Statutory ground| The Supreme Court granted bail on Statutory Ground.
![]() |
| The Supreme Court granted bail on Statutory Ground P L D 2024 S C 492 |
PLD 2024 سپریم کورٹ 492
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
مقدمہ کا تعارف
یہ اہم فیصلہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے ضمانت سے متعلق ایک بنیادی آئینی اور قانونی نکتے پر صادر کیا، جس میں یہ واضح کیا گیا کہ اگر کسی فوجداری مقدمے میں ٹرائل کے اختتام میں تاخیر عدالت کی جانب سے ہو تو اس کا نقصان ملزم کو نہیں پہنچایا جا سکتا۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بینچ کی تشکیل
یہ مقدمہ جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل تین رکنی بینچ نے سنا اور فیصلہ تحریر کیا۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
فریقین کا تعارف
روہان احمد بطور درخواست گزار جبکہ ریاست اور دیگر بطور فریقین اس مقدمے میں شامل تھے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
قانونی پس منظر
یہ معاملہ فوجداری ضابطۂ کارروائی 1898 کی دفعہ 497(1) کے تیسرے پرووائزو کے تحت ضمانت کے حق سے متعلق تھا، جسے آئینِ پاکستان کے آرٹیکلز 4، 9 اور 10-A کی روشنی میں جانچا گیا۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ضمانت کا قانونی اصول
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اگر کسی ایسے جرم میں، جس کی سزا موت ہو سکتی ہے، ملزم دو سال سے زائد عرصہ مسلسل زیرِ حراست رہے اور ٹرائل مکمل نہ ہو، تو اصولاً اسے ضمانت کا حق حاصل ہو جاتا ہے، بشرطیکہ تاخیر ملزم یا اس کی طرف سے کسی فعل یا کوتاہی کے باعث نہ ہوئی ہو۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آئینی تحفظات
عدالتِ عظمیٰ نے واضح کیا کہ دفعہ 497(1) کا تیسرا پرووائزو محض ایک قانونی سہولت نہیں بلکہ یہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 4 (قانون کا تحفظ)، آرٹیکل 9 (آزادیِ شخص) اور آرٹیکل 10-A (منصفانہ ٹرائل) کے تحت ایک مضبوط آئینی حق بھی ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تاخیر کی ذمہ داری کا تعین
فیصلے میں یہ اصول طے کیا گیا کہ صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ ملزم نے التواء مانگا، بلکہ یہ ثابت کرنا ضروری ہے کہ ملزم نے جان بوجھ کر اور مسلسل ایسے اقدامات کیے جن کا مقصد ٹرائل کو طول دینا تھا۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
عدالت کی جانب سے تاخیر
اس مقدمے میں ریکارڈ سے واضح ہوا کہ ٹرائل کی معطلی لاہور ہائیکورٹ کے حکم سے ہوئی اور کیس بارہا سماعت کے لیے مقرر ہونے کے باوجود آگے نہ بڑھ سکا، جس میں ملزم کا کوئی قصور ثابت نہ ہو سکا۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
سپریم کورٹ کا حتمی فیصلہ
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ چونکہ تاخیر عدالت کی جانب سے ہوئی، اس لیے اسے ملزم کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ نتیجتاً درخواست کو اپیل میں تبدیل کرتے ہوئے منظور کر لیا گیا اور درخواست گزار کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا گیا۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ہائی کورٹ کے لیے رہنما اصول
عدالت نے یہ بھی ہدایت دی کہ اگر ہائی کورٹ کسی فوجداری ٹرائل کو معطل یا اسٹے کرتی ہے تو اس پر لازم ہے کہ ایسے مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر جلد نمٹائے، تاکہ ملزم کو غیر معینہ مدت تک قید میں نہ رکھا جائے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
نتیجہ
یہ فیصلہ ضمانت، منصفانہ ٹرائل اور شخصی آزادی کے حوالے سے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عدالت کی تاخیر کا خمیازہ ملزم کو نہیں بھگتنا چاہیے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اردو خلاصہ:
مقدمہ "PLD 2024 Supreme Court 492" میں عدالت عظمیٰ کے ججز سید منصور علی شاہ، جمال خان مندوخیل، اور اطہر من اللہ نے روہان احمد کی اپیل پر فیصلہ سنایا۔
فوجداری ضابطہ (دفعہ 497 کی تیسری شرط) کے تحت، اگر کسی ملزم کا کیس دو سال سے زیادہ عرصے تک عدالت میں زیرِ التوا ہو اور اس تاخیر کی وجہ ملزم یا اس کے وکیل کی طرف سے نہ ہو تو اسے ضمانت کا قانونی حق حاصل ہے۔ آئین پاکستان کے آرٹیکل 4، 9، اور 10A کے تحت ملزم کو قانون کے مطابق انصاف حاصل کرنے، آزاد رہنے اور منصفانہ ٹرائل کے حقوق فراہم کیے گئے ہیں۔
تاخیر ہائی کورٹ کے عمل کی وجہ سے ہوئی اور ملزم کی طرف سے کوئی تاخیر نہیں کی گئی۔
اس کیس میں، عدالتی ریکارڈ کے مطابق تاخیر ہائی کورٹ کے عمل کی وجہ سے ہوئی اور ملزم کی طرف سے کوئی تاخیر نہیں کی گئی۔ ہائی کورٹ میں دائر کی گئی ایک نظرِثانی درخواست کے باعث ٹرائل معطل رہا اور یہ درخواست ابھی تک زیرِ التوا ہے۔ اس دوران ملزم کو تین سال سے زائد عرصے سے گرفتار رکھا گیا، جس پر سپریم کورٹ نے تاخیر کا ذمہ دار ہائی کورٹ کو ٹھہراتے ہوئے ملزم کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔
وکلاء:
شیخ عثمان کریم الدین، وکیل برائے درخواست گزار۔
شاہد تسور راو، وکیل برائے مدعی۔
راجہ محمد شفقات خان عباسی، ڈپٹی اٹارنی جنرل برائے ریاست۔
Must read judgement
P L D 2024 Supreme Court 492
