G-KZ4T1KYLW3 Family Court Jurisdiction in Cases of Second Marriage Without Permission: Legal Precedent

Family Court Jurisdiction in Cases of Second Marriage Without Permission: Legal Precedent

Family Court Jurisdiction in Cases of Second Marriage Without Permission: Legal Precedent.

فیملی کورٹ کا اختیار اور بغیر اجازت دوسری شادی: ایک قانونی تجزیہ


پاکستان میں مسلم فیملی قوانین کے تحت پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر شوہر کی دوسری شادی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ اس سلسلے میں 2025 MLD 385 کا فیصلہ ایک اہم قانونی نقطہ نظر پیش کرتا ہے جو فیملی کورٹ کے اختیار کو واضح کرتا ہے۔ اس کیس میں، عدالت نے یہ فیصلہ دیا کہ بغیر اجازت دوسری شادی کا مقدمہ صرف فیملی کورٹ ہی سن سکتی ہے، اور اگر یہ مقدمہ کسی دوسری عدالت میں سنا جائے، تو وہ قانونی طور پر باطل ہوگا۔

کیس کی حقیقت


یہ مقدمہ ایک شوہر کے خلاف تھا جس نے اپنی پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کر لی۔ پہلی بیوی نے اس اقدام کے خلاف شکایت درج کرائی، جس میں الزام لگایا گیا کہ اس کی اجازت کے بغیر کی گئی شادی مسلم فیملی قوانین کے خلاف ہے۔

ابتدائی طور پر مقدمہ ایک جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں سنا گیا۔ مقدمے کی سماعت کے دوران گواہیاں پیش کی گئیں اور ایک عبوری حکم بھی جاری کیا گیا، لیکن عدالت میں یہ بات واضح نہیں تھی کہ مقدمہ فیملی کورٹ میں ہونا چاہیے تھا۔ اس کیس کی کارروائی میں فیملی کورٹ کے جج کا کوئی اسٹمپ یا دستخط نہیں تھا، جس سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ یہ مقدمہ غیر مجاز عدالت میں چل رہا تھا۔

فیملی کورٹ کا اختیار


مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کی دفعہ 6(5)(b) اور فیملی کورٹ ایکٹ 1964 کی دفعہ 20(3) کے مطابق، ایسی شکایات جہاں شوہر نے پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کی ہو، صرف فیملی کورٹ میں دائر کی جا سکتی ہیں۔ فیملی کورٹ کا مقصد ہی یہ ہے کہ وہ ایسے مسائل کو سن کر فیصلہ کرے جو صرف فیملی کے دائرے میں آتے ہیں۔

اس کیس میں جب عدالت نے دفعہ 20(3) کا جائزہ لیا، تو یہ واضح ہوا کہ صرف فیملی کورٹ ہی اس نوعیت کے مقدمات کی سماعت کا اختیار رکھتی ہے۔ مقدمہ اگر کسی اور عدالت میں چلایا جائے تو وہ قانونی طور پر ناجائز ہوگا اور اس کی کارروائی کا کوئی بھی فیصلہ کالعدم قرار پائے گا۔

عدالت کا فیصلہ


اس کیس میں جب عدالت نے مقدمے کی تفصیلات کا جائزہ لیا تو یہ بات سامنے آئی کہ مقدمہ جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں سننے کے بجائے فیملی کورٹ میں دائر ہونا چاہیے تھا۔ مقدمے کی تمام کارروائیوں اور شواہد کا جائزہ لینے کے بعد عدالت نے فیصلہ کیا کہ جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں مقدمے کی سماعت غیر قانونی تھی اور اس کے نتیجے میں فیصلہ Coram non judice (غیر مجاز عدالت) قرار دیا گیا۔

فیصلے میں یہ کہا گیا کہ فیملی کورٹ ہی اس کیس کو سنے اور اس پر فیصلہ کرے۔ عدالت نے اپیل کو منظور کیا اور سزا کو ختم کر دیا۔

قانونی نقطہ نظر

یہ کیس اس بات کو واضح کرتا ہے کہ پاکستان میں مسلم فیملی قوانین کے مطابق اگر کوئی شوہر اپنی پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کرتا ہے، تو اس کے خلاف کارروائی صرف فیملی کورٹ میں کی جا سکتی ہے۔ اگر مقدمہ کسی دوسری عدالت میں سنا جائے، تو وہ غیر قانونی ہو گا اور اس کی کارروائی کو باطل قرار دیا جائے گا۔

یہ فیصلہ اس بات کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ فیملی کورٹ کو اس نوعیت کے مقدمات میں خصوصی اختیار حاصل ہے اور اس کے دائرہ اختیار میں مداخلت کرنا قانونی طور پر درست نہیں۔ اگر کسی نے اس اختیار کی خلاف ورزی کی، تو مقدمہ باطل قرار پاتا ہے اور اس کے نتائج قانونی طور پر درست نہیں ہوتے۔

نتیجہ


فیملی کورٹ کا اختیار اور اس کی حدود کو سمجھنا بہت ضروری ہے، خاص طور پر جب بات مسلم فیملی قوانین کے تحت شوہر کی دوسری شادی کی ہو۔ اس کیس نے اس حقیقت کو ثابت کیا کہ فیملی کورٹ ہی ان مقدمات کا جائزہ لینے کی مجاز عدالت ہے اور اس کے بغیر فیصلہ کرنے والی کوئی دوسری عدالت غیر مجاز ہوگی۔

2025 MLD 385

بغیر اجازت دوسری شادی کے مقدمہ کی سماعت کا اختیار صرف فیملی کورٹ کو ہے.

Must read judgement 


Muslim Family laws ordinance 1961.....S 6(5)(b) Family courts Act of 1964 S 20(3) .... Second marriage contracted by husband without permission of first wife ..... Appreciation of evidence..... Jurisdiction of the court...... Perusal of subsection 3 of the section 20 of the family courts act ,1964 , showed that only a family court could take cognizance of the offence on the Complaint of the Union council , arbitration council or an aggreived party and obviously the respondent (Ist wife) was the aggreived party.... However,on going through the judgement rendered by trial court ,it was straightway noted that in the head note it was written " In the court of Magistrate Sec 30 ,and even in the whole proceedings , including evidence and the interim order sheet ,there was no affixation of any stamp of family judge court..... Only the family Courts were given the exclusive jurisdiction to entertain the issue and adjudicate upon the matters specified in (Part 1 of the Schedule), so the conducting of the trial by judicial magistrate was certainly Coram non judice and a nullity.... Appeal against conviction was allowed.


For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.

































 




































Post a Comment

Previous Post Next Post