G-KZ4T1KYLW3 Jurisdiction of Anti-Terrorism Court: A Significant Decision by Lahore High Court

Jurisdiction of Anti-Terrorism Court: A Significant Decision by Lahore High Court

Jurisdiction of Anti-Terrorism Court: A Significant Decision by Lahore High Court.

Jurisdiction of Anti-Terrorism Court: A Significant Decision by Lahore High Court


انسداد دہشت گردی عدالت کا دائرہ اختیار: لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ


حالیہ فیصلے 2024 PCrLJ 1135 میں لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم قانونی نکتہ واضح کیا ہے کہ اگر اغوا برائے تاوان (S.365-A, PPC) میں تاوان کا کوئی مطالبہ شامل نہ ہو تو کیس انسداد دہشت گردی عدالت (ATC) کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔ اس فیصلے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جرائم کی نوعیت اور متعلقہ دفعات کے مطابق مقدمے کا صحیح فورم متعین کرنا ضروری ہے۔

پس منظر


ملزم منصب علی کے خلاف اغوا، زیادتی، ڈکیتی اور دہشت گردی کے الزامات کے تحت مقدمہ درج تھا، جو انسداد دہشت گردی عدالت میں زیر سماعت تھا۔ تاہم، ملزم نے عدالت سے درخواست کی کہ یہ مقدمہ عام فوجداری عدالت میں چلایا جائے کیونکہ اس میں تاوان کی کوئی شرط موجود نہیں تھی۔ انسداد دہشت گردی عدالت نے یہ درخواست مسترد کر دی، جس کے خلاف ہائی کورٹ میں نظرثانی درخواست دائر کی گئی۔

عدالت کا فیصلہ


لاہور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ اغوا برائے تاوان (S.365-A) کے تحت کارروائی کے لیے یہ ضروری ہے کہ کسی نہ کسی قسم کا مالی یا دیگر مطالبہ کیا جائے۔ اگر ایسا مطالبہ موجود نہ ہو تو یہ مقدمہ انسداد دہشت گردی عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔

عدالت نے مزید وضاحت کی کہ:


جنسی زیادتی کے مقدمات (S.365-B & S.376, PPC) سیشن کورٹ کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔

"کسی اور مطالبے" کی وسیع تشریح کرکے اسے جنسی زیادتی پر مجبور کرنے تک لے جانا درست قانونی نقطہ نظر نہیں۔

انسداد دہشت گردی عدالت کو حکم دیا گیا کہ وہ کیس کو سیشن جج کے پاس منتقل کرے۔


قانونی اہمیت


یہ فیصلہ نہ صرف مقدمات کی درجہ بندی اور عدالتی دائرہ اختیار کے تعین میں معاون ثابت ہوگا بلکہ اس سے ملزمان کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا گیا ہے۔ یہ ایک مثالی نظیر بن سکتا ہے جس میں انسداد دہشت گردی کے قوانین کی درست تشریح کی گئی ہے تاکہ ان کا غلط استعمال نہ ہو۔

نتیجہ


ہائی کورٹ نے انسداد دہشت گردی عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دے کر کیس سیشن کورٹ منتقل کرنے کا حکم دیا اور ملزم کی نظرثانی درخواست منظور کر لی۔ اس فیصلے سے عدالتوں کو مستقبل میں ایسے مقدمات کے حوالے سے رہنمائی ملے گی اور ملزمان کو اپنے مقدمات کے لیے صحیح فورم حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔



Must read judgement 

********  Citation Name  : 2024  PCrLJ  1135     LAHORE-HIGH-COURT-LAHORE
  ******  Side Appellant :** Mansab Ali
  ******  Side Opponent :** State
Ss. 365-A, 37 6(2), 37 6(3) & 392--- Anti-Terrorism Act (XXVII of 1997), Ss. 7 & 23--- Criminal Procedure Code (V of 1898), S. 439---Abduction of ransom, rape, dacoity and terrorism--- Anti-Terrorism Court, jurisdiction of---Scope---Accused was aggrieved of ORDER passed by Anti-Terrorism Court declining to transfer the case to Court of ordinary jurisdiction---Validity--- Demand of ransom for release of either property, cash or otherwise was the ingredients which must be present to attract provisions of S.365-A, P.P.C.---There was no demand of ransom of cash either from complainant or her relative---Irrational interpretation of word "any other demand" by extending it to 'compel a woman for a sexual intercourse' could not be adopted by High Court---Offences under Ss.365-B & 37 6, P.P.C., exclusively dealt with the offenses of rape, sexual intercourse with a woman against her will by putting her under fear of death etc.---High Court directed Anti-Terrorism Court to transfer the case to Court of Sessions Judge to try the case himself or entrust it to some other Additional Sessions Judge---Resultantly ORDER in question was set aside---Revision was allowed accordingly


For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.


































 




































Post a Comment

Previous Post Next Post