The filing of an appeal or petition with the Supreme Court does not automatically suspend the trial court's action or execution .
![]() |
| The filing of an appeal or petition with the Supreme Court does not automatically suspend the trial court's action or execution . 2024 S C M R 1385 |
سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے سے خود بخود ٹرائل کورٹ یا ایکزیکیوشن پروسیڈنگز نہیں رُک جاتیں۔
جب تک سپریم کورٹ انجنکٹیو آرڈر جاری نہیں کرتی، پارٹیاں ٹرائل کورٹ میں کارروائی روکنے یا مؤخر کرنے کی درخواست نہیں کر سکتیں۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ: 2024 SCMR 1385
عدالت: سپریم کورٹ آف پاکستان
تاریخ: 29 اپریل 2024
بین الاقوامی حوالہ: Civil Petition No. 925-L of 2018
فریقین: Rashid Baig و دیگر بمقابلہ Muhammad Mansha و دیگر
مقدمے کا پس منظر
مقدمہ 27 مئی 2004 کو دائر ہوا۔ فریقین میں تنازع زمین سے متعلق حقوق اور ریکارڈ آف رجسٹریشن کے حوالے سے تھا۔ مدعا علیہان نے ابتدائی عدالت میں بعض حکام کو بطور گواہ طلب کرنے کی درخواستیں دی تھیں، جو ٹرائل کورٹ نے مسترد کر دی تھیں۔ اس فیصلے کو بعد میں ریویژن میں چیلنج کیا گیا لیکن ریویژن بھی نامنظور ہو گئی۔ آخرکار، مدعا علیہان نے ہائی کورٹ کے آئینی دائرہ اختیار (Art. 199) میں بھی یہ آرڈرز چیلنج کیے، لیکن وہاں بھی درخواست مسترد ہوئی۔
عدالتی نکات اور اصول
1. انٹرم آرڈرز کی چیلنجنگ (Interim Orders – C.P.C. S.115 & Art.199)
جب کوئی پارٹی سویٹ کے دوران کسی انٹرم آرڈر کو ریویژن یا آئینی دائرہ اختیار میں چیلنج کرتی ہے، تو عدالت کو یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ یہ صرف عبوری حکم ہے۔
ہر عبوری حکم کو اسی وقت چیلنج کرنا ضروری نہیں کیونکہ جب مقدمہ آخری فیصلے تک پہنچے گا، تب تمام عبوری احکامات اپیل میں کھلے ہوئے ہوں گے۔
اگر پارٹی چاہے تو عبوری آرڈر کو اپیل یا ریویژن کے ذریعے چیلنج کر سکتی ہے، لیکن عدالت کو اس دائرہ اختیار کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔
2. ہائی کورٹ میں آئینی درخواست (Art. 199) کی حدود
Petitioners نے Revenue Officers اور Patwari کو گواہ بنانے کی درخواستیں دائر کی تھیں، جو ٹرائل کورٹ اور ریویژن میں مسترد ہو گئی تھیں۔
ہائی کورٹ نے بھی یہ درخواست مسترد کر دی کیونکہ اس وقت کوئی جغرافیائی یا قانونی نقص نہیں تھا اور گواہوں کی موجودگی یا عدم موجودگی بھی واضح نہیں تھی۔
اس فیصلے کے مطابق، عبوری احکامات کے خلاف آئینی دائرہ اختیار کا استعمال محدود اور جائز حالات تک محدود ہوتا ہے۔
3. سپریم کورٹ میں اپیل کے اثرات (Supreme Court Rules, 1980, O.XX, R.1)
سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے سے خود بخود ٹرائل کورٹ یا ایکزیکیوشن پروسیڈنگز نہیں رُک جاتیں۔
جب تک سپریم کورٹ انجنکٹیو آرڈر جاری نہیں کرتی، پارٹیاں ٹرائل کورٹ میں کارروائی روکنے یا مؤخر کرنے کی درخواست نہیں کر سکتیں۔
اس عمل کو قانونی طریقہ کار کا غلط استعمال اور ممکنہ توہین عدالت سمجھا جا سکتا ہے۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ
ہائی کورٹ کے فیصلے میں کوئی عدالتی یا قانونی نقص نہیں پایا گیا۔
Petitioners کی درخواست مسترد کر دی گئی اور لیو نہیں دی گئی۔
عدالت نے واضح کیا کہ سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کا خود بخود اثر نہیں اور غیر قانونی تاخیر یا روکاؤ کے نتیجے میں سخت قانونی کارروائی ہو سکتی ہے۔
خلاصہ اور سبق
1. عبوری احکامات کو اسی وقت چیلنج کرنا ہمیشہ ضروری نہیں، آخری فیصلے پر اپیل کی جا سکتی ہے۔
2. آئینی دائرہ اختیار میں عبوری احکامات کی چیلنجنگ محدود ہے۔
3. سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے سے خود بخود ٹرائل یا ایکزیکیوشن نہیں رُکتی۔
4. غیر ضروری تاخیر یا غیر قانونی روکاوٹ عدالت کی ناپسندیدہ کارروائی ہے۔
