G-KZ4T1KYLW3 2020 MLD 1147: Family Court’s Duty to Decide Criminal Offences in Matrimonial Disputes

2020 MLD 1147: Family Court’s Duty to Decide Criminal Offences in Matrimonial Disputes

2020 MLD 1147: Family Court’s Duty to Decide Criminal Offences in Matrimonial Disputes.


ایک خاتون نے فیملی کورٹ میں خلع، نان و نفقہ اور بچوں کی تحویل کے دعوے دائر کیے۔ دورانِ سماعت، اس نے بیان دیا کہ اس کے شوہر نے نہ صرف اسے مارا پیٹا بلکہ نفسیاتی اذیت بھی دی، اور اس کے ثبوت عدالت میں پیش کیے گئے جیسے کہ میڈیکل رپورٹس، گواہان کے بیانات اور بعض اوقات پولیس رپورٹس۔

فیملی کورٹ کا دائرہ اختیار: سول اور فوجداری پہلو
یہ مقدمہ اس قانونی نکتے پر مبنی ہے کہ آیا فیملی کورٹ صرف خلع، نان و نفقہ اور بچوں کی تحویل جیسے سول معاملات تک محدود ہے یا وہ ازدواجی تنازعات میں سامنے آنے والے فوجداری جرائم پر بھی فیصلہ دینے کی پابند ہے۔

مقدمے کا پس منظر

ایک خاتون نے فیملی کورٹ میں خلع، نان و نفقہ اور بچوں کی تحویل کے دعوے دائر کیے۔ دورانِ سماعت اس نے الزام عائد کیا کہ شوہر نے اسے جسمانی تشدد، نفسیاتی اذیت، بدسلوکی، غیر قانونی حبس اور ہراسانی کا نشانہ بنایا۔ ان الزامات کے حق میں میڈیکل رپورٹس، گواہوں کے بیانات اور دیگر دستاویزی شواہد عدالت کے سامنے پیش کیے گئے۔

فیملی کورٹ کا طرزِ عمل

فیملی کورٹ نے خلع اور دیگر سول نوعیت کے دعوؤں پر تو فیصلہ صادر کر دیا، تاہم شوہر کی جانب سے کیے گئے مبینہ فوجداری جرائم، جو پینل کوڈ کی مختلف دفعات کے تحت آتے تھے، ان پر کوئی واضح فیصلہ یا کارروائی نہیں کی گئی۔

ہائی کورٹ میں چیلنج

متاثرہ خاتون نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ فیملی کورٹ نے شواہد کی موجودگی کے باوجود ان جرائم پر نہ تو کوئی فیصلہ دیا اور نہ ہی قانونی ذمہ داری پوری کی، جو انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔

بنیادی قانونی سوال

اہم سوال یہ تھا کہ اگر فیملی کورٹ کے سامنے ازدواجی تنازع کے دوران ایسے افعال ثابت ہو جائیں جو فیملی کورٹس ایکٹ کے شیڈول کے حصہ دوم میں درج فوجداری جرائم کے زمرے میں آتے ہوں، تو کیا فیملی کورٹ ان پر فیصلہ دینے کی پابند ہے یا نہیں؟

ہائی کورٹ کی تشریح اور قرار داد

ہائی کورٹ نے واضح طور پر قرار دیا کہ فیملی کورٹس کا اختیار محض سول معاملات تک محدود نہیں۔ اگر شواہد سے یہ ظاہر ہو کہ کسی فریق نے دوسرے فریق کو جسمانی یا نفسیاتی نقصان پہنچایا ہے اور وہ افعال شیڈول کے حصہ دوم میں درج جرائم کے تحت آتے ہیں، تو فیملی کورٹ پر لازم ہے کہ وہ ان جرائم پر بھی کارروائی کرے اور واضح فیصلہ دے۔

فوجداری جرائم پر فیصلہ نہ کرنا

عدالت نے قرار دیا کہ اگر فیملی کورٹ دستیاب شواہد کے باوجود ان فوجداری جرائم پر کوئی فیصلہ نہیں دیتی تو یہ طرزِ عمل عدالتی بددیانتی (Judicial Misconduct) کے زمرے میں آئے گا، جس پر ہائی کورٹ انتظامی سطح پر کارروائی کر سکتی ہے۔

فیملی کورٹ کے لیے رہنما اصول

ہائی کورٹ نے تفصیل سے رہنما اصول وضع کیے اور کہا کہ فیملی کورٹ شواہد ریکارڈ ہونے کے بعد ملزم فریق کے خلاف سزا سنا سکتی ہے، چاہے باقاعدہ فردِ جرم عائد کی گئی ہو یا نہیں، کیونکہ فیملی کورٹس ایکٹ میں ضابطۂ فوجداری کی بعض پابندیوں سے استثنا دیا گیا ہے۔

دفاع کا حق اور منصفانہ ٹرائل

عدالت نے اس امر پر بھی زور دیا کہ سزا دینے سے قبل ملزم کو شوکاز نوٹس، صفائی کا پورا موقع، اور دفعہ 342 ض ف کے تحت بیان کا حق دیا جائے تاکہ آئین کے آرٹیکل 10-A کے تقاضے پورے ہوں۔

ماہرین اور پولیس رپورٹ کا کردار

فیملی کورٹ کو اختیار حاصل ہے کہ وہ ماہر ڈاکٹر، ماہرِ نفسیات، یا متعلقہ پولیس سے رپورٹ طلب کرے اور ان تمام دستاویزات کو ٹرائل کا حصہ بنا کر فیصلہ صادر کرے۔

حتمی اصول (Ratio Decidendi)

ہائی کورٹ نے دوٹوک الفاظ میں قرار دیا کہ:
اگر فیملی کورٹ کے سامنے شیڈول کے حصہ دوم میں درج جرائم سے متعلق شواہد موجود ہوں اور اس کے باوجود عدالت کوئی واضح فیصلہ نہ دے، تو یہ اس عدالت کی سنگین قانونی کوتاہی اور عدالتی بددیانتی شمار ہو گی۔

حوالہ

2020 MLD 1147
(Must Read Judgment — Family Courts & Criminal Jurisdiction)
فیملی کورٹ نے خالص طور پر سول نوعیت کے دعوؤں پر تو فیصلہ دے دیا، لیکن شوہر کی جانب سے کیے گئے مبینہ جرائم جیسے:

مارپیٹ (سیکشن 337A, 337F)

غیر قانونی حبس (سیکشن 342، 343)

بدکلامی اور ہراسانی (سیکشن 509)

بدسلوکی اور دست درازی (سیکشن 352)


وغیرہ پر کوئی فیصلہ نہیں دیا۔

متاثرہ فریق (بیوی) نے پھر اس معاملے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا کہ 

فیملی کورٹ نے تمام شواہد کے باوجود ان جرائم پر کوئی کارروائی یا فیصلہ نہیں کیا۔


ہائی کورٹ نے اس نقطے پر تفصیلی غور کرتے ہوئے یہ فیصلہ جاری کیا کہ:

> "فیملی کورٹس نہ صرف خالصتاً سول نوعیت کے معاملات کو دیکھتی ہیں، بلکہ اگر مقدمے میں فوجداری نوعیت کے جرائم (جیسا کہ شیڈول کے حصہ دوم میں دیے گئے ہیں) سامنے آئیں تو عدالت کو ان پر بھی مکمل کارروائی کرنا ہو گی۔ اگر عدالت ایسا نہ کرے تو یہ عدالتی بددیانتی (judicial misconduct) تصور ہو گا۔

Must read judgement 

2020 - MLD - 1147
It is the duty of the family courts to consider the following guiding principles.
a) After recording of evidence by the Family Court, if it appears that any spouse who has suffered the psychological and physical injuries at the hands of other spouse covering under the offences referred in Part-II i.e. Sections 337A(i), 337F(i), 341, 342, 343, 344345, 346, 352 and 509 PPC, the learned Family Judge has to proceed against the perpetrator and award sentence in accordance with the law.
b) The Family Court while considering the offences referred in Part-II of the Schedule should give clear findings and verdict while dilating upon the evidence, even with or without framing of charge of that offence as the legislation has used the term “notwithstanding anything contained in the Code of Criminal Procedure, 1898”.
c) The Family Court can summon the evidence of expert psychiatrist, doctor, CMO or the relevant doctor who had treated the victim in such type of cases.
d) The Family Court, before pronouncement of the final judgment, if prima facie, seem the offences referred in Part-II of the Schedule, may issue a show cause to the perpetrator or the spouse accused of the offence(s) in order to justify the requirements of Article 10-A of the Constitution of the Islamic Republic of Pakistan, 1973 by giving full opportunity for his defence and may record his/her statement being an accused as required under Section 342 Cr.P.C. or 340(2) Cr.P.C., if so required.
e) The Family Court may also call the summary inquiry through the relevant police authorities or seek a report and treat all those reports, record and documents as part of trial and may also provide the copies of those documents to the person accused of the charge before final pronouncement of the judgment.
f) The Family Court, while deciding the issue of cruelty, may frame specific charge for the offence, consider the evidence on the touchstone and requirement of ingredients of offences referred in Part-II of the Schedule and pass a sentence simultaneously in the same judgment or may proceed separately in accordance with procedure provided under the Cr.P.C.
g) The Family Court who has not given any findings on Part-II of the Schedule (of the offences) in its judgment despite availability of evidence in the Family Court jurisdiction, shall be treated as misconduct on its part, which has to be dealt with separately by the High Court on its administrative side.


For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.


































 




































Post a Comment

Previous Post Next Post