Conviction Upheld in Robbery-Cum-Murder Case on Strength of Reliable Ocular and Corroborative Evidence.
مقدمے کا تعارف
یہ فوجداری اپیل سندھ ہائی کورٹ، سکھر بنچ کے سامنے زہور احمد کی جانب سے دائر کی گئی، جس میں ٹرائل کورٹ کی جانب سے تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 302، 393، 394 اور 34 کے تحت دی گئی سزا کو چیلنج کیا گیا تھا۔ اپیل کا فیصلہ 20 مئی 2022ء کو جسٹس ذوالفقار علی سانگی نے تحریر کیا۔
مقدمے کا پس منظر اور الزامات کی نوعیت
استغاثہ کے مطابق ملزم نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ڈکیتی کے دوران مدعی کی بہن کو فائرنگ کر کے قتل کیا اور مدعی کے کزن کو آتشیں اسلحہ سے زخمی کیا۔ واقعہ رات کے وقت پیش آیا اور اس دوران ملزمان کا مقصد لوٹ مار تھا، جس میں قتل اور زخمی کرنے کے واقعات رونما ہوئے۔
استغاثہ کی شہادت اور عینی گواہوں کا کردار
استغاثہ نے اپنے مقدمے کو ثابت کرنے کے لیے مدعی کو بطور عینی گواہ پیش کیا، جس نے پورے واقعے کی تفصیل عدالت کے سامنے بیان کی۔ اس کے بیان کی تائید ایک اور عینی گواہ نے کی جس نے تاریخ، وقت، مقام اور ملزم کی شناخت سمیت تمام اہم پہلوؤں پر مدعی کے بیان کی مکمل تصدیق کی۔ عدالت نے قرار دیا کہ دونوں گواہوں کے بیانات میں کوئی ایسا تضاد موجود نہیں جو استغاثہ کے مقدمے کو مشکوک بنا سکے۔
رات کے وقت شناخت اور روشنی کا سوال
دفاع کی جانب سے یہ اعتراض اٹھایا گیا کہ واقعہ رات کے وقت پیش آیا، اس لیے ملزم کی درست شناخت ممکن نہیں تھی۔ تاہم عینی گواہ نے واضح طور پر بیان دیا کہ جائے وقوعہ پر چھپر میں بلب نصب تھا اور ملزمان کو تقریباً دس سے بارہ فٹ کے فاصلے سے پہچانا گیا۔ عدالت نے اس وضاحت کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ شناخت کے حوالے سے استغاثہ کا موقف قابلِ اعتماد ہے۔
دشمنی کے عدم وجود کی اہمیت
عدالت نے اس امر کو بھی اہمیت دی کہ دفاع کی جانب سے کسی قسم کی سابقہ دشمنی یا عناد ثابت نہیں کیا جا سکا جس کی بنیاد پر ملزم کو جھوٹے مقدمے میں ملوث کیا جاتا۔ دشمنی کی عدم موجودگی نے عینی گواہوں کی شہادت کو مزید مضبوط بنا دیا۔
آلۂ قتل اور برآمدگی کی قانونی حیثیت
استغاثہ کے مطابق ملزم نے پولیس کو اپنے گھر لے جا کر .30 بور پستول برآمد کروایا جو آہنی صندوق میں رکھا گیا تھا۔ پستول میں تین زندہ کارتوس موجود تھے اور اس سے بارود کی بو آ رہی تھی۔ اس کے علاوہ جائے وقوعہ سے خون آلود مٹی اور .30 بور کے خول بھی برآمد کیے گئے۔ عدالت نے قرار دیا کہ برآمدگی کے گواہوں پر جرح کے باوجود ان کی شہادت متزلزل نہیں ہوئی، لہٰذا یہ شہادت قابلِ بھروسہ ہے۔
ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر کا جائزہ
دفاع نے مؤقف اختیار کیا کہ ایف آئی آر کے اندراج میں ایک دن کی تاخیر استغاثہ کے مقدمے کو مشکوک بنا دیتی ہے۔ تاہم عدالت نے ریکارڈ کی روشنی میں قرار دیا کہ وقوعہ کے فوراً بعد مدعی نے مقتولہ اور زخمی کو اسپتال منتقل کیا، والدین کے انتظار اور تدفین کے بعد ایف آئی آر درج کی گئی۔ اس طرح تاخیر کی مناسب وضاحت موجود تھی اور یہ تاخیر استغاثہ کے مقدمے کے لیے مہلک ثابت نہیں ہوئی۔
دفعہ 161 ضابطہ فوجداری کے بیانات میں تاخیر
عدالت نے یہ اصول بھی واضح کیا کہ اگر تفتیشی افسر کی جانب سے گواہوں کے بیانات دفعہ 161 ضابطہ فوجداری کے تحت تاخیر سے ریکارڈ کیے جائیں تو محض اسی بنیاد پر استغاثہ کے مقدمے کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی کوتاہی کا فائدہ ملزم کو نہیں دیا جا سکتا جب مجموعی شواہد اس کے خلاف ہوں۔
معمولی تضادات کی قانونی حیثیت
عدالت نے اس امر کو دہرایا کہ فوجداری مقدمات میں معمولی تضادات ہر کیس میں پائے جاتے ہیں اور یہ کسی سنگین شک کو جنم دینے کے لیے کافی نہیں ہوتے۔ جب مجموعی شہادت قابلِ اعتماد ہو تو ایسے معمولی اختلافات کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔
رشتہ دار گواہوں کی شہادت
اگرچہ عینی گواہ مقتولہ کے رشتہ دار تھے، مگر عدالت نے قرار دیا کہ محض رشتہ داری شہادت کو ناقابلِ اعتبار نہیں بناتی۔ گواہوں کی موجودگی، بیانات کی مطابقت اور طبی شہادت سے تصدیق نے ان کے بیانات کو مکمل طور پر قابلِ اعتماد بنا دیا۔
طبی شہادت اور عینی شہادت میں مطابقت
عدالت نے نشاندہی کی کہ میڈیکل ایویڈنس عینی شہادت سے مکمل طور پر ہم آہنگ تھی، خصوصاً زخم کی نوعیت، آلۂ قتل اور وقت کے حوالے سے۔ اس مطابقت نے استغاثہ کے مقدمے کو مزید تقویت دی۔
عدالت کا حتمی فیصلہ
تمام شواہد اور قانونی نکات کا جائزہ لینے کے بعد سندھ ہائی کورٹ نے یہ قرار دیا کہ استغاثہ نے ملزم کے خلاف مقدمہ شک سے بالاتر ثابت کر دیا ہے۔ چنانچہ زہور احمد کی فوجداری اپیل خارج کر دی گئی اور ٹرائل کورٹ کی جانب سے دی گئی سزا برقرار رکھی گئی۔
قانونی اہمیت
یہ فیصلہ فوجداری مقدمات میں عینی شہادت، برآمدگی، ایف آئی آر میں تاخیر، دفعہ 161 کے بیانات اور رشتہ دار گواہوں کی قانونی حیثیت کے حوالے سے ایک مضبوط نظیر ہے، جو ٹرائل کورٹس اور وکلا کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
مقدمے میں عدالت نے عینی شاہدین کی معتبر گواہی، ایف آئی آر میں تاخیر کی مناسب وضاحت، اور شواہد کی مضبوطی کی بنا پر ملزمان کی مجرمانہ ذمہ داری کو ثابت کیا، جس کے نتیجے میں سزا کی اپیل مسترد کر دی گئی۔
