Unregistered Power of Attorney and Property Transfer – Legal Status and Judicial Precedents
![]() |
| Unregistered Power of Attorney and Property Transfer – Legal Status and Judicial Precedents |
غیر رجسٹرڈ مختار نامہ اور جائیداد کی منتقلی – قانونی حیثیت اور عدالتی نظائر
جائیداد کی منتقلی ایک حساس قانونی معاملہ ہے، جس کے لیے مخصوص شرائط اور قوانین کا مکمل اطلاق ضروری ہوتا ہے۔ پاکستان میں، جائیداد کی خرید و فروخت، ھبہ، یا کسی اور طریقے سے منتقلی کے لیے رجسٹرڈ قانونی دستاویزات کی ضرورت ہوتی ہے۔ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے نے غیر رجسٹرڈ مختار نامہ کے حوالے سے ایک اہم قانونی اصول طے کیا ہے، جس کے مطابق غیر رجسٹرڈ مختار نامہ کی بنیاد پر جائیداد کی ملکیت منتقل نہیں کی جا سکتی۔
مختار نامہ کی قانونی حیثیت
مختار نامہ ایک قانونی دستاویز ہے، جس کے ذریعے کوئی شخص (مختار) کسی دوسرے فرد کو اپنی طرف سے قانونی کارروائی کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ تاہم، اگر یہ مختار نامہ رجسٹرڈ نہ ہو تو اس کی قانونی حیثیت مشکوک ہو سکتی ہے، خاص طور پر جب معاملہ جائیداد کی منتقلی کا ہو۔ پاکستان کے قوانین، جیسے کہ رجسٹری ایکٹ 1908، جائیداد سے متعلق مخصوص دستاویزات کی رجسٹریشن کو لازمی قرار دیتے ہیں۔
عدالتی فیصلہ اور اس کے اثرات
سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے میں یہ واضح کیا گیا کہ:
1. غیر رجسٹرڈ مختار نامہ جائیداد کی منتقلی کے لیے قابل قبول نہیں۔
2. اگر کوئی فرد غیر رجسٹرڈ مختار نامہ کی بنیاد پر جائیداد اپنے نام منتقل کروا لے، تو یہ عمل قانونی طور پر ناقابل قبول ہوگا۔
3. زبانی ھبہ کی بنیاد پر ملکیت کا دعویٰ کرنے کے لیے مضبوط شواہد پیش کرنا ضروری ہوگا، جیسے کہ تحریری دستاویزات اور گواہان۔
4. رجسٹریشن کے بغیر جائیداد کی منتقلی دھوکہ دہی اور بے ضابطگیوں کو جنم دے سکتی ہے، جسے قانون تسلیم نہیں کرتا۔
قانونی تقاضے اور احتیاطی تدابیر
جائیداد کی منتقلی کے لیے رجسٹرڈ مختار نامہ کا ہونا ضروری ہے۔
گواہان کی موجودگی اور تصدیق شدہ دستاویزات جائیداد کی قانونی حیثیت کو مضبوط بناتی ہیں۔
زبانی ھبہ کے بجائے تحریری اور رجسٹرڈ معاہدہ کروانا زیادہ محفوظ اور قانونی ہوتا ہے۔
نتیجہ
سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ جائیداد کی خرید و فروخت اور منتقلی کے قانونی پہلوؤں کو مزید واضح کرتا ہے۔ غیر رجسٹرڈ مختار نامہ کی بنیاد پر ملکیت کا دعویٰ نہ صرف کمزور ہوگا بلکہ اسے عدالت میں برقرار رکھنا بھی مشکل ہوگا۔ لہٰذا، جائیداد کے معاملات میں ہمیشہ قانونی تقاضے پورے کرنا ضروری ہے تاکہ کسی بھی قسم کے تنازعات اور قانونی پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔
Must read Judgement
Citation Name : 2024 SCMR 1683 SUPREME-COURT
Side Appellant : Syed PERVAIZ HUSSAIN
Side Opponent : ZIKR-UR-REHMAN
S. 54---Registration Act (XVI of 1908), S. 49---Qanun-e-Shahadat (10 of 1984), Art. 79---Specific Relief Act (I of 1877), Ss. 42 & 54---Un-registered power of attorney---Presumption of correctness---Document, proof of---Principle---Concurrent findings of facts by the Courts below---Predecessor-in-interest of respondents/plaintiffs claimed to be owner of suit plot in question and had denied execution of any power-of-attorney in favour of predecessor-in-interest of petitioners/ defendants---Judgment and decree passed by Trial Court in favour of respondents/plaintiffs were maintained by Lower Appellate Court as well as by High Court---Plea raised by petitioners/defendants was that power-of-attorney in question was duly notarized---Validity---There was no registered power-of-attorney, therefore, presumption of correctness could not be attached in terms of section 49 of Registration Act, 1908---In absence of any registered document, whose registration was compulsory, no immovable property could be Transfer red on the basis of purported unregistered general power-of-attorney---Predecessor-in-interest of petitioners/ defendants did not produce or exhibit power-of-attorney in question, in terms of Article 79 of Qanun-e-Shahadat, 1984, as neither alleged attorney/sub-attorney nor Notary Public and attesting witnesses were produced by predecessor-in-interest of petitioners/defendants---Basic document which was alleged to be a general power-of-attorney dated 19-02-1977 was not registered and was held to be a forged document by three Courts below through concurrent findings recorded to such effect---Burden shifted upon the beneficiary of such alleged power-of-attorney, which could not be discharged by predecessor-in-interest of petitioners/defendants---Petition for leave to appeal was dismissed and leave was refused.
Popular articles
