Hiba challenged after death of father |The brother challenged the brother's title after the father's death. 2024 C L C 333.
![]() |
| Hiba challenged after the death |
اگر ھبہ کو زندگی میں چیلنج نہ کرے تو مرنے کے بعد اس کے وارثان بھی نہیں کر سکتے۔
پس منظر اور نوعیت مقدمہ ........... 1
ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ یہ کیس تحریری یا ریکارڈ شدہ گفٹ میوٹیشنز کی منسوخی سے متعلق ہے جو والد نے اپنے بڑے بیٹے (ریسپونڈنٹ نمبر 1) کے حق میں کی تھیں۔ درخواست گزار نے دعویٰ کیا کہ یہ میوٹیشنز دھوکہ پر مبنی تھیں اور اس لیے ریکارڈ میں اصلاح کی ضرورت ہے، لیکن ٹرائل کورٹ اور اپیلٹ کورٹ نے درخواست کو خارج کیا۔
ابتدائی بوجھ برائے ثبوت ..................... 2
ہائیکورٹ نے کہا کہ اگرچہ میوٹیشن کا فائدہ اٹھانے والا ریسپونڈنٹ نمبر 1 تھا، اسے دونوں میوٹیشنز کے نفاذ کا ثبوت دینا تھا، لیکن چونکہ درخواست گزار نے دھوکہ ہونے کا دعویٰ کیا، اس لیے ابتدائی بوجھ اس پر تھا کہ وہ ثابت کرے کہ دھوکہ کب، کیسے اور کس نے کیا۔
والد کا علم اور رویہ .................... 3
عدالت نے نوٹ کیا کہ والد جو گفٹ میوٹیشنز کے ڈونر تھے، پڑھے لکھے اور سمجھدار شخص تھے اور 2003 تک زندہ رہے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں ریسپونڈنٹ نمبر 1 کی طرف سے زمین کی منتقلی یا بینکوں کے حوالے سے کچھ بھی اعتراض نہیں کیا، جو ظاہر کرتا ہے کہ والد نے جان بوجھ کر زمین اپنے بڑے بیٹے کے حق میں منتقل کی۔
چیلنج کرنے کا قانونی حق ..
ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ اگر والد نے ٹرانزیکشن کو چیلنج نہیں کیا تو اس کے بعد دیگر بیٹے (درخواست گزار) کے پاس اس میوٹیشن کو چیلنج کرنے کا قانونی حق نہیں ہوتا۔
درخواست گزار کی علم اور خاموشی ....... 5
عدالت نے مزید کہا کہ درخواست گزار نے خود 10 کنال زمین حاصل کی اور اس میں سے کچھ حصہ 27.03.1990 کو ریسپونڈنٹ نمبر 1 کو فروخت کیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسے زمین کے لین دین کا علم تھا اور وہ خاموش رہا۔ اس خاموشی کی بنیاد پر عدالت نے استدلال کیا کہ درخواست گزار نے استاپل اور ویور کے اصولوں کے تحت اپنے دعوے کو نقصان پہنچایا۔
قانون حد وقت (Limitation) کی حیثیت .... 6
ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ درخواست گزار نے 1974 اور 1978 کی میوٹیشنز کے خلاف 2011 میں دعویٰ دائر کیا، جو کہ قانون حد وقت کے تحت بہت دیر سے دائر شدہ ہے۔ عدالت نے کہا کہ تاخیر کی وضاحت نہ ہونے کی وجہ سے دعویٰ قابل قبول نہیں۔
ثبوت اور گواہان................ 7
عدالت نے کہا کہ درخواست گزار نے خود اعتراف کیا کہ گفٹ میوٹیشنز کی گئی تھیں اور اس کا علم تھا۔ ریسپونڈنٹ نمبر 1 نے تمام زندہ گواہوں کو پیش کیا جو میوٹیشنز کی حمایت میں تھے، جبکہ کچھ گواہ فوت ہو چکے تھے، لیکن ان کی سابقہ گواہی بھی ریسپونڈنٹ کے حق میں تھی۔
نتائج و استدلال ........... 8
ہائیکورٹ نے نتیجہ اخذ کیا کہ ابتدائی بوجھ درخواست گزار پر تھا اور وہ اپنے دعوے میں ناکام رہا، جبکہ ریسپونڈنٹ نمبر 1 نے تمام ضروری شواہد فراہم کیے۔ اس کے علاوہ، درخواست گزار کے رویے اور خاموشی نے بھی میوٹیشنز کے نفاذ کے حق میں مؤثر کردار ادا کیا۔
اختتامی فیصلہ .................... 9
بالآخیر، عدالت نے دونوں نچلی عدالتوں کے فیصلے کو برقرار رکھا اور ریویژن پٹیشن کو مسترد کر
اس مقدمے میں، درخواست گزار نے اپنے بھائی (جو کہ جواب دہندہ نمبر 1 ہے) کے حق میں اپنے والد کے نام سے درج کردہ ہبہ انتقالات کو منسوخ کروانے کے لیے دعویٰ دائر کیا تھا۔ درخواست گزار کا دعویٰ تھا کہ یہ انتقالات دھوکہ دہی پر مبنی ہیں اور ان کا ریکارڈ درست کیا جانا چاہیے۔ تاہم، ماتحت عدالت اور اپیلٹ کورٹ دونوں نے اس دعویٰ کو رد کر دیا۔
عدالت نے کہا کہ چونکہ والد، جو کہ ایک سمجھدار شخص تھے، نے اپنی زندگی میں ان انتقالات پر کوئی اعتراض نہیں کیا تھا، اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے جان بوجھ کر جائداد اپنے بڑے بیٹے (جواب دہندہ نمبر 1) کو منتقل کی۔ اس کے علاوہ، درخواست گزار نے خود بھی اس زمین کا کچھ حصہ فروخت کر دیا تھا جس سے یہ ثابت ہوا کہ انہیں ان انتقالات کا علم تھا۔ والد کی وفات کے بعد، درخواست گزار کی جانب سے یہ دعویٰ دائر کرنے کا عمل استحقاق، استثنا اور قانونِ معیاد کی خلاف ورزی تھی۔ اس بنا پر، عدالت نے درخواست گزار کو غیر موزوں قرار دیا اور نظرِ ثانی درخواست کو مسترد کر دیا۔
نکتۂ قانون:
اگر کوئی شخص زندگی میں اپنی جائداد کی منتقلی کو چیلنج نہ کرے تو اس کے بعد اس کے وارث کو اس منتقلی کو چیلنج کرنے کا حق نہیں ہوتا۔
دعوے کی تاخیر قانونِ معیاد کے تحت دعوے کو کمزور کر دیتی ہے جب تک کہ قانون میں اس کے لیے کوئی رعایت نہ ہو۔
حوالہ جات:
Bal Gangadhar Tilk and others v. Shrinivas Pandi and others AIR 1915 Privy Council 7
Messrs SAZCO (Pvt.) Ltd. v. Askari Commercial Bank Limited 2021 SCMR 558
Umer Baz Khan through L.Hrs v. Syed Jehanzeb and others PLD 2013 SC 268

2024 C L C 333 is ki details read ker k yea bat samjh lagi hay k ager plantif ki knowkdge main ho hiba ya trasfer to us ko chalnge nahi kia jaa skta ya is chalnge suit dismiss ho jay ga lakin ager kisi iletrate person se jis ki age almost 80 plus ho or wo bedridden bhi ho us ki death se 20 din pahilay us se thumb lgwa ker property betay apnay nam per transfer kerwa lain or betion ko hisa na diay jay to kia betion ki transfer betion ki knwoldge main bhi na ho transfer k 14 year bad betion k warsan ko is trnsfer ka pata chalay to kia yea chalnge ker k trasnfer cancel ki ja skti hay
ReplyDelete