Digital Evidence and Call Data Record (CDR): High Court Ruling and Legal Requirements

Digital Evidence and Call Data Record (CDR): High Court Ruling and Legal Requirements

Digital Evidence and Call Data Record (CDR): High Court Ruling and Legal Requirements


ڈیجیٹل شہادت اور کال ڈیٹا ریکارڈ: ہائی کورٹ کا فیصلہ اور قانونی تقاضے

پاکستانی عدلیہ میں ڈیجیٹل شہادت کی قبولیت ایک اہم قانونی موضوع رہا ہے۔ خاص طور پر کال ڈیٹا ریکارڈ

 (CDR)

جیسے شواہد کے ادخال کے لیے سخت قانونی تقاضے موجود ہیں۔ حالیہ عدالتی فیصلے 

(Usama Ali Vs The State, Jail Appeal No. 77969/19, 2025 YLR 427) 

میں لاہور ہائی کورٹ نے

  CDR

 کی شہادتی حیثیت کے متعلق ایک اہم اصول طے کیا ہے۔

عدالتی فیصلہ: 

CDR 

کی ناقابل قبولیت

عدالت نے قرار دیا کہ اگر 

CDR

 براہ راست متعلقہ موبائل کمپنی سے حاصل نہ ہو اور کمپنی کا مجاز نمائندہ اس کی تصدیق کے لیے عدالت میں پیش نہ ہو، تو ایسی شہادت ناقابل ادخال ہوگی۔ فیصلے میں واضح کیا گیا کہ DPO 

دفتر کی 

IT

 برانچ سے ای میل شدہ

 CDR

قانونی طور پر قابل قبول نہیں کیونکہ:

  • یہ اصل ماخذ (موبائل کمپنی) سے حاصل شدہ نہیں
  • موبائل کمپنی کا کوئی مستند نمائندہ عدالت میں پیش نہیں ہوا
  • "بہترین شہادت کے اصول" کے مطابق، صرف وہی شہادت معتبر ہوتی ہے جو براہ راست اور مستند ذریعہ سے حاصل کی گئی ہو

قانونی پہلو: قانونِ شہادت 1984

پاکستان میں ڈیجیٹل شہادت کو قبول کرنے کے لیے قانونِ شہادت آرڈر 1984 کے مختلف دفعات اہم کردار ادا کرتی ہیں:

  1. آرٹیکل 78: کسی بھی دستاویزی شہادت کو عدالت میں قابل قبول بنانے کے لیے اس کی تصدیق اور مستند ہونے کا ثبوت ضروری ہے۔
  2. آرٹیکل 164: الیکٹرانک شواہد کے ادخال کی اجازت دیتا ہے، لیکن یہ تبھی ممکن ہے جب شہادت اصل اور معتبر ماخذ سے حاصل کی گئی ہو۔

اثرات اور نتائج

یہ فیصلہ مستقبل میں کئی مقدمات پر اثر انداز ہوگا اور پولیس و دیگر اداروں کے لیے ایک واضح قانونی نظیر قائم کرے گا۔

  • سی ڈی آر کے ادخال کے لیے براہ راست موبائل کمپنی سے مستند طریقے سے ڈیٹا حاصل کرنا لازم ہوگا۔
  • پولیس یا دیگر غیر متعلقہ اداروں سے ای میل شدہ یا غیر مستند سی ڈی آر شہادت کے طور پر قبول نہیں ہوگا۔
  • اس نظیر کی بنیاد پر عدالتیں صرف وہی ڈیجیٹل شہادت قبول کریں گی جو مستند اور اصل ذرائع سے تصدیق شدہ ہو۔

نتیجہ

ڈیجیٹل شہادت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے پیش نظر، یہ فیصلہ پاکستانی عدالتی نظام میں ثبوت کی قبولیت کے اصولوں کو مزید سخت اور واضح کرتا ہے۔ اس سے جعلی یا غیر مستند ڈیجیٹل شواہد کی روک تھام ممکن ہوگی اور صرف قابل اعتماد اور مستند شہادت ہی عدالت میں قابل قبول سمجھی جائے گی۔

Must read Judgement



2025 YLR 427

CDR was obtained from IT office, DPO through email. Neither CDR was obtained from concerned mobile company nor any representative of such company (naeem)appeared in the dock. Thus, such CDR was not admissible in evidence.

Jail Appeal.77969/19
Usama Ali Vs The State etc.
Mr. Justice Muhammad Amjad Rafiq

اس مقدمے (Usama Ali Vs The State, Jail Appeal No. 77969/19, 2025 YLR


For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.

Popular articles 


































 




































Post a Comment

Previous Post Next Post