Legal Status of Challenging Inheritance Mutation – A Judicial Precedent.
 |
"Legal Status of Challenging Inheritance Mutation – A Judicial Precedent"
|
وراثتی انتقال کو چیلنج کرنے کی قانونی حیثیت – ایک عدالتی نظیر
وراثت کے مقدمات میں ایک عام سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کسی متوفی کے وارث نے اپنی زندگی میں کسی وراثتی انتقال (Mutation of Inheritance) کو چیلنج نہیں کیا، تو کیا اس کے بعد آنے والے ورثا اس انتقال کو عدالت میں چیلنج کر سکتے ہیں؟ سپریم کورٹ آف پاکستان نے 2013 SCMR 299 میں اس سوال کا واضح جواب دیا اور ایک اہم اصول وضع کیا جو مستقبل کے مقدمات میں بھی راہنمائی فراہم کرتا ہے۔
کیس کا پس منظر
اس مقدمے میں محمد رستم (مدعی) اور ان کے ساتھی درخواست گزاروں نے مسماۃ مکھن جان کے نام پر 1927 میں ہونے والے وراثتی انتقال کو چیلنج کیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ وہ متوفیہ کے قانونی وارث ہیں اور انہیں جائیداد میں ان کا شرعی حق ملنا چاہیے۔
یہ مقدمہ کئی دہائیوں بعد دائر کیا گیا، جس کے دوران نہ صرف اصل وارث (مکھن جان) 1975 تک زندہ رہیں بلکہ انہوں نے اپنی زندگی میں کبھی بھی اس انتقال کو چیلنج نہیں کیا۔
عدالتی کارروائی اور فیصلے
1. ٹرائل کورٹ اور ایپلٹ کورٹ:
مدعیان کے حق میں فیصلہ سنایا اور ان کے وراثتی حق کو تسلیم کیا۔
2. ہائیکورٹ:
ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے کر مقدمہ خارج کر دیا۔
قرار دیا کہ چونکہ متوفیہ نے اپنی زندگی میں اس انتقال کو چیلنج نہیں کیا، اور اس خاموشی کی کوئی معقول وجہ بھی نہیں دی گئی، اس لیے بعد میں آنے والے وارث اسے چیلنج نہیں کر سکتے۔
مزید یہ کہ مدعیان نے یہ بھی دعویٰ نہیں کیا کہ وہ اس وراثتی انتقال سے ناواقف تھے۔
3. سپریم کورٹ:
ہائیکورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا۔
واضح کیا کہ اگر اصل وارث اپنی زندگی میں انتقال کو چیلنج نہ کرے اور کوئی معقول جواز نہ دیا جائے، تو بعد میں اس کے ورثا کا دعویٰ ناقابلِ سماعت ہوگا۔
مقدمہ خارج کرتے ہوئے درخواست گزاروں کی نظرثانی کی درخواست اور لیو ٹو اپیل (Leave to Appeal) مسترد کر دی گئی۔
قانونی اصول اور اس کا اطلاق
یہ فیصلہ ایک اہم قانونی اصول کی وضاحت کرتا ہے:
1. حدِ مدت (Limitation) کا اطلاق:
وراثتی معاملات میں اگر کوئی وارث طویل عرصے تک خاموش رہے، تو عدالت یہ فرض کر سکتی ہے کہ وہ انتقال کو تسلیم کر چکا ہے۔
قانون کا بنیادی اصول ہے کہ دعوے کو بروقت دائر کرنا ضروری ہوتا ہے، ورنہ وہ ناقابلِ سماعت ہو جاتا ہے۔
2. اصل وارث کی خاموشی:
اگر وہ شخص، جس کے نام پر وراثت منتقل کی گئی تھی، اپنی زندگی میں اسے چیلنج نہیں کرتا، تو اس کے بعد آنے والے ورثا کے لیے یہ ثابت کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ انتقال غیر قانونی تھا۔
اگر مدعی کا دعویٰ یہ ہو کہ انہیں انتقال کا علم نہیں تھا، تو انہیں اس کا کوئی مضبوط ثبوت پیش کرنا ہوگا۔
3. عدالتوں کا محتاط رویہ:
عدالتیں ایسے مقدمات میں انتہائی محتاط رہتی ہیں، تاکہ جھوٹے یا غیر ضروری دعووں کو روکا جا سکے۔
اگر کوئی مدعی بغیر کسی ٹھوس جواز کے کئی دہائیوں بعد دعویٰ کرتا ہے، تو عدالت اس پر غور کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔
نتیجہ
یہ مقدمہ وراثتی معاملات میں حدِ مدت، اصل وارث کی خاموشی اور دعوے کے جواز جیسے اہم قانونی نکات کی وضاحت کرتا ہے۔ اس فیصلے کی روشنی میں، اگر کوئی شخص وراثتی انتقال کو چیلنج کرنا چاہتا ہے، تو اسے چاہیے کہ وہ بروقت قانونی کارروائی کرے اور ایسا مضبوط جواز فراہم کرے جو عدالت کے لیے قابلِ قبول ہو۔ ورنہ، تاخیر کی بنیاد پر مقدمہ مسترد ہو سکتا ہے۔
قانونی مشورہ
اگر آپ وراثتی انتقال سے متعلق کسی تنازعے میں ہیں، تو جلد از جلد قانونی کارروائی کریں اور ۔
Must read judgement
Citation Name : 2013 SCMR 299 SUPREME-COURT
Side Appellant : MUHAMMAD RUSTAM
Side Opponent : Mst. MAKHAN JAN
S. 42---Suit for declaration---Mutation of inheritance ---Claimant's predecessor-in-interest not challenging such Mutation during his/her life---Effect---Petitioners' filed suit for declaration impugning Mutation of inheritance and claimed their share of inheritance as successors of the deceased lady in question---Suit was decreed by Trial Court, which was affirmed by the First Appellate Court---High Court reversed findings of courts below and dismissed the suit---Petitioners contended that they had a bona fide right to claim their share of inheritance , and that High Court non-suited them merely on the ground of limitation---Validity---Admittedly impugned Mutation of inheritance dated 9-7-1927 was never challenged by the deceased lady in question, who remained alive till the year 1975, and no reason whatsoever was reflected either in the plaint or in the evidence led to indicate as to why she did not challenge the said Mutation ---Petitioners never claimed that either they or their predecessor-in-interest were unaware of the impugned Mutation ---Judgment of High Court was unexceptionable in such circumstances---Petition was dismissed accordingly and leave was refused
For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp
Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.