G-KZ4T1KYLW3 PTA | Process of action against illegally uploaded video on social media.

PTA | Process of action against illegally uploaded video on social media.

PTA | Process of action  against illegally uploaded video  on social media.

Process of action against illegally uploaded video on social media.

پرائیویسی کی خلاف ورزی بطور سنگین جرم

عدالت نے قرار دیا کہ کسی فرد کی اجازت کے بغیر اس کی آڈیو یا ویڈیو کو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنا پرائیویسی کی صریح خلاف ورزی ہے، جسے ریاست اور معاشرہ کسی صورت برداشت نہیں کر سکتے، اور ایسے عمل کے خلاف فوجداری اور دیوانی دونوں قانونی راستے اختیار کیے جا سکتے ہیں۔

غیر مجاز مواد کی اشاعت پر فوری قانونی ذمہ داری

عدالت نے قرار دیا کہ جیسے ہی یہ بات سامنے آئے کہ کوئی مواد غیر مجاز طور پر اپ لوڈ کیا گیا ہے، متعلقہ ریگولیٹری اداروں پر لازم ہے کہ وہ تاخیر کے بغیر کارروائی کریں، کیونکہ تاخیر بذاتِ خود متاثرہ شخص کے بنیادی حقوق کی نفی کے مترادف ہے۔

دھوکہ دہی کے ارادے کی تشریح

عدالت نے قرار دیا کہ قانون میں استعمال ہونے والی اصطلاح “دھوکہ دہی کے ارادے سے” کو اس طرح نہیں پڑھا جا سکتا کہ وہ ریگولیٹر کے ہاتھ باندھ دے، بلکہ اگر کسی آڈیو یا ویڈیو کا کوئی واضح ماخذ یا قانونی مقصد موجود نہ ہو تو دھوکہ دہی کا ارادہ خود بخود فرض کیا جائے گا۔

ثبوت کا بوجھ ملزم پر عائد ہونا

عدالت نے قرار دیا کہ جب غیر مجاز مواد کا اصل ماخذ اور قانونی جواز ثابت نہ ہو تو یہ ذمہ داری مواد اپ لوڈ کرنے والے پر عائد ہو گی کہ وہ یہ ثابت کرے کہ اس کا عمل بدنیتی پر مبنی نہیں تھا، نہ کہ متاثرہ شخص پر۔

متاثرہ شخص کی قانونی حیثیت

عدالت نے قرار دیا کہ جس شخص کے خلاف آڈیو یا ویڈیو لیک کی گئی ہو وہ ملزم نہیں بلکہ متاثرہ فریق ہے، اور محض سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے مواد کی بنیاد پر اسے کسی بھی قانونی کارروائی میں موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

الیکٹرانک شواہد کا سخت معیار

عدالت نے قرار دیا کہ اگرچہ الیکٹرانک مواد بطور ثبوت قابلِ قبول ہو سکتا ہے، مگر اس کا معیار عام دستاویزی یا زبانی شواہد سے کہیں زیادہ سخت ہے، اور ماخذ یا ملکیت کے بغیر کسی آڈیو یا ویڈیو کو قابلِ اعتماد ثبوت نہیں مانا جا سکتا۔
پاکستان سے اپ لوڈ ہونے والے مواد پر فوجداری کارروائی
عدالت نے قرار دیا کہ اگر غیر مجاز آڈیو یا ویڈیو پاکستان کی حدود سے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی گئی ہو تو پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی پر لازم ہے کہ وہ متعلقہ قوانین کے تحت فوری فوجداری کارروائی کو یقینی بنائے۔

بیرونِ ملک سے اپ لوڈ ہونے والے مواد کے خلاف اقدامات

عدالت نے قرار دیا کہ اگر مواد بیرونِ ملک سے اپ لوڈ کیا گیا ہو تو متعلقہ حکام کی ذمہ داری ہے کہ وہ یوٹیوب، فیس بک، ٹوئٹر اور دیگر پلیٹ فارمز کے منتظمین اور ریگولیٹرز کو رپورٹ کریں اور اس مواد کو ہٹوانے کے مؤثر اقدامات کریں۔

عوامی آگاہی اور شفافیت

عدالت نے قرار دیا کہ غیر مجاز مواد کے خلاف کیے گئے تمام اقدامات کو نہ صرف سرکاری ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے بلکہ عوام کے سامنے بھی ظاہر کیا جائے تاکہ شفافیت برقرار رہے اور آئندہ ایسے جرائم کی حوصلہ شکنی ہو۔


پرائیویسی کی خلاف ورزی بطور سنگین جرم

عدالت نے قرار دیا کہ کسی فرد کی اجازت کے بغیر اس کی آڈیو یا ویڈیو کو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنا پرائیویسی کی صریح خلاف ورزی ہے، جسے ریاست اور معاشرہ کسی صورت برداشت نہیں کر سکتے، اور ایسے عمل کے خلاف فوجداری اور دیوانی دونوں قانونی راستے اختیار کیے جا سکتے ہیں۔

غیر مجاز مواد کی اشاعت پر فوری قانونی ذمہ داری

عدالت نے قرار دیا کہ جیسے ہی یہ بات سامنے آئے کہ کوئی مواد غیر مجاز طور پر اپ لوڈ کیا گیا ہے، متعلقہ ریگولیٹری اداروں پر لازم ہے کہ وہ تاخیر کے بغیر کارروائی کریں، کیونکہ تاخیر بذاتِ خود متاثرہ شخص کے بنیادی حقوق کی نفی کے مترادف ہے۔

دھوکہ دہی کے ارادے کی تشریح

عدالت نے قرار دیا کہ قانون میں استعمال ہونے والی اصطلاح “دھوکہ دہی کے ارادے سے” کو اس طرح نہیں پڑھا جا سکتا کہ وہ ریگولیٹر کے ہاتھ باندھ دے، بلکہ اگر کسی آڈیو یا ویڈیو کا کوئی واضح ماخذ یا قانونی مقصد موجود نہ ہو تو دھوکہ دہی کا ارادہ خود بخود فرض کیا جائے گا۔

ثبوت کا بوجھ ملزم پر عائد ہونا

عدالت نے قرار دیا کہ جب غیر مجاز مواد کا اصل ماخذ اور قانونی جواز ثابت نہ ہو تو یہ ذمہ داری مواد اپ لوڈ کرنے والے پر عائد ہو گی کہ وہ یہ ثابت کرے کہ اس کا عمل بدنیتی پر مبنی نہیں تھا، نہ کہ متاثرہ شخص پر۔

متاثرہ شخص کی قانونی حیثیت

عدالت نے قرار دیا کہ جس شخص کے خلاف آڈیو یا ویڈیو لیک کی گئی ہو وہ ملزم نہیں بلکہ متاثرہ فریق ہے، اور محض سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے مواد کی بنیاد پر اسے کسی بھی قانونی کارروائی میں موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

الیکٹرانک شواہد کا سخت معیار

عدالت نے قرار دیا کہ اگرچہ الیکٹرانک مواد بطور ثبوت قابلِ قبول ہو سکتا ہے، مگر اس کا معیار عام دستاویزی یا زبانی شواہد سے کہیں زیادہ سخت ہے، اور ماخذ یا ملکیت کے بغیر کسی آڈیو یا ویڈیو کو قابلِ اعتماد ثبوت نہیں مانا جا سکتا۔
پاکستان سے اپ لوڈ ہونے والے مواد پر فوجداری کارروائی
عدالت نے قرار دیا کہ اگر غیر مجاز آڈیو یا ویڈیو پاکستان کی حدود سے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی گئی ہو تو پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی پر لازم ہے کہ وہ متعلقہ قوانین کے تحت فوری فوجداری کارروائی کو یقینی بنائے۔
بیرونِ ملک سے اپ لوڈ ہونے والے مواد کے خلاف اقدامات
عدالت نے قرار دیا کہ اگر مواد بیرونِ ملک سے اپ لوڈ کیا گیا ہو تو متعلقہ حکام کی ذمہ داری ہے کہ وہ یوٹیوب، فیس بک، ٹوئٹر اور دیگر پلیٹ فارمز کے منتظمین اور ریگولیٹرز کو رپورٹ کریں اور اس مواد کو ہٹوانے کے مؤثر اقدامات کریں۔
عوامی آگاہی اور شفافیت
عدالت نے قرار دیا کہ غیر مجاز مواد کے خلاف کیے گئے تمام اقدامات کو نہ صرف سرکاری ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے بلکہ عوام کے سامنے بھی ظاہر کیا جائے تاکہ شفافیت برقرار رہے اور آئندہ ایسے جرائم کی حوصلہ شکنی ہو۔
حمنا قاصر بمقابلہ چیئرمین، پیمرہ اور دیگر (تحقیقی درخواست نمبر 5076/2023) میں لاہور ہائی کورٹ نے پرائیویسی کی خلاف ورزی اور سوشل میڈیا پر غیر مجاز مواد کی اشاعت کے مسائل پر غور کیا۔ عدالت نے کہا کہ پرائیویسی کی خلاف ورزیوں کو مجرمانہ اور مدنی دونوں طریقوں سے حل کیا جانا چاہیے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ "دھوکہ دہی کے ارادے" کی اصطلاح کو ریگولیٹری کارروائی میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے اور بغیر اصل ماخذ یا قانونی مقصد کے مواد پر دھوکہ دہی کا ارادہ فرض کیا جائے گا۔ عدالت نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو ہدایت دی کہ وہ پاکستان سے اپ لوڈ کیے گئے مواد کے لیے مجرمانہ کارروائی کو یقینی بنائے اور غیر ملکی اپ لوڈز کے لیے اقدامات کی رپورٹ فراہم کرے۔ حکام کو ان اقدامات کو عوامی طور پر ظاہر کرنے کی ہدایت بھی دی گئی۔

لاہور کی عدالت میں حمنا قاصر نے پیمرہ اور دیگر حکام کے خلاف درخواست دائر کی، جس میں انہوں نے سوشل میڈیا پر غیر مجاز مواد کی اشاعت اور پرائیویسی کی خلاف ورزی پر احتجاج کیا۔ عدالت نے فیصلہ دیا کہ ایسے معاملات میں پی ٹی اے کو فوراً مجرمانہ کارروائی کرنی چاہیے اور مواد کے اصل ماخذ کے بغیر، دھوکہ دہی کے ارادے کو تسلیم کرتے ہوئے کارروائی کرنی چاہیے۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ اگر مواد غیر ملکی ویب سائٹس سے اپ لوڈ کیا گیا ہو تو متعلقہ ویب سائٹس کو رپورٹ کرکے اس کے ہٹانے کے اقدامات کو عوامی طور پر ظاہر کیا جائے۔ اس طرح عدالت نے پرائیویسی کی خلاف ورزی کے کیسز کے لیے واضح ہدایات فراہم کیں اور قانونی اقدامات کو یقینی بنایا۔

رٹ درخواست میں حمنا قاصر نے سوشل میڈیا پر غیر مجاز مواد کی اشاعت پر کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے پی ٹی اے سے درخواست کی کہ ایسے مواد کے خلاف فوری مجرمانہ کارروائی کی جائے اور اس کے ماخذ کی تصدیق کے بغیر دھوکہ دہی کا ارادہ مانا جائے۔

Must read judgement 



2024 M L D 243

[Lahore]

Before Shahid Jamil Khan, J

HAMNA QAISER---Petitioner

Versus

CHAIRMAN, PEMRA and others---Respondents

Writ Petition No. 5076 of 2023, decided on 2nd June, 2023.

Prevention of Electronic Crimes Act (XL of 2016)---

----S. 19---Phrase "with dishonest intention"---Scope---Unauthorized interruption---Breach of privacy---Uploading audio and video on social media---Original source, identification of---Petitioner was aggrieved of uploading of material on social media---Validity---Breach of privacy must be a felony and making such material public should be intolerable by the state by invoking criminal laws as well as by society by resorting to civil laws for damages---Laws dealing with electronic and print media were required to be reconciled and improved---Phrase "with dishonest intention" should not stop the regulator from taking action---In absence of source and legal purpose of using such material, dishonest intention was to be presumed and burden to proof otherwise would be on person committing such act---Regulator had to take prompt action under such provisions and then to ask for discharge of the burden of proof---Though electronic material was admissible as evidence but its standards were higher than the ordinary documentary and oral evidence---For ordinary documentary evidence, Court was to satisfy itself by examining the scribe and the person in possession of the document, otherwise such documentary evidence was not admissible---Any audio or video in absence of its source or ownership could not be taken as piece of evidence for proceedings against an accused---Person against whom such audio and video was leaked was a victim and not accused---High Court directed PTA to ensure criminal action, if such material was uploaded on social media from the territory of Pakistan---For any material uploaded from abroad, appropriate measures for getting such material removed must be intimated by reporting it to the handlers and regulators of respective websites or forums like Youtube, Twitter, Facebook etc.---High Court directed the authorities to make public the measures so taken besides making it an official record---Constitutional petition was adjourned accordingly.

       Ms. Rida Noor and Usman Sana Khan Ateeq for Petitioner.

       Mirza Nasar Ahmad, Additional Attorney General for Pakistan, Asad Ali Bajwa, Deputy Attorney General and Raja Kayani, Assistant Attorney General for Federation of Pakistan.

       Malik Sohail Murshad for Respondent No.5-Lahore News.

       Ch. Muhammad Usman for Respondent No.6-ARY News.

       Ghulam Abbas Haral for Respondent No.7-Dawn News.

 

For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.

































 































Post a Comment

Previous Post Next Post