Writ rejected against board of revenue.
درخواست گزاروں نے ضروری فریقین، خاص طور پر صوبائی حکومت اور ریونیو افسران، کو شامل نہیں کیا، جو کہ اہم تھا۔متنازعہ حکم ریمنڈ آرڈر ہے، جو آئینی دائرہ اختیار کے تحت عدالت کے جائزے کے لیے نہیں ہے۔کیس میں حقائق کا تنازعہ موجود تھا، جو عام طور پر آئینی جائزے کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔
2024 M L D 282
حقائق:
درخواست گزار سید رحیم نے ہائی کورٹ میں آئینی دائرہ اختیار کے تحت ایک حکم کے خلاف درخواست دی، جس میں بورڈ آف ریونیو کے رکن نے جائیداد کی تقسیم کے لئے ریونیو آفیسرز کے فیصلوں کو کالعدم قرار دیا۔
قانونی مسائل:
1. آئینی دائرہ اختیار: کیا ہائی کورٹ کے پاس بورڈ آف ریونیو کے حکم کا جائزہ لینے کا اختیار ہے؟
2. شامل فریقین: صوبائی حکومت اور متعلقہ ریونیو افسران کی عدم موجودگی۔
3. حکم کی نوعیت: کیا یہ حکم ریمنڈ آرڈر ہے؟
فیصلہ:
ہائی کورٹ نے درخواست مسترد کر دی، یہ کہتے ہوئے کہ:
درخواست گزاروں نے ضروری فریقین، خاص طور پر صوبائی حکومت اور ریونیو افسران، کو شامل نہیں کیا، جو کہ اہم تھا۔
متنازعہ حکم ریمنڈ آرڈر ہے، جو آئینی دائرہ اختیار کے تحت عدالت کے جائزے کے لیے نہیں ہے۔
کیس میں حقائق کا تنازعہ موجود تھا، جو عام طور پر آئینی جائزے کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔
نتیجہ:
درخواست کو مسترد کر دیا گیا، اس بنیاد پر کہ ضروری فریقین کی عدم موجودگی اور حکم کی نوعیت آئینی جائزے کے قابل نہیں تھی۔
کیس سید رحیم بمقابلہ محمد کریم اور دیگر (2024 MLD 282) میں پشاور ہائی کورٹ (مینگورا بنچ) نے ایک وِرٹ درخواست مسترد کر دی جو کہ درخواست گزار نے بورڈ آف ریونیو کے رکن کے حکم کے خلاف دائر کی تھی، جس میں مشترکہ جائیداد کی تقسیم کے بارے میں احکامات واپس کر دیے گئے تھے۔
عدالت نے درج ذیل دو اہم وجوہات کی بنا پر درخواست کو مسترد کر دیا:
1. ضروری فریقین کی عدم شمولیت:
درخواست گزار نے صوبائی حکومت، ریونیو کے عہدیداروں، اور ان رکن کو فریق نہیں بنایا جس کا حکم چیلنج کیا جا رہا تھا۔
2. حقیقتی تنازعہ اور عدالتی جائزہ:
عدالت نے کہا کہ زیر بحث حکم ایک ریمانڈ آرڈر تھا، جو کہ آئینی دائرہ اختیار کے تحت عدالتی جائزے کے لیے کھلا نہیں ہے۔ مزید یہ کہ کیس میں حقیقتی تنازعات شامل تھے، جو آئینی فیصلے کے لیے موزوں نہیں تھے۔
عدالت نے مختلف سابقہ فیصلوں کا حوالہ بھی دیا جن میں اسی نوعیت کے نکات پر بات کی گئی تھی۔
