Unnatural death is clear from the official documents, it is not necessary to conduct a post-mortem.
![]() |
| Sum insured Unnatural death is clear from the official documents, it is not necessary to conduct a post-mortem.death certificate. 2024 S C M R 426 |
بیمہ شدہ شخص کی ایک روڈ حادثے میں وفات کے بعد انشورنس کلیم کو مسترد کر دیا گیا۔
کیس State Life Insurance Corporation of Pakistan & Another vs. Mst. Zubeda Bibi (2024 S C M R 426)
پس منظرِ مقدمہ
یہ مقدمہ لائف انشورنس کلیم سے متعلق تھا جس میں بیمہ شدہ شخص ایک روڈ ایکسیڈنٹ کے نتیجے میں وفات پا گیا۔ متوفی کے قانونی ورثاء نے اس کی وفات کے بعد اسٹیٹ لائف انشورنس کے سامنے کلیم دائر کیا، مگر انشورنس کمپنی نے یہ اعتراض اٹھایا کہ متوفی کا پوسٹ مارٹم نہیں کروایا گیا، اس لیے موت کی وجہ ثابت نہیں ہوتی۔
اہم حقائق
ریکارڈ کے مطابق متوفی کی موت کا اندراج متعلقہ یونین کونسل کے ڈیتھ رجسٹر میں موجود تھا اور پولیس اسٹیشن میں حادثے کی رپورٹ بھی درج تھی۔ انشورنس کمپنی نے نہ تو ڈیتھ سرٹیفکیٹ کی صحت کو کبھی چیلنج کیا اور نہ ہی ان سرکاری دستاویزات پر کوئی اعتراض اٹھایا۔ اس کے باوجود کلیم کی ادائیگی مقررہ مدت میں نہیں کی گئی۔
قانونی نکتہ
اصل سوال یہ تھا کہ آیا قانونی ورثاء کا پوسٹ مارٹم نہ کروانا انشورنس کلیم کے انکار کی جائز بنیاد بن سکتا ہے، اور کیا انشورنس کمپنی کلیم کی بروقت ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں سیکشن 118 انشورنس آرڈیننس 2000 کے تحت لکوئیڈیٹڈ ڈیمیجز کی پابند ہے یا نہیں۔
عدالتی تجزیہ
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ڈیتھ سرٹیفکیٹ، یونین کونسل کا اندراج اور پولیس رپورٹ سرکاری دستاویزات ہیں جن کے ساتھ قانونی طور پر صداقت کا قرینہ منسلک ہوتا ہے۔ عدالت نے مزید کہا کہ عمومی طور پر حادثاتی یا غیر فطری موت کی صورت میں قانونی ورثاء پوسٹ مارٹم سے اجتناب کرتے ہیں۔ اگر انشورنس کمپنی پوسٹ مارٹم کو ضروری سمجھتی تھی تو اسے خود یہ قدم اٹھانا چاہیے تھا تاکہ اپنے حقوق کا تحفظ کر سکے۔
ادائیگی میں تاخیر اور قانونی ذمہ داری
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ مدعیہ نے تمام قانونی اور طریقہ کار کی شرائط پوری کرتے ہوئے کلیم دائر کیا تھا، مگر انشورنس کمپنی قانون میں مقررہ مدت کے اندر ادائیگی کرنے میں ناکام رہی۔ اس لیے سیکشن 118 انشورنس آرڈیننس 2000 کے تحت لکوئیڈیٹڈ ڈیمیجز عائد ہونا بالکل درست تھا۔
فیصلہ
سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے انشورنس کمپنی کی اپیل مسترد کر دی۔ عدالت نے کلیم کی اصل رقم کے ساتھ ساتھ لکوئیڈیٹڈ ڈیمیجز کی ادائیگی کو بھی برقرار رکھا۔
قانونی اہمیت
یہ فیصلہ اس اصول کو مستحکم کرتا ہے کہ سرکاری دستاویزات کی موجودگی میں محض پوسٹ مارٹم نہ ہونے کی بنیاد پر انشورنس کلیم مسترد نہیں کیا جا سکتا، اور کلیم کی بروقت ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں انشورنس کمپنی قانوناً جرمانے کی پابند ہوتی
میں بنیادی مسئلہ یہ تھا کہ بیمہ شدہ شخص کی ایک روڈ حادثے میں وفات کے بعد انشورنس کلیم کو مسترد کر دیا گیا۔ سپریم کورٹ کے جج صاحبان جسٹس اعجازالاحسن، جسٹس سید حسن اظہر رضوی، اور جسٹس عرفان سعادت خان نے بیمہ کمپنی کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا۔
قانونی نکات:
زندگی بیمہ کلیم اور حادثے میں موت: بیمہ شدہ شخص ایک سڑک حادثے میں جاں بحق ہو گیا اور قانونی ورثا نے پوسٹ مارٹم کرانے سے گریز کیا۔ بیمہ کمپنی نے پوسٹ مارٹم نہ کرانے پر اعتراض اٹھایا۔
موت کا ثبوت: عدالت نے قرار دیا کہ موت کا سرٹیفکیٹ، یونین کونسل کے رجسٹر میں موت کا اندراج، اور پولیس کی رپورٹ سرکاری دستاویزات ہیں جن پر سچائی کا مفروضہ ہوتا ہے۔ بیمہ کمپنی نے ان دستاویزات کی درستگی کو کبھی چیلنج نہیں کیا۔
پوسٹ مارٹم کا مسئلہ:
عدالت نے تسلیم کیا کہ غیر فطری موت کی صورت میں ورثا عموماً پوسٹ مارٹم کرانے سے گریز کرتے ہیں۔ اگر بیمہ کمپنی کو پوسٹ مارٹم ضروری لگتا، تو اسے خود اس کا انتظام کرنا چاہیے تھا۔
ادائیگی میں تاخیر:
جواب دہندہ (زبیبہ بی بی) نے انشورنس کلیم کے تمام ضروری تقاضے پورے کیے، مگر بیمہ کمپنی نے قانونی مدت کے اندر ادائیگی نہیں کی۔ اس بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے انشورنس آرڈیننس 2000 کی دفعہ 118 کے تحت بیمہ کلیم کے ساتھ ساتھ جرمانے بھی عائد کیے۔
نتیجہ
سپریم کورٹ نے انشورنس کمپنی کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلہ دیا کہ انشورنس کلیم کی بروقت ادائیگی لازم ہے اور سرکاری دستاویزات جیسے کہ موت کا سرٹیفکیٹ ایک معتبر ثبوت ہے۔
