Only daughters legal heirs Inheritance Rights of Daughters in Islamic Law.
![]() |
| Inheritance Law.hts of Daughters in Islamic Law |
وراثت میں صرف لڑکیوں کا حصہ: اسلامی قانون کی روشنی میں
اسلامی شریعت کے مطابق، وراثت میں مرد و عورت کے حصے مقرر ہیں، اور اگر کسی مرنے والے شخص (مورث) کی اولاد میں صرف لڑکیاں ہوں، تو ان کا حق واضح طور پر قرآن میں بیان کیا گیا ہے۔
1. اگر صرف ایک بیٹی ہو
اگر مرحوم کی صرف ایک بیٹی ہو، اور اس کا کوئی بھائی یا دوسرا وارث (جیسے بیٹا) نہ ہو، تو وہ کل جائیداد کا نصف (½) حصہ حاصل کرے گی۔ یہ حکم سورہ النساء، آیت 11 میں دیا گیا ہے:
"اور اگر صرف ایک لڑکی ہو تو اس کے لیے نصف (ترکہ) ہے۔"
2. اگر دو یا دو سے زیادہ بیٹیاں ہوں
اگر مرحوم کی دو یا دو سے زیادہ بیٹیاں ہوں اور ان کا کوئی بھائی نہ ہو، تو وہ سب مل کر جائیداد کے دو تہائی (⅔) حصے کی حقدار ہوں گی، جیسا کہ قرآن میں ہے:
"اور اگر وہ (بیٹیاں) دو یا دو سے زیادہ ہوں تو ان کے لیے ترکہ کا دو تہائی (حصہ) ہے۔" (سورہ النساء، آیت 11)
3. باقی 1/3 حصہ کس کو ملے گا؟
باقی بچا ہوا ایک تہائی (⅓) حصہ دوسرے شرعی وارثین میں تقسیم ہوگا، جیسے:
- مرحوم کے والدین (اگر زندہ ہوں)
- بھائی، بہنیں
- بیوی (اگر مرحوم مرد تھا) یا شوہر (اگر مرحومہ عورت تھی)
اگر کوئی قریبی مرد وارث (عصبات) موجود نہ ہو، تو ذوالارحام (دور کے رشتہ دار) یا بیت المال اس کا حق دار ہوگا۔
مثال کے طور پر تقسیم
- اگر کسی شخص کا انتقال ہو اور اس کی صرف ایک بیٹی ہو، تو اسے ½ (نصف) جائیداد ملے گی، اور باقی قریبی وارثوں میں تقسیم ہوگی۔
- اگر اس کی دو یا زیادہ بیٹیاں ہوں، تو وہ ⅔ (دو تہائی) حصہ لے لیں گی، اور باقی دیگر وارثوں میں تقسیم ہوگا۔
نتیجہ
اسلامی قانون کے مطابق، لڑکیوں کو وراثت میں مکمل تحفظ دیا گیا ہے۔ اگرچہ بیٹوں کا حصہ زیادہ ہوتا ہے، لیکن لڑکیوں کے لیے بھی مناسب حصہ مقرر ہے، تاکہ ان کے حقوق محفوظ رہیں۔
