G-KZ4T1KYLW3 Oral Gift: Legal Requirements and Reasons for Losing a Case"

Oral Gift: Legal Requirements and Reasons for Losing a Case"

Oral Gift: Legal Requirements and Reasons for Losing a Case"

"Oral Gift: Legal Requirements and Reasons for Losing a Case"

زبانی ھبہ: قانونی تقاضے اور کیس ہارنے کی وجوہات

پاکستانی قانون میں جائیداد کی منتقلی کے کئی طریقے ہیں، جن میں سے ایک ھبہ (Gift) بھی ہے۔ ھبہ ایک ایسا معاہدہ ہوتا ہے جس کے ذریعے کوئی شخص اپنی ملکیت کسی دوسرے کو بلا معاوضہ منتقل کر سکتا ہے۔ ھبہ تحریری بھی ہو سکتا ہے اور زبانی بھی، لیکن جب بات زبانی ھبہ (Oral Gift) کی ہو، تو اسے عدالت میں ثابت کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اکثر لوگ زبانی ھبہ کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی وجہ سے وہ کیس ہار جاتے ہیں۔

زبانی ھبہ کے قانونی تقاضے

پاکستانی عدالتی نظائر کے مطابق، کسی بھی زبانی ھبہ کے جائز ہونے کے لیے درج ذیل تین شرائط کا مکمل ہونا ضروری ہے:

  1. پیشکش (Offer) – جائیداد کا مالک اپنی مرضی سے کسی دوسرے کو جائیداد ھبہ کرنے کا واضح اعلان کرے۔
  2. قبولیت (Acceptance) – جس کے حق میں ھبہ کیا جا رہا ہے، وہ اسے قبول کرے۔
  3. قبضہ (Delivery of Possession) – جائیداد کا مکمل قبضہ ھبہ کرنے والے سے وصول کنندہ کو منتقل کر دیا جائے۔

اگر ان میں سے کوئی بھی شرط پوری نہ ہو، تو زبانی ھبہ ناقص تصور ہوگا اور عدالت میں برقرار نہیں رہ سکتا۔

زبانی ھبہ کے کیس ہارنے کی عمومی وجوہات

اکثر عدالتوں میں زبانی ھبہ کے دعوے مسترد ہو جاتے ہیں، جن کی بنیادی وجوہات درج ذیل ہیں:

1. مخصوص تاریخ، وقت اور جگہ کا ذکر نہ ہونا

زبانی ھبہ کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ مدعی اکثر یہ نہیں بتاتا کہ یہ ھبہ کب، کہاں اور کس وقت ہوا۔ اگر یہ تفصیلات دعوے میں موجود نہ ہوں، تو عدالت اسے شک کی نظر سے دیکھتی ہے اور دعویٰ مسترد ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

2. گواہان کی غیر تسلی بخش شہادت

زبانی ھبہ ثابت کرنے کے لیے قابلِ اعتماد گواہوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر گواہان کے بیانات میں تضاد ہو، یا وہ وقوعہ کے وقت موجود نہ تھے، یا وہ کسی اور وجہ سے غیر معتبر سمجھے جائیں، تو کیس کمزور ہو جاتا ہے۔

3. تحریری شواہد کی کمی

اگرچہ زبانی ھبہ قانونی طور پر جائز ہے، لیکن اس کے حق میں کوئی تحریری ثبوت، رجسٹری، یا انتقالِ ملکیت کا اندراج نہ ہو، تو عدالت میں اسے ثابت کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ تحریری دستاویزات نہ ہونے پر عدالت زبانی شہادت کو کمزور سمجھ سکتی ہے۔

4. مدعا علیہان کا صاف انکار

اکثر زبانی ھبہ کے کیسز میں مدعا علیہان (جن پر ھبہ کرنے کا الزام ہوتا ہے) اس سے صاف انکار کر دیتے ہیں۔ جب ایک فریق زبانی ھبہ کا دعویٰ کرے اور دوسرا فریق اس کی تردید کرے، تو مدعی پر لازم ہوتا ہے کہ وہ مضبوط شواہد فراہم کرے۔ اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے، تو کیس خارج ہو سکتا ہے۔

5. عورتوں کے وراثتی حقوق کی خلاف ورزی

پاکستان میں کئی کیسز میں دیکھا گیا ہے کہ زبانی ھبہ کے نام پر خواتین کو ان کے وراثتی حقوق سے محروم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ عدالتیں ایسے معاملات میں بہت محتاط رہتی ہیں اور اگر محسوس کریں کہ عورتوں کو زبردستی جائیداد سے محروم کرنے کی کوشش ہو رہی ہے، تو وہ زبانی ھبہ کے دعوے کو رد کر سکتی ہیں۔

6. مدعی کا خود اپنا کیس ثابت نہ کر پانا

زبانی ھبہ کے کیسز میں سب سے اہم بات یہ ہوتی ہے کہ مدعی خود اپنے دلائل اور شواہد سے کیس ثابت کرے۔ اگر مدعی مبہم بیانات دے، شواہد میں تضاد ہو، یا خود اپنے بیان سے ہٹ جائے، تو اس کا کیس کمزور پڑ جاتا ہے اور عدالت اس کے خلاف فیصلہ دے سکتی ہے۔

ایک عدالتی مثال: 2017 MLD 689 (لاہور ہائی کورٹ)

لاہور ہائی کورٹ کے ایک فیصلے (2017 MLD 689) میں زبانی ھبہ کے ایک دعوے کو مسترد کر دیا گیا تھا۔ اس کیس میں مدعیہ نے دعویٰ کیا کہ اس کی بہنوں نے اپنے والد کی وراثتی جائیداد چہلم کے موقع پر زبانی طور پر ھبہ کر دی تھی۔ تاہم، عدالت نے درج ذیل وجوہات کی بنیاد پر اس کا کیس خارج کر دیا:

  • مدعیہ نے زبانی ھبہ کے وقوع پذیر ہونے کی کوئی مخصوص تاریخ، وقت، یا جگہ بیان نہیں کی۔
  • گواہان کی گواہی غیر تسلی بخش تھی اور مدعیہ خود بھی کیس ثابت نہ کر سکی۔
  • مدعا علیہات (مدعیہ کی بہنوں) نے زبانی ھبہ کے وقوع پذیر ہونے سے صاف انکار کر دیا۔
  • عدالت نے قرار دیا کہ عورتوں کو وراثت سے محروم کرنے کے لیے زبانی ھبہ کا سہارا نہیں لیا جا سکتا۔

نتیجہ

زبانی ھبہ اگرچہ قانونی طور پر جائز ہے، لیکن اسے ثابت کرنا ایک مشکل عمل ہے۔ اس کے لیے مضبوط شواہد، معتبر گواہان، اور ضروری قانونی تقاضوں کو پورا کرنا لازم ہے۔ اگر کوئی شخص زبانی ھبہ کا دعویٰ کرتا ہے لیکن درج بالا شرائط پوری نہیں کرتا، تو اس کے کیس کے خارج ہونے کا امکان بہت زیادہ ہوتا ہے۔ خاص طور پر جب یہ دعویٰ کسی کے وراثتی حقوق کو نقصان پہنچانے کے لیے کیا جا رہا ہو، تو عدالتیں ایسے دعووں کو مسترد کرنے میں ذرا بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتیں۔

لہٰذا، اگر کسی شخص نے واقعی کسی کو جائیداد ھبہ کی ہو، تو اسے تحریری دستاویزات اور قانونی طریقہ کار کو اپنانا چاہیے تاکہ بعد میں کوئی تنازع پیدا نہ ہو اور عدالت میں کیس مضبوط بنیادوں پر پیش کیا جا سکے۔

Must read Judgement

Citation Name : 2017 MLD 689 LAHORE-HIGH-COURT-LAHORE
Side Appellant : Mst. SARDARAN BIBI
Side Opponent : Mst. ALLAH RAKHI
Ss. 42 & 54---Oral Gift---Suit for declaration and permanent injunction on basis of oral gift---Claim of inheritance ---Plaintiffs filed suit on the ground that suit property was owned by the father (deceased) of the parties to the case---On chehlum of deceased, defendants-real sisters of plaintiff orally gifted the suit property in favour of plaintiff---When plaintiff intended to transfer property to his son defendants refused to honour their commitment---Suit of plaintiff was dismissed by the Trial Court as well as lower appellate court---Validity---Plaintiff had failed to fulfill the mandatory requirements of an "oral gift" as no specific date, time and place was mentioned in the plaint---Witnesses could not substantiate Claim of plaintiff even plaintiff himself failed to prove his case---Defendants flatly and categorically denied the factum of making oral gift in favor of plaintiff---Women who were weaker segment of society were not to be deprived of their right of inheritance in the name of custom or by emotionally exploiting them---Revision was dismissed accordingly.


For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.

Popular articles 



































 




































Post a Comment

Previous Post Next Post