Violation of stay order The Islamabad High Court held that the stay order had expired on 27.07.2021, after which there was no effective order.
![]() |
| Violation of stay order The Islamabad High Court held that the stay order had expired on 27.07.2021. 2024 M L D 316 |
اگر عبوری یا عارضی حکمِ امتناعی اپنی مدت پوری کر چکا ہو تو اس کی مبینہ خلاف ورزی پر توہینِ عدالت یا Order XXXIX Rule 2-B کے تحت کارروائی نہیں ہو سکتی۔
تعارفِ مقدمہ
اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے میں ایک نہایت اہم قانونی اصول واضح کیا گیا ہے کہ اگر عبوری یا عارضی حکمِ امتناعی اپنی مدت پوری کر چکا ہو تو اس کی مبینہ خلاف ورزی پر توہینِ عدالت یا Order XXXIX Rule 2-B کے تحت کارروائی نہیں ہو سکتی۔ یہ فیصلہ سول مقدمات میں اسٹی آرڈر (Stay Order) کی مدت، حیثیت اور نفاذ سے متعلق ایک مضبوط نظیر کی حیثیت رکھتا ہے۔
مقدمہ کے فریقین اور نوعیتِ دعویٰ
اس مقدمے میں درخواست گزار آفتاب احمد خان و دیگر جبکہ فریقِ مخالف دلاور خان و دیگر تھے۔ اصل مقدمہ ڈیکلریشن، قبضہ، منافعِ ماضی (Mesne Profits) اور لازمی و مستقل حکمِ امتناعی سے متعلق تھا، جو اسپیسفک ریلیف ایکٹ 1877 کی دفعات 42، 8 اور 54 کے تحت دائر کیا گیا تھا۔
عارضی حکمِ امتناعی اور اس کی نوعیت
ٹرائل کورٹ نے 05.12.2019 کو ایک عبوری حکم جاری کیا، جس میں فریقِ مخالف کو متنازعہ جائیداد کو منتقل (Alienate) کرنے سے روک دیا گیا اور اس حکم میں اسٹیٹس کو (Status Quo) کی وضاحت خود اسی عبوری حکم میں کر دی گئی تھی۔
حکمِ امتناعی کی توثیق اور مدت
بعد ازاں 28.01.2021 کو یہ عبوری حکم Order XXXIX Rule 2-B سی پی سی کے تحت صرف چھ ماہ کے لیے توثیق کر دیا گیا۔ قانون کے مطابق ایسے احکامات کی مدت چھ ماہ سے زیادہ نہیں ہو سکتی جب تک عدالت کی جانب سے باقاعدہ توسیع نہ دی جائے۔
مبینہ خلاف ورزی اور درخواست گزار کا مؤقف
درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ فریقِ مخالف نے حکمِ امتناعی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے متنازعہ جائیداد پر غیر قانونی تعمیرات کیں، جس بنیاد پر Order XXXIX Rule 2(3) سی پی سی کے تحت کارروائی کی درخواست دی گئی۔
فریقِ مخالف کا جواب اور عدالتی مشاہدہ
فریقِ مخالف نمبر 1 نے حلفیہ جواب میں واضح مؤقف اختیار کیا کہ جائیداد پر کوئی نئی تعمیر نہیں کی گئی بلکہ صرف مرمتی کام (Repair Work) کیا گیا ہے۔ اس مؤقف کو درخواست گزاروں کی جانب سے کسی حلفیہ جواب (Affidavit-in-Rejoinder) کے ذریعے رد نہیں کیا گیا، جس کی بنا پر عدالت نے اسے غیر متنازعہ حقیقت تسلیم کیا۔
اسٹیٹس کو کی خلاف ورزی کا عدم ثبوت
عدالت نے واضح کیا کہ اسٹیٹس کو کا مطلب اس عبوری حکم میں صرف جائیداد کی منتقلی سے روکنا تھا۔ چونکہ درخواست گزاروں نے منتقلی (Alienation) کا کوئی الزام عائد نہیں کیا، اس لیے اس بنیاد پر خلاف ورزی ثابت نہیں ہو سکی۔
حکمِ امتناعی کی مدت ختم ہو چکی تھی
اسلام آباد ہائی کورٹ نے یہ نہایت اہم نکتہ واضح کیا کہ 28.01.2021 کو توثیق شدہ حکمِ امتناعی کی مدت 27.07.2021 کو ختم ہو چکی تھی۔ درخواست گزار یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ اس حکم میں کسی قسم کی توسیع دی گئی ہو۔ لہٰذا مبینہ توہین کے وقت کوئی حکمِ امتناعی نافذ ہی نہیں تھا۔
توہینِ عدالت کے لیے لازمی شرائط
عدالت نے قرار دیا کہ توہینِ عدالت یا Order XXXIX Rule 2-B سی پی سی کے تحت کارروائی کے لیے یہ ثابت کرنا ضروری ہے کہ:
حکمِ امتناعی موجود ہو
اس حکم کی واضح خلاف ورزی کی گئی ہو
جب ان میں سے کوئی شرط بھی پوری نہ ہو تو کارروائی ممکن نہیں۔
ٹرائل کورٹ اور اپیلیٹ کورٹ کے فیصلوں کی توثیق
ٹرائل کورٹ کی جانب سے Order XXXIX Rule 2(3) سی پی سی کی درخواست مسترد کی گئی تھی، جسے اپیلیٹ کورٹ نے بھی برقرار رکھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان فیصلوں کو قانون کے عین مطابق قرار دیا۔
حتمی فیصلہ
اسلام آباد ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ نہ تو مبینہ توہین کے وقت کوئی حکمِ امتناعی موجود تھا اور نہ ہی کسی خلاف ورزی کا ثبوت فراہم کیا گیا۔ چنانچہ رِٹ پٹیشن مسترد کر دی گئی۔
قانونی اہمیت
یہ فیصلہ اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عارضی حکمِ امتناعی ہمیشہ محدود مدت کے لیے ہوتا ہے اور اس کی میعاد ختم ہونے کے بعد نہ اس پر انحصار کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کی بنیاد پر توہینِ عدالت کی کارروائی ممکن ہے۔ یہ فیصلہ سول مقدمات میں وکلا اور فریقین کے لیے نہایت اہم رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
کیس کا خلاصہ: 2024 M L D 316
فریقین:
درخواست گزار: آفتاب احمد خان اور ایک اور
جواب دہندگان: دلاور خان اور دیگر
درخواست نمبر: 1498/2022
فیصلے کی تاریخ: 9 دسمبر 2022
کیس کی تفصیل:
یہ کیس ایک رہنمائی حکم کی خلاف ورزی کے دعوے پر مشتمل ہے، جس میں درخواست گزاروں نے جواب دہندگان پر الزام لگایا کہ انہوں نے عدالت کے حکم کی نافرمانی کی ہے۔
اہم نکات:
1. اسٹیٹس کو کی وضاحت: ٹرائل کورٹ نے پہلے ہی واضح کیا تھا کہ جواب دہندگان کو جائیداد کی منتقلی سے روکا گیا تھا، لیکن درخواست گزاروں نے اس کی خلاف ورزی کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا۔
2. تعمیر کا معاملہ: جواب دہندہ نے کہا کہ صرف مرمت کا کام کیا گیا، جس کا کوئی مؤثر جواب درخواست گزاروں کی طرف سے نہیں آیا۔
3. رہنمائی حکم کی میعاد: عدالت نے بتایا کہ رہنمائی حکم کی مدت ختم ہو چکی تھی۔ یہ حکم 28.01.2021 کو منظور ہوا تھا اور 27.07.2021 کو ختم ہوگیا۔ درخواست گزاروں نے اس کی توسیع کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔
4. توجہ کی عدم موجودگی: چونکہ اس وقت کوئی موثر رہنمائی حکم نہیں تھا، عدالت نے قرار دیا کہ کوئی توہین نہیں ہوئی۔
نتیجہ:
اسلام آباد ہائی کورٹ نے درخواست مسترد کر دی، کیونکہ درخواست گزاروں نے نہ تو کوئی خلاف ورزی ثابت کی اور نہ ہی موثر حکم کی موجودگی دکھائی۔ یہ کیس توہین کے دعووں میں قانونی طریقہ کار کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔
