G-KZ4T1KYLW3 Enforcement of Contracts and Court Jurisdiction: A Landmark Supreme Court Decision

Enforcement of Contracts and Court Jurisdiction: A Landmark Supreme Court Decision

Enforcement of Contracts and Court Jurisdiction: A Landmark Supreme Court Decision.

Enforcement of Contracts and Court Jurisdiction: A Landmark Supreme Court Decision


معاہدے کی پاسداری اور عدالت کا دائرہ اختیار: سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ

سپریم کورٹ پاکستان کے حالیہ فیصلے "عبدل علی بنام ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج، گوجرہ (2024 SCMR 1862)" میں جائیداد کی خرید و فروخت کے معاہدے کی پاسداری سے متعلق ایک اہم قانونی اصول کو واضح کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ معاہدے کی شرائط کو فریقین کے درمیان طے شدہ بنیاد پر ہی نافذ کیا جائے گا اور عدالتیں اپنی صوابدید پر ان شرائط میں رد و بدل نہیں کر سکتیں۔

پسِ منظر

اس مقدمے میں خریدار عبدل علی نے جائیداد خریدنے کے لیے ایک معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت اسے ایک مقررہ تاریخ تک بقایا رقم ادا کرنی تھی۔ تاہم، وہ اس رقم کی بروقت ادائیگی کرنے میں ناکام رہا اور عدالت سے اضافی وقت دینے کی استدعا کی۔ نچلی عدالت نے یہ مہلت دے دی، مگر اس فیصلے کو بعد میں اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج کیا گیا۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ:

  1. عدالت کو معاہدے کی شرائط میں ترمیم یا توسیع کا اختیار نہیں – عدالتیں ایسا کوئی فیصلہ نہیں دے سکتیں جو معاہدے کی اصل شرائط سے متصادم ہو۔
  2. ادائیگی کی بروقت ادائیگی خریدار کی بنیادی ذمہ داری ہے – اگر فروخت کنندہ رقم قبول نہ کرے تو خریدار کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ ادائیگی کے لیے مکمل طور پر تیار تھا اور اس نے مطلوبہ رقم عدالت میں جمع کروانے کے لیے بھی اقدامات کیے۔
  3. معاہدے کی پاسداری لازمی ہے – اگر کسی معاہدے میں کوئی کٹ آف ڈیٹ (آخری تاریخ) دی گئی ہو، تو فریقین اس کی خلاف ورزی نہیں کر سکتے، اور عدالت بھی اس میں توسیع نہیں کر سکتی۔

نتائج اور قانونی اہمیت

یہ فیصلہ پاکستان کے معاہداتی قوانین میں ایک نظیر کی حیثیت رکھتا ہے اور اس امر کو یقینی بناتا ہے کہ عدالتیں کسی بھی معاہدے میں فریقین کی رضا مندی سے طے شدہ شرائط کو نظر انداز نہیں کر سکتیں۔ اس فیصلے سے کاروباری اور جائیداد کی خرید و فروخت میں شفافیت بڑھے گی، اور خریداروں کو اپنی مالیاتی ذمہ داریوں کو وقت پر پورا کرنے کا پابند بنایا جائے گا۔

یہ فیصلہ معاہداتی قوانین میں استحکام پیدا کرنے اور غیر ضروری عدالتی مداخلت کو محدود کرنے میں معاون ثابت ہوگا، جو قانونی نظام کی ساکھ کو مزید مضبوط کرے گا۔

Must read judgement 



Citation Name : 2024 SCMR 1862 SUPREME-COURT
Side Appellant : ABDIL ALI
Side Opponent : ADDITIONAL DISTRICT JUDGE, GOJRA
S. 12---Transfer of Property Act (IV of 1882), S. 54---Suit for specific performance of agreement to sell immoveable property---Cut-off date stipulated for payment of balance sale consideration---Extention of such date by Court---Scope---Balance sale consideration to be deposited in Court---Scope---Courts are not legally empowered to extend the time for depositing the balance sale consideration contrary to the terms of the agreement---And, if they do so they effectively rewrite the agreement between the parties---Only obligation of a buyer of a property is to make timely payment---However, if the seller does not receive payment the buyer must demonstrate that he was ready, able and willing to pay the same to the seller, failing which he must show that he had offered the payment and upon the seller's refusal to accept it had either prepared a pay order/demand of the said amount or had deposited the same in Court---One exception could be when the balance sale consideration constitutes a small portion of the total sale consideration.

For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.


































 




































Post a Comment

Previous Post Next Post