Legal Protection for Attorneys: Professional Duties and Defamation Liability.
![]() |
| "Legal Protection for Attorneys: Professional Duties and Defamation Liability" |
وکیل کے پیشہ ورانہ فرائض اور ہتک عزت: ایک قانونی جائزہ
حالیہ عدالتی فیصلے PLJ 2025 Cr.C. 109 میں ہائی کورٹ نے ایک اہم اصول وضع کیا کہ اگر کوئی وکیل محض مؤکل کی ہدایت پر کوئی درخواست تیار کرتا ہے، تو وہ اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہوتا اور اس پر ہتک عزت کا فوجداری مقدمہ نہیں بنایا جا سکتا۔ اس فیصلے نے وکلاء کے پیشہ ورانہ کردار کو قانونی تحفظ فراہم کرنے میں ایک اہم نظیر قائم کی ہے۔
کیس کا پس منظر
مدعی نے ایک فوجداری شکایت دائر کی جس میں مؤقف اختیار کیا کہ مدعا علیہ نمبر 2 (وکیل) نے ایک سول مقدمے میں ایسا دعویٰ دائر کیا جس میں مدعی کے خلاف توہین آمیز اور ہتک آمیز الزامات شامل تھے۔ مدعی کا مؤقف تھا کہ چونکہ وکیل نے یہ دعویٰ دائر کیا، اس لیے وہ بھی دفعہ 500 اور 501 تعزیراتِ پاکستان کے تحت ہتک عزت کا مرتکب ہوا ہے۔
تاہم، مدعا علیہ (وکیل) نے مؤقف اختیار کیا کہ اس نے دعویٰ اپنے مؤکل کی ہدایت پر دائر کیا تھا اور وہ اس کے مواد کا ذاتی طور پر ذمہ دار نہیں تھا۔
عدالتی فیصلہ
ٹرائل کورٹ نے وکیل کے خلاف مقدمہ درج کرنے سے انکار کرتے ہوئے درج ذیل نکات بیان کیے:
- وکیل کا کردار صرف ایک قانونی مسودہ تیار کرنے کا تھا، نہ کہ وہ خود اس دعویٰ کا مدعی تھا۔
- کسی بھی دعویٰ یا درخواست کے مواد کی تصدیق مؤکل خود کرتا ہے، وکیل نہیں۔
- دفعہ 500 کے استثناء نمبر 9 کے مطابق، اگر کوئی شخص نیک نیتی سے کسی قانونی کارروائی میں حصہ لے رہا ہو، تو اسے ہتک عزت کے قوانین سے استثنیٰ حاصل ہوتا ہے۔
ہائی کورٹ نے بھی ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا اور قرار دیا کہ یہ قانونی، درست اور دائرہ اختیار کے مطابق تھا۔
قانونی نظائر اور اثرات
یہ فیصلہ وکلاء کے لیے ایک اہم قانونی نظیر ثابت ہوگا، کیونکہ یہ ان کے پیشہ ورانہ فرائض کی وضاحت کرتا ہے اور ان پر غیر ضروری فوجداری مقدمات کے اندراج کو روکنے میں مدد دے گا۔
اس فیصلے کے ممکنہ اثرات:
✅ وکلاء کو قانونی تحفظ: وکیل مؤکل کی ہدایات پر کام کرتے ہیں، اس لیے ان کے خلاف براہ راست مقدمہ قائم نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ ان کا ذاتی کردار ثابت نہ ہو۔
✅ مؤکل کی ذمہ داری: کوئی بھی شخص جو عدالتی کارروائی میں کسی فریق کے خلاف الزامات عائد کرتا ہے، وہ خود ان الزامات کا ذمہ دار ہوتا ہے، نہ کہ اس کا وکیل۔
✅ نیک نیتی کا اصول: عدالتوں نے تسلیم کیا کہ وکیل کو پیشہ ورانہ خدمات کی انجام دہی پر مجرم نہیں ٹھہرایا جا سکتا جب تک کہ بدنیتی ثابت نہ ہو۔
نتیجہ
یہ فیصلہ وکلاء کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے جو ان کے پیشہ ورانہ کردار اور عدالتی کارروائیوں میں ان کے محدود دائرہ کار کی وضاحت کرتا ہے۔ عدالت نے واضح کر دیا کہ اگر کوئی وکیل مؤکل کی ہدایت پر کوئی قانونی مسودہ تیار کرتا ہے، تو وہ اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہوتا اور اس کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ نہیں بنایا جا سکتا۔
یہ قانونی اصول وکلاء کو تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ عدالتی نظام میں بلا جواز مقدمات کے اندراج کی حوصلہ شکنی کا سبب بھی بنے گا۔
Must read Judgement
PLJ 2025 Cr.C. 109
Ss. 500, 501 & 34--Criminal revision--Private complaint--Respondent filed suit for a declaration on behalf of respondent--Respondent was a practicing advocate, and during his professional activities, he drafted a plaint on instructions of his client--Any pleading that a counsel draft is purely based on client’s instructions--His client verifies truth of contents of pleading--The concerned advocate merely signed at bottom of pleading to identify client--Respondent No. 2 was not plaintiff of suit for declaration, and he had acted purely based on instructions given to him by his client--Respondent could not be trialed when a prima facie case was not made out to prosecute him--The ASJ, had rightly concluded that respondent had acted merely as counsel of Respondent No. 3--He could not be held responsible for any derogatory allegations levelled in plaint of Respondent No. 3--There was no malice, and respondent had acted in good faith and would be protected by Exception 9 to Section 500 of, P.P.C.--Trial Judge correctly did not summon Respondent No. 2 as accused to face trial along with his other co-accused--Petitioner did not point out any reason, much less compelling, to interfere in impugned order--Trial judge had recorded cogent grounds--Such order, containing valid reasons, could not be interfered with by High Court in exercise of limited revisional jurisdiction under Sections 435, 439, Cr.P.C., unless and until same was illegal, perverse, and without jurisdiction.
Crl. Rev. No. 16003 of 2024
MUHAMMAD MUSHARAF HASSAN versus STATE, etc.--
