G-KZ4T1KYLW3 12/2 | Discretion of Court: The Supreme Court held that it is not mandatory to frame issues and record evidence in petitions filed under Section 12(2). It is the discretion of the court to decide the necessity of recording evidence according to the nature of the case. P L D 2024 S C 262

12/2 | Discretion of Court: The Supreme Court held that it is not mandatory to frame issues and record evidence in petitions filed under Section 12(2). It is the discretion of the court to decide the necessity of recording evidence according to the nature of the case. P L D 2024 S C 262

12/2 | Discretion of Court: The Supreme Court held that it is not mandatory to frame issues and record evidence in petitions filed under Section 12(2). 

12/2 Discretion of Court according to the nature of the case.
P L D 2024 S C 262

----دفعہ 12(2)---سیکشن 12(2) کے تحت دائر درخواست---مسائل کے تعین اور شواہد کا ریکارڈ---عدالت کی صوابدید-ھے۔

فیصلے کی اہمیت اور تعارف

یہ فیصلہ سپریم کورٹ آف پاکستان کا ایک نہایت اہم اور Must Read Judgment ہے جو دفعہ 12(2) ضابطہ دیوانی کے دائرۂ کار، طریقۂ کار اور عدالتی صوابدید کو واضح کرتا ہے۔ اس فیصلے میں عدالتِ عظمیٰ نے اس ابہام کو دور کیا ہے کہ آیا ہر 12(2) کی درخواست میں لازماً ایشوز فریم کرنا اور باقاعدہ شہادت ریکارڈ کرنا ضروری ہے یا نہیں، اور یہ کہ کون شخص ایسی درخواست دائر کرنے کا اہل ہے۔

عدالتی صوابدید کا بنیادی اصول

سپریم کورٹ نے واضح طور پر قرار دیا کہ دفعہ 12(2) سی پی سی کے تحت دائر درخواست میں عدالت کسی سخت اور لازمی طریقۂ کار کی پابند نہیں۔ ایشوز فریم کرنا اور شہادت ریکارڈ کرنا ہر مقدمے میں لازم نہیں بلکہ یہ مکمل طور پر عدالت کے اطمینان اور صوابدید پر منحصر ہے۔ عدالت کو اختیار حاصل ہے کہ وہ الزامات کی نوعیت، شدت اور قانونی اثرات کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ کرے کہ آیا باقاعدہ ٹرائل کی ضرورت ہے یا محض ریکارڈ اور دلائل کی بنیاد پر معاملہ نمٹایا جا سکتا ہے۔

فراڈ، غلط بیانی اور دائرۂ اختیار کا جائزہ

عدالت نے یہ اصول طے کیا کہ اگر دفعہ 12(2) کی درخواست میں فراڈ، غلط بیانی یا دائرۂ اختیار کے فقدان کے الزامات اس نوعیت کے ہوں کہ وہ محض دستاویزی ریکارڈ یا واضح قانونی نقائص سے ثابت ہو سکتے ہوں، تو عدالت پر لازم نہیں کہ وہ ایشوز فریم کرے یا شہادت ریکارڈ کرے۔ البتہ اگر الزامات ایسے ہوں جن کا فیصلہ بغیر شواہد کے ممکن نہ ہو، تو عدالت اپنی صوابدید استعمال کرتے ہوئے ایشوز فریم کر سکتی ہے اور شہادت کا حکم دے سکتی ہے۔

دفعہ 12(2) میں طریقۂ کار کی لچک

سپریم کورٹ نے اس بات پر زور دیا کہ دفعہ 12(2) سی پی سی کا مقصد انصاف کی فراہمی ہے، نہ کہ طریقۂ کار کی سخت پابندی۔ اس لیے عدالت اس دفعہ کے تحت کارروائی کو کسی سول سوٹ کے سانچے میں قید کرنے کی پابند نہیں۔ عدالت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ہر کیس کے حالات کے مطابق اپنا طریقۂ کار وضع کرے، تاکہ فراڈ یا غلط بیانی کے حقیقی دعوؤں کو مؤثر طور پر پرکھا جا سکے۔

“Person” کی تشریح اور دائرۂ اثر

اس فیصلے کا ایک نہایت اہم پہلو لفظ “Person” کی تشریح ہے۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ دفعہ 12(2) میں استعمال ہونے والا لفظ “Person” کسی محدود یا تنگ مفہوم میں نہیں لیا جا سکتا۔ یہ صرف judgment-debtor یا اس کے جانشینوں تک محدود نہیں بلکہ ہر وہ شخص اس میں شامل ہے جو کسی فیصلے، ڈگری یا عدالتی حکم سے متاثر ہوا ہو، خواہ وہ اصل مقدمے میں فریق رہا ہو یا نہیں۔

الگ دعویٰ دائر کرنے کی ممانعت

عدالت نے یہ اصول بھی دہرایا کہ اگر کسی شخص کو کسی فیصلے، ڈگری یا حکم میں فراڈ، غلط بیانی یا دائرۂ اختیار کے فقدان کا اعتراض ہو تو وہ اس چیلنج کے لیے علیحدہ دعویٰ دائر نہیں کر سکتا۔ اس کے لیے واحد مؤثر اور قانونی راستہ یہی ہے کہ وہ اسی عدالت میں دفعہ 12(2) سی پی سی کے تحت درخواست دائر کرے جس نے وہ فیصلہ یا ڈگری صادر کی ہو، اور اس میں فراڈ یا غلط بیانی کی مکمل تفصیلات بیان کرے۔

سابقہ عدالتی نظائر کی توثیق

سپریم کورٹ نے اپنے اس فیصلے میں 1993 SCMR 662، 2000 SCMR 296 اور 1999 SCMR 1334 سمیت سابقہ مستند نظائر کی توثیق کرتے ہوئے یہ تسلیم کیا کہ دفعہ 12(2) کی کارروائی ایک غیر معمولی مگر مؤثر قانونی علاج ہے، جسے انصاف کے تقاضوں کے مطابق لچک کے ساتھ استعمال کیا جانا چاہیے۔

فیصلہ اور قانونی اصول

عدالت نے حتمی طور پر یہ اصول وضع کیا کہ دفعہ 12(2) سی پی سی میں عدالتی صوابدید مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ نہ تو ہر کیس میں ایشوز فریم کرنا لازم ہے اور نہ ہی ہر درخواست میں شہادت ریکارڈ کرنا ضروری۔ اصل کسوٹی عدالت کا اطمینان ہے کہ آیا الزامات بغیر شواہد کے طے ہو سکتے ہیں یا نہیں۔ اسی طرح، اس دفعہ کے تحت درخواست دائر کرنے کا حق ہر اس شخص کو حاصل ہے جو عدالتی فیصلے سے متاثر ہوا ہو۔

قانونی اہمیت کا خلاصہ

یہ فیصلہ دفعہ 12(2) سی پی سی کو ایک بار پھر طاقتور، لچکدار اور انصاف پر مبنی قانونی راستہ ثابت کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ یہاں عدالت کی صوابدید رسمی کارروائیوں پر فوقیت رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ فیصلہ وکلا، ججز اور قانون کے طلبہ کے لیے واقعی Must Read Judgment ہے۔


پی ایل ڈی 2024 سپریم کورٹ 262

حاضر: قاضی فائز عیسیٰ، چیف جسٹس، محمد علی مازہر اور مسرت ہلالی، جج صاحبان

حافظ ملک کامران اکبر اور دیگر --- درخواست گزار

بنام

محمد شفیع (مرحوم) بذریعہ قانونی ورثاء اور دیگر --- جواب دہندگان

سول پٹیشن نمبر 2341-ایل 2016، مورخہ 2 جنوری، 2024 کو فیصلہ کیا گیا۔

(لاہور ہائی کورٹ کے حکم مورخہ 19 مئی، 2016 کے خلاف، سی ایم 723/2016 میں، آر ایس اے نمبر 61/1998)۔

(a) سول پروسیجر کوڈ (1908 کا پانچواں قانون)---

----دفعہ 12(2)---سیکشن 12(2) کے تحت دائر درخواست---مسائل کے تعین اور شواہد کا ریکارڈ---عدالت کی صوابدید--- سیکشن 12(2) سی پی سی کے تحت دائر درخواست میں دھوکہ دہی، غلط بیانی یا عدالت کے دائرہ اختیار کی کمی کے الزامات کو جانچنے کے لیے، عدالت ہر کیس میں لازمی طور پر مسائل کی تشکیل اور فریقین کے شواہد کا ریکارڈ کرنے کی پابند نہیں ہوتی۔ عدالت کی صوابدید پر منحصر ہے کہ وہ اپنی کارروائی کو کس طرح ترتیب دے۔ اگر الزامات کا تجزیہ کرنے کے بعد عدالت محسوس کرے کہ مسائل کی تشکیل اور شواہد کے بغیر فیصلہ ممکن نہیں، تو تب ہی وہ ایسا کرے گی۔

حوالہ جات: 

غلام محمد بنام ایم احمد خان (1993 ایس سی ایم آر 662)، مسز آمنہ بی بی بذریعہ جنرل اٹارنی بنام نصراللہ اور دیگر (2000 ایس سی ایم آر 296)، اور امیران بی بی اور دیگر بنام محمد رمضان اور دیگر (1999 ایس سی ایم آر 1334)۔

(b) سول پروسیجر کوڈ (1908 کا پانچواں قانون)---


----دفعہ 12(2)---سیکشن 12(2) کے تحت دائر درخواست---'شخص' جو ایسی درخواست دائر کرنے کا اہل ہو---دائرہ کار--- کوئی بھی شخص دھوکہ دہی، غلط بیانی یا عدالت کے دائرہ اختیار کی کمی کے خلاف سیکشن 12(2) سی پی سی کے تحت تفصیلات کے ساتھ درخواست دائر کر سکتا ہے۔ اس کا اطلاق محض فیصلے کے مدیون یا اس کے جانشینوں تک محدود نہیں بلکہ کوئی بھی شخص جو عدالتی فیصلے سے متاثر ہو، وہ درخواست دائر کرنے کا اہل ہوتا ہے، چاہے وہ اصل کارروائی کا فریق نہ بھی ہو۔

وکیل درخواست گزار: سردار محمد رمضان، سپریم کورٹ کے وکیل

   وکیل جواب دہندگان: کوئی نہیں


Must read judgement 

P L D 2024 Supreme Court 262

Present: Qazi Faez Isa, C.J., Muhammad Ali Mazhar and Musarrat Hilali, JJ

Hafiz Malik KAMRAN AKBAR and others---Petitioners

Versus

MUHAMMAD SHAFI (deceased) through L.Rs. and others---Respondents

Civil Petition No. 2341-L of 2016, decided on 2nd January, 2024.

       (Against the order dated 19.5.2016 passed by Lahore High Court, Lahore, in C.M. 723 of 2016 in R.S.A No. 61 of 1998).

(a) Civil Procedure Code (V of 1908)---

----S. 12(2)---Application under section 12(2), C.P.C---Framing of issues and recording of evidence---Discretion of Court---For determining the grounds of alleged fraud, misrepresentation or want of jurisdiction, if any, raised in the application moved under section 12(2), C.P.C., the Court is not obligated in each and every case to frame issues mandatorily in order to record the evidence of parties and exactly stick to the procedure prescribed for decision in the suit but it always rests upon the satisfaction of the Court to structure its proceedings and obviously, after analyzing the nature of allegations of fraud or misrepresentation, the Court may decide whether the case is fit for framing of issues and recording of evidence, without which the allegations leveled in the application filed under Section 12(2), C.P.C. cannot be decided.

       Ghulam Muhammad v. M. Ahmad Khan and 6 others 1993 SCMR 662; Mrs. Amina Bibi through General Attorney v. Nasrullah and others 2000 SCMR 296 and Amiran Bibi and others v. Muhammad Ramazan and others 1999 SCMR 1334 ref.

(b) Civil Procedure Code (V of 1908)---

----S. 12(2)---Application under section 12(2), C.P.C---'Person' competent to file such an application---Scope---Person can challenge the validity of a judgment, decree, or order on plea of fraud and misrepresentation or want of jurisdiction under Subsection (2) of Section 12 C.P.C. by making an application with full particulars of the fraud and misrepresentation to the Court which passed the final judgment, decree, or order and not by a separate suit---Term "person" provided in this section cannot be interpreted narrowly to restrict its scope and application only to the judgment-debtor or his successors but it includes any person adversely affected by the judgment and decree or order of the Court without any distinction on whether he was party to the original proceedings or not.

       Sardar Muhammad Ramzan, Advocate Supreme Court for Petitioners.

       Nemo for Respondents.



For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.

































 
































Post a Comment

Previous Post Next Post