میں ایک اہم فیصلہ دیا جس میں مدیون کی وفات کے بعد ضامن کی ذمہ داری پر قانونی پہلو واضح کیا گیا۔ اس کیس میں یہ مسئلہ زیر بحث آیا کہ کیا مدیون کی وفات کے بعد ضامن اپنی ذمہ داری سے بری ہو جاتا ہے یا نہیں۔
کیس کی تفصیل:
یہ کیس WP. 63942 of 2024 - رشید احمد بمقابلہ اضافی ضلعی جج لاہور ہائی کورٹ میں دائر کیا گیا تھا۔ اس کیس میں رشید احمد نے دعویٰ کیا کہ مدیون کی وفات کے بعد اس کی ضمانت کی ذمہ داری ختم ہو گئی ہے اور وہ اس کی ادائیگی کے لیے جوابدہ نہیں ہے۔
عدالتی فیصلہ:
لاہور ہائی کورٹ نے رشید احمد کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مدیون کی وفات قانوناً ضامن کو اس کی ذمہ داری سے بری نہیں کرتی، جب تک کہ ضمانتی معاہدے میں اس حوالے سے کوئی خاص شرط موجود نہ ہو۔ عدالت نے دیوانی قانون مجریہ 1908 کے سیکشن 145 کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ دیا کہ اگر کسی شخص نے کسی ڈگری کی تکمیل یا رقم کی ادائیگی کے لیے ضامن بننے کا فیصلہ کیا ہو، تو اس کی ذمہ داری اس وقت تک برقرار رہتی ہے جب تک کہ اس نے خود کو ذاتی طور پر اس ذمہ داری کے لیے جوابدہ نہ ٹھہرایا ہو۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ ضامن کی ذمہ داری مدیون کی وفات سے متاثر نہیں ہوتی اور اسے قانون کے مطابق اس ذمہ داری کی تکمیل کے لیے مجبور کیا جا سکتا ہے۔
فیصلے کے اہم نکات:
1. ضامن کی ذمہ داری کا تسلسل:
عدالت نے فیصلہ دیا کہ مدیون کی وفات کے باوجود ضامن کی ذمہ داری برقرار رہتی ہے، جب تک ضمانتی معاہدے میں اس کے بارے میں کوئی خاص شرط شامل نہ ہو۔
2. سیکشن 145 دیوانی قانون مجریہ 1908:
اس سیکشن کے مطابق، ضامن کی ذمہ داری اس وقت تک قائم رہتی ہے جب تک اس نے خود کو ذاتی طور پر اس کی تکمیل کے لیے ذمہ دار نہ ٹھہرایا ہو۔
3. موت سے بریت نہیں:
مدیون کی وفات ضامن کو اس کی ذمہ داری سے خودبخود بری نہیں کرتی۔ ضامن اپنی ضمانت کی تکمیل کے لیے عدالتی حکم کی تکمیل کا پابند ہوتا ہے۔
4. عدالتی حکم کا نفاذ:
عدالت نے فیصلہ کیا کہ اگر ضمانتی معاہدے میں کوئی شرط نہیں ہے تو ضامن کے خلاف قانونی کارروائی جاری رکھی جا سکتی ہے۔
قانونی اصول کی وضاحت:
لاہور ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ ایک اہم قانونی اصول کی وضاحت کرتا ہے کہ ضامن کی ذمہ داری ذاتی طور پر اس کے معاہدے پر قائم رہتی ہے اور مدیون کی وفات کے باوجود یہ ذمہ داری ختم نہیں ہوتی، جب تک کہ ضمانتی معاہدے میں کوئی ایسی شرط شامل نہ ہو۔
نتیجہ:
اس فیصلے نے یہ واضح کر دیا کہ ضامن کی ذمہ داری مدیون کی وفات کے باوجود قائم رہتی ہے، اور یہ کہ ضمانتی معاہدے کی نوعیت اور اس میں شامل شرائط پر ضامن کی ذمہ داری کا انحصار ہوتا ہے۔ اس کیس کا فیصلہ ضامن کی ذمہ داری کے حوالے سے آئندہ کیسز میں رہنمائی فراہم کرے گا۔
#مدیون کی وفات کے بعد بھی ضامن مدیون ڈگری کی ادائیگی کا پابند ہے۔مدیون کی وفات سے ضامن اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہوجاتا
مدیون کی وفات قانوناً ضامن کو اس کی ذمہ داری سے بری نہیں کرتی، جب تک #ضمانتی معاہدے میں اس حوالے سے کوئی خاص شرط موجود نہ ہو۔
#دیوانی قانون مجریہ 1908 کے سیکشن 145 کے تحت یہ تصور کیا گیا ہے کہ جب کوئی شخص کسی ڈگری یا اس کے کسی حصے کی تکمیل، کسی عدالتی حکم کے تحت کسی مال کی واپسی یا کسی رقم کی ادائیگی کے لیے ضامن بنتا ہے، تو ڈگری کو اس کے #خلاف اس حد تک نافذ کیا جا سکتا ہے جس حد تک اس نے ذاتی طور پر خود کو ذمہ دار ٹھہرایا ہو، اور وہ بھی اسی طریقے سے جس کا اس دفعہ میں ذکر کیا گیا ہے۔
Must read Judgement
The death of judgment debtor cannot in law release the surety from his obligation when there is no stipulation to that effect in the bond.
Shared by Advocate Qaisar Farooq
Section 145 of the Code of Civil Procedure-1908 contemplates that when a person becomes surety for performance of any decree or its part, or restitution of any property taken in execution of decree or payment of any money under an order of the Court in any suit proceedings, the decree can be executed against him to the extent for which the surety has rendered himself personally liable in the manners, therein.
WP. 63942 of 2024
Rasheed Ahmad versus Additional District Judge۔
Announced in open Court on 17.03.2025
2025 LHC 2559
For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp
Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.