G-KZ4T1KYLW3 Prostitution | Legal Boundaries of Prostitution Cases: A Unique Judgment by Lahore High Court

Prostitution | Legal Boundaries of Prostitution Cases: A Unique Judgment by Lahore High Court

Prostitution | Legal Boundaries of Prostitution Cases: A Unique Judgment by Lahore High Court.

Legal Boundaries of Prostitution Cases: A Unique Judgment by Lahore High Court



جسم فروشی کے مقدمات اور تعزیراتِ پاکستان: لاہور ہائی کورٹ کا منفرد فیصلہ


❖ جسم فروشی کے مقدمات اور تعزیراتِ پاکستان

لاہور ہائی کورٹ کا منفرد اور رہنما فیصلہ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ────────────────────────────

لاہور ہائی کورٹ نے جسم فروشی سے متعلق مقدمات میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات کے غلط اور حد سے زیادہ اطلاق پر ایک نہایت اہم اور رہنما فیصلہ دیا ہے۔ عدالت نے واضح کر دیا کہ محض مرد و عورت کا قابلِ اعتراض حالت میں پایا جانا، خود بخود دفعات 371-A اور 371-B تعزیراتِ پاکستان کے اطلاق کے لیے کافی نہیں۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ────────────────────────────

❖ مقدمہ کا پس منظر

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ────────────────────────────

یہ مقدمہ خالدہ بی بی بنام ریاست

(2024 PCrLJ 1972 Lahore High Court)

سے متعلق تھا، جس میں پولیس نے ایک مکان پر چھاپہ مار کر خاتون درخواست گزار اور ایک مرد کو قابلِ اعتراض حالت میں گرفتار کیا۔

پولیس کے مطابق خاتون کے قبضے سے 1500 روپے برآمد ہوئے، جنہیں جسم فروشی کی رقم قرار دے کر اس پر دفعہ 371-A اور 371-B PPC کے تحت مقدمہ درج کر دیا گیا۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ────────────────────────────

❖ بنیادی قانونی سوال

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ────────────────────────────

لاہور ہائی کورٹ کے سامنے اصل سوال یہ تھا کہ:

کیا صرف قابلِ اعتراض حالت میں پائے جانے کی بنیاد پر عورت یا مرد کو انسانی تجارت یا جسم فروشی کے الزامات میں ملوث کیا جا سکتا ہے؟

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ────────────────────────────

❖ دفعات 371-A اور 371-B کا محدود دائرہ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ────────────────────────────

عدالت نے واضح طور پر قرار دیا کہ:

دفعات 371-A اور 371-B PPC صرف اسی صورت لاگو ہوں گی جب:

عورت کی خرید و فروخت ثابت ہو

عورت کو کرائے پر دیا جا رہا ہو

یا اسے زبردستی جسم فروشی پر مجبور کیا جا رہا ہو

محض یہ ثابت ہو جانا کہ مرد و عورت جنسی تعلق میں ملوث تھے، ان دفعات کے اطلاق کے لیے کافی نہیں۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ────────────────────────────

❖ زنا (Fornication) اور درست قانونی طریقہ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ────────────────────────────

عدالت نے نشاندہی کی کہ اگر مرد اور عورت باہمی رضامندی سے تعلق میں ملوث ہوں تو زیادہ سے زیادہ:

دفعہ 496-B PPC لاگو ہو سکتی ہے

لیکن اس کے لیے بھی:

دفعہ 203-C ضابطہ فوجداری کے تحت شکایت (Complaint) کا اندراج ضروری ہے

پولیس خود سے ایف آئی آر درج نہیں کر سکتی

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ────────────────────────────

❖ طبی اور فرانزک شواہد کی مکمل عدم موجودگی

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ────────────────────────────

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ:

کوئی میڈیکو لیگل رپورٹ موجود نہیں

کپڑوں پر داغ یا فرانزک مواد برآمد نہیں ہوا

حالیہ جنسی تعلق یا زبردستی کا کوئی ثبوت ریکارڈ پر نہیں

یہ کمی مقدمے کو مزید تحقیق (Further Inquiry) کے دائرے میں لے آتی ہے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ────────────────────────────

❖ پولیس اختیارات اور ان کی قانونی حدود

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ────────────────────────────

عدالت نے قرار دیا کہ:

پولیس کو مشتبہ مقامات پر بغیر وارنٹ داخلے کا اختیار حاصل ہے

لیکن اس اختیار کا مطلب یہ نہیں کہ:

ہر صورت میں دفعات 371-A/371-B لگا دی جائیں

اگر مکان کے قحبہ خانہ ہونے کا ثبوت نہ ہو تو:

پنجاب سپریشن آف پروسٹیٹیوشن آرڈیننس 1961

یا دفعہ 294 PPC

کے تحت کارروائی ہو سکتی ہے، نہ کہ انسانی تجارت کی دفعات کے تحت۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ────────────────────────────

❖ منفرد قانونی نکتہ: قحبہ خانہ چلانا بھی کافی نہیں

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ────────────────────────────

عدالت نے ایک نہایت اہم اور منفرد نکتہ طے کیا کہ:

اگر کوئی شخص محض قحبہ خانہ چلا رہا ہو

لیکن عورت کی خرید و فروخت یا کرائے پر دینے کا عنصر موجود نہ ہو

تو:

اس پر دفعہ 371-A یا 371-B PPC لاگو نہیں ہو گی

یہ فیصلہ پولیس کی جانب سے ان دفعات کے اندھا دھند استعمال پر ایک مضبوط قدغن ہے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ────────────────────────────

❖ ضمانت اور مزید تحقیق

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ────────────────────────────

عدالت نے قرار دیا کہ:

استغاثہ کے شواہد ناکافی ہیں

مقدمہ مزید تحقیق کا متقاضی ہے

ملزمان کا جرم سے تعلق بادی النظر میں ثابت نہیں

چنانچہ عدالت نے دفعہ 497(2) Cr.P.C کے تحت درخواست گزاروں کی ضمانت منظور کر لی۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ────────────────────────────

❖ فیصلہ کی قانونی اہمیت

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ────────────────────────────

یہ فیصلہ درج ذیل اصول واضح کرتا ہے:

ہر قابلِ اعتراض حالت جسم فروشی نہیں

انسانی تجارت کے الزامات کے لیے ٹھوس شواہد لازم ہیں

پولیس کو درست دفعہ کا انتخاب کرنا ہوگا

شہری آزادیوں کا تحفظ عدلیہ کی اولین ترجیح ہے

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ────────────────────────────

❖ حوالہ

Khalida Bibi v. State

2024 PCrLJ 1972

Lahore High Court


حالیہ دنوں میں لاہور ہائی کورٹ نے ایک ایسا فیصلہ دیا جو جسم فروشی سے متعلق مقدمات میں قانونی دفعات کے درست اطلاق کی وضاحت کرتا ہے۔ عدالت نے یہ قرار دیا کہ اگر کوئی عورت کسی مرد کے ساتھ کسی مقام پر قابلِ اعتراض حالت میں پائی جائے، تو محض اس بنیاد پر تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 371-A اور 371-B کا اطلاق نہیں کیا جا سکتا۔ یہ دفعات تبھی لاگو ہوں گی جب یہ ثابت ہو جائے کہ عورت کو فروخت، خرید یا کرائے پر دیا جا رہا تھا، یا اسے زبردستی جسم فروشی پر مجبور کیا جا رہا تھا۔

فیصلے کے اہم نکات

یہ مقدمہ ایک پولیس کارروائی کے بعد سامنے آیا، جس میں خاتون درخواست گزار کو ایک مکان میں ایک مرد کے ساتھ قابلِ اعتراض حالت میں پایا گیا اور پولیس نے اس پر دفعہ 371-A اور 371-B کے تحت مقدمہ درج کر دیا۔ تاہم، عدالت نے ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے کئی منفرد نکات بیان کیے:

  1. دفعات کا محدود اطلاق:

    اگر کوئی مرد اور عورت جسمانی تعلق میں ملوث ہوں، تو انہیں جسم فروشی سے متعلق دفعات 371-A یا 371-B کے تحت نہیں چارج کیا جا سکتا، جب تک کہ خرید و فروخت یا کرائے پر دینے کا ثبوت نہ ہو۔ اس صورت میں، دفعہ 496-B (زنا بالجبر کے علاوہ زنا) کے تحت کارروائی ممکن ہو سکتی ہے، لیکن اس کے لیے بھی 203-C، فوجداری قانون (Cr.P.C.) کے تحت شکایت درج ہونی چاہیے۔

  2. طبی اور فرانزک شواہد کی غیر موجودگی:

    کیس میں کوئی میڈیکل رپورٹ، کپڑوں پر داغ، یا کوئی اور فرانزک مواد دستیاب نہیں تھا جو حالیہ جسمانی تعلق یا زبردستی کیے جانے والے فعل کو ثابت کر سکے۔

  3. پولیس کی کارروائی اور قانونی حدود:

    پولیس کو بغیر وارنٹ مشکوک مقامات پر چھاپہ مارنے کا اختیار تو حاصل ہے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ درست دفعات کے تحت مقدمہ درج کرے۔ اس کیس میں پولیس نے مکان کے قحبہ خانہ ہونے کا بھی کوئی ثبوت پیش نہیں کیا، اور نہ ہی یہ ثابت کیا کہ خاتون جسم فروشی میں ملوث تھی۔

منفرد نکتہ: قحبہ خانے کا انتظام اور قانونی پہلو

عدالت نے ایک منفرد نکتہ یہ بیان کیا کہ اگر کوئی شخص محض قحبہ خانہ چلا رہا ہو اور عورتوں کی خرید و فروخت یا کرائے پر دینے کا عنصر شامل نہ ہو، تو اس پر دفعہ 371-A یا 371-B لاگو نہیں ہو گی۔ عدالت نے واضح کیا کہ ایسے معاملات میں دیگر دفعات، جیسے پنجاب سپریشن آف پروسٹیٹیوشن آرڈیننس 1961 یا دفعہ 294، تعزیراتِ پاکستان (فحش حرکات اور گانے بجانے کے الزامات) کے تحت کارروائی ممکن ہو سکتی ہے۔

نتیجہ

عدالت نے درخواست گزاروں کی ضمانت منظور کرتے ہوئے قرار دیا کہ مقدمہ مزید تحقیق کا متقاضی ہے، کیونکہ دستیاب شواہد ناکافی ہیں۔ اس فیصلے نے جسم فروشی کے الزامات میں قانونی دفعات کے درست اطلاق کو واضح کر دیا اور یہ اصول طے کیا کہ ہر قابلِ اعتراض حالت میں پایا جانا، انسانی تجارت یا جسم فروشی کے زمرے میں نہیں آتا۔ یہ فیصلہ مستقبل میں ایسے مقدمات کے لیے ایک نظیر (precedent) کے طور پر کام کر سکتا ہے۔

Must read Judgement 

Citation Name : 2024 PCrLJ 1972 LAHORE-HIGH-COURT-LAHORE
Side Appellant : Khalida Bibi
Side Opponent : State
S. 497---Penal Code (XLV of 1860), Ss. 37 1-A & 37 1-B---Selling and buying person for purposes of prostitution---Bail, grant of---Further inquiry---Petitioners were found in objectionable condition in a house when they were apprehended and a cash amount of Rs. 1500/- was recovered from female petitioner which she had allegedly received for prostitution---When a man and a woman were found busy in sexual intercourse in a brothel house, they could not be made subject of sections of P.P.C. added in the present case---Similarly, when a man was running a brothel, he would not be charged under S.37 1-A or 37 1-B, P.P.C, if he simply offered the services of a prostitute for sexual intercourse to a man, barring a situation when any person was actually found busy in a brothel house for sale, purchase or hiring etc. of a woman with the intent that she might be employed or used for the purpose of prostitution or illicit intercourse with any person or for any unlawful and immoral purpose, or knowing it to be likely that such person would at any time be employed or used for any such purpose---On receiving credible information Police could enter into places or resort of loose and disORDER ly characters without warrant and then depending upon the nature of offence they were authorized to initiate criminal action either through registration of FIR for an offence under Ss.37 1-A/37 1-B, P.P.C, or under the Punjab Suppression of Prostitution Ordinance, 1961, or through complaint under S.203-C, Cr.P.C., for fornication or investigation with the permission of Magistrate for offences under S.294, P.P.C---In the case in hand both the petitioners were reportedly found in objectionable condition in a house when the police raided upon them, therefore, they could not be charged for offences under Ss. 37 1-A/37 1-B, P.P.C, but for fornication under S.496-B, P.P.C if they were having sexual intercourse with each other and prosecution thereof would be initiated through filing a complaint under S.203-C of Cr.P.C.---No Medico-Legal Report was available which could support the act of recent intercourse, neither stained clothes nor any other forensic material was collected from the place of occurrence---Even no linked-material was made available to show that the female was a prostitute or the house was being used as brothel, so as to attract provisions of the Punjab Suppression of Prostitution Ordinance, 1961, against her---Moreover, it was also a missing fact as to whether the house was a place of loose or disORDER ly characters to justify entry of police without a warrant; therefore, criminal liability of both the petitioners would be determined by Trial Court, who were at present not found connected with the offences of FIR---Said facts, prima facie, called for further inquiry in the case of present petitioners falling within the ambit of subsection (2) of S.497, Cr.P.C---Bail petition was allowed, in circumstances.



For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.



































 




































Post a Comment

Previous Post Next Post