The NIRC court reinstated the PTA employee. Six years PTA did not reinstate the employee on the decision. The High Court said that the PTA should give an explanation to the NIRC court not to reinstate and pay six years' salary and face contempt of court proceedings. 2024 P L C 25.
عدالت نے بحالی کا حکم دیا تھا، لیکن کمپنی نے اسے نظرانداز کر دیا اور چھ سال سے اپنی نوکری پر بحال نہ کیا۔ عدالت نی حکم دیا کہ کمپنی وضاحت دے کہ ملازم کو کیوں بحال نہیں کیا گیا، ورنہ کمپنی کو توہین عدالت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ عدالت نے صاف کہا کہ اگر وضاحت نہ دی گئی اور ملازم کے تمام سابقہ حقوق اور فوائد کی ادائیگی نہ کی گئی، تو عدالت توہین عدالت کی کاروائی کرنے سے گریز نہیں کرے گی۔
1. مقدمے کا پس منظر
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (PTCL) نے نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن (NIRC) کے سنگل بینچ کے اس حکم کو چیلنج کیا، جس کے ذریعے ایک ملازم کو دوبارہ ملازمت پر بحال کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
مزید یہ کہ بحالی کے حکم پر عمل نہ کرنے پر توہینِ عدالت کی کارروائی بھی شروع کی گئی تھی۔
کمپنی نے مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ NIRC کا فل بینچ فعال نہیں تھا، اس لیے آئینی دائرہ اختیار کے تحت سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا۔
2. بنیادی قانونی سوال
کیا NIRC، بحالیِ ملازمت کے حکم پر عمل نہ ہونے کی صورت میں، توہینِ عدالت کی کارروائی کر سکتا ہے، اور کیا ہائی کورٹ اس ضمن میں ہدایات جاری کر سکتی ہے؟
3. عدالت کی ہدایات
سندھ ہائی کورٹ نے مندرجہ ذیل واضح احکامات جاری کیے:
(ا) PTCL کو ہدایت کی گئی کہ وہ ایک بااختیار نمائندہ مقرر کرے جو NIRC کے سامنے پیش ہو کر یہ وضاحت کرے کہ چھ سال گزرنے کے باوجود ملازم کو بحال کیوں نہیں کیا گیا۔
(ب) اگر کمپنی NIRC کو مطمئن کرنے میں ناکام رہی، تو NIRC کو مکمل اختیار ہوگا کہ وہ توہینِ عدالت سمیت مناسب کارروائی کرے۔
(ج) کمپنی کو یہ بھی ہدایت کی گئی کہ وہ ایک مجاز افسر کے ذریعے:
– ملازم کی بحالی کا لیٹر جمع کروائے
– واجب الادا سابقہ مراعات (Back Benefits) کی دوبارہ کیلکولیشن کے بعد رقم ادا کرے
یہ تمام اقدامات NIRC کی تسلی کے مطابق ہونے چاہئیں۔
4. عدم تعمیل کے نتائج
عدالت نے واضح کیا کہ:
(ا) اگر مذکورہ بالا کسی بھی ہدایت پر عمل نہ کیا گیا تو اسے توہینِ عدالت تصور کیا جائے گا۔
(ب) NIRC کے سامنے مزید کسی بھی قسم کی نافرمانی کی صورت میں اضافی قانونی کارروائی بھی ہو سکتی ہے۔
5. عدالتی نتیجہ
ان ہدایات کے ساتھ آئینی درخواست کو نمٹا دیا گیا اور کمپنی کو واضح طور پر پابند کیا گیا کہ وہ NIRC کے احکامات پر مؤثر اور فوری عمل درآمد کرے۔
6. حوالہ مقدمہ
(ا) Muslim Commercial Bank v. Federation of Pakistan
PLD 2019 Sindh 624
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (PTCL) کا ایک سابق ملازم چھ سال سے اپنی نوکری کی بحالی کا منتظر تھا۔ نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن (NIRC) نے اس کی بحالی کا حکم دیا تھا، لیکن کمپنی نے اسے نظرانداز کر دیا۔ ملازم نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا، اور اس دوران اس کے لیے ہر دن ایک نئی امید لے کر آتا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مایوسی بڑھتی گئی۔ بالآخر، سندھ ہائی کورٹ نے کمپنی کو حکم دیا کہ وہ ایک مجاز افسر مقرر کرے جو NIRC کے سامنے وضاحت دے کہ ملازم کو کیوں بحال نہیں کیا گیا، ورنہ کمپنی کو توہین عدالت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ عدالت نے صاف کہا کہ اگر وضاحت نہ دی گئی اور ملازم کے تمام سابقہ حقوق اور فوائد کی ادائیگی نہ کی گئی، تو عدالت توہین عدالت کی کاروائی کرنے سے گریز نہیں کرے گی۔ اس فیصلے کے بعد، وہ ملازم جو برسوں سے اپنی حق تلفی کے خلاف لڑ رہا تھا، بالآخر اپنے حق کے قریب پہنچ گیا۔
