Pre-emption notice |The right of intercession The Supreme Court rejected a "request for evidence" notice in a prescribed format . 2024 S C M R 430.
مقدمہ میں درخواست گزار، امان اللہ، نے محمد شریف خان کے خلاف حقِ پیشی (پری ایمشن) کے تحت زمین کی ملکیت کا دعویٰ کیا تھا۔
طلب شہاد کا نوٹس
عدالت نے بتایا کہ خیبر پختونخواہ پری ایمشن ایکٹ 1987 کے تحت پیشی کے حق کا دعویٰ کرنے کے لیے "تلبِ اشہاد" کا نوٹس ضروری ہوتا ہے،
نوٹس پیش کیا وہ ایک چھپی ہوئی نمونہ فارمیٹ پر تھا
لیکن اس کیس میں درخواست گزار نے جو نوٹس پیش کیا وہ ایک چھپی ہوئی نمونہ فارمیٹ پر تھا جس میں صرف خالی خانوں کو بھر کر دکھایا گیا تھا۔ عدالت نے اسے قانونی طور پر غلط قرار دیا کیونکہ ایسا نوٹس مقدمہ کے حقائق اور حالات کے مطابق نہیں تھا اور نہ ہی یہ نوٹس، صحیح طریقے سے تیاری کرکے، درخواست گزار کی نیت اور پیشی کے حق کو واضح کرتا تھا۔
قانونی خرابی کو نظر انداز کیا جائے
عدالت نے اس بات کو بھی مسترد کیا کہ درخواست گزار کی طرف سے اس قانونی خرابی کو نظر انداز کیا جائے کیونکہ وہ ان پڑھ تھا۔ اس کے مطابق، درخواست گزار کو اپنے حقوق کا علم تھا اور اسے صحیح طریقہ اختیار کرنے کے لیے مناسب قانونی مشورہ لینا چاہیے تھا۔
نتیجہ
اس فیصلے کے نتیجے میں درخواست گزار کی اپیل مسترد کر دی گئی۔
Must read judgement
2024 S C M R 430
پس منظر کیس
یہ کیس Amanullah کی طرف سے دائر Civil Appeal No. 179 of 2016 ہے، جس میں پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی گئی تھی۔ مقدمہ Khyber Pakhtunkhwa Pre-emption Act, 1987 کے تحت حقِ اشہاد (Talb-i-ishhad) کے ذریعے قبضہ حاصل کرنے کے لیے دائر کیا گیا تھا۔
نوٹس آف طلبِ اشہاد (Talb-i-ishhad)
ا۔ نوٹس پرنٹڈ فارمیٹ / پرو فارما پر بھرا گیا تھا، جس میں خالی کالمز صرف پٹیشن رائٹر نے بھر دیے تھے۔
ب۔ ایسا تیار شدہ نوٹس سیکشن 13(3) Khyber Pakhtunkhwa Pre-emption Act کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا۔
ج۔ عدالت نے واضح کیا کہ ہر نوٹس مخصوص کیس کے حقائق اور حالات کے مطابق خود تیار کیا جانا چاہیے، نہ کہ اسٹیرئوٹائپ یا عام فارمیٹ استعمال کیا جائے۔
اہم وجوہات برائے عدم صداقت نوٹس
ا۔ پرنٹڈ نوٹس میں زمین، مکان اور دکان کے مختلف کالمز تھے، جنہیں صرف خالی جگہیں بھرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔
ب۔ اس فارمیٹ سے pre-emptor کے حقوق کی وضاحت اور ارادہ ظاہر نہیں ہوتا۔
ج۔ عدالت نے کہا کہ تیار شدہ ٹیمپلیٹ نوٹس قبول نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہ قانونی مقصد کو پورا نہیں کرتا۔
ذمہ داری اور قانونی مشورہ
ا۔ اپیلنٹ (pre-emptor) نوٹس کے صحیح طریقے سے دائر کرنے کے لیے ذمہ دار تھا، چاہے وہ ناخواندہ بھی ہو۔
ب۔ اگر اپیلنٹ کو شک تھا، تو وہ قانونی مشورہ یا مدد حاصل کر سکتا تھا تاکہ نوٹس قانونی تقاضوں کے مطابق تیار ہو۔
ج۔ عدالت نے کہا کہ اپیلنٹ اور پٹیشن رائٹر دونوں اس غلطی کے ذمہ دار ہیں۔
فیصلہ
اپیل مسترد کر دی گئی۔
عدالت نے واضح کیا کہ نوٹس ہر کیس کے مطابق مخصوص اور ذاتی نوعیت کا ہونا چاہیے، نہ کہ کوئی عام ٹیمپلیٹ استعمال کیا جائے۔
سبق آموز نکات
ا۔ Talb-i-ishhad نوٹس پرنٹڈ یا اسٹیرئوٹائپ فارمیٹ پر نہیں ہو سکتا۔
ب۔ ہر نوٹس کیس کی حقیقت اور تفصیلات کے مطابق ذاتی نوعیت کا ہونا چاہیے۔
ج۔ اپیلنٹ کو اپنے قانونی حقوق اور نوٹس کی تیاری کے بارے میں آگاہی ہونی چاہیے، اور قانونی مشورہ حاصل کرنا ضروری ہے۔
Tags
pre-emption
