stay order had expired and its violation was not proven.
![]() |
| Contempt on stay | In the writ petition, the court upheld the lower courts' decision and. |
عارضی حکمِ امتناعی کی خلاف ورزی اور اس کی مدت — ایک اہم عدالتی اصول
(2024 MLD 316، اسلام آباد ہائی کورٹ)
تمہید
سول مقدمات میں عارضی حکمِ امتناعی (Temporary Injunction) ایک نہایت اہم قانونی ریلیف ہے، مگر اس کے ساتھ ہی اس کی مدت، دائرۂ اثر اور خلاف ورزی کے ثبوت کے حوالے سے سخت اصول بھی لاگو ہوتے ہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ 2024 MLD 316 انہی اصولوں کو واضح کرتا ہے، خصوصاً اس نکتے پر کہ جب حکمِ امتناعی اپنی مدت پوری کر چکا ہو تو توہینِ عدالت یا خلاف ورزی کا الزام برقرار نہیں رہتا۔
مقدمے کے حقائق
درخواست گزاروں نے ایک سول دعویٰ دائر کیا جس میں:
اعلامیہ (Declaration)،
قبضہ،
منافعِ معقول (Mesne Profits)،
لازمی اور مستقل حکمِ امتناعی
طلب کیا گیا۔
عدالتِ ذیلی نے 05-12-2019 کو status quo کا عبوری حکم دیا، جس کی 28-01-2021 کو توثیق ہوئی۔ بعد ازاں درخواست گزاروں نے الزام لگایا کہ مدعا علیہ نے:
حکمِ امتناعی کی خلاف ورزی کی،
اور غیر قانونی تعمیرات کیں۔
اسی بنیاد پر Order XXXIX Rule 2(3) CPC کے تحت کارروائی کی درخواست دی گئی، جو ٹرائل کورٹ اور اپیلیٹ فورم دونوں سے خارج ہو گئی۔
بنیادی قانونی سوال
کیا:
حکمِ امتناعی مبینہ خلاف ورزی کے وقت موجود تھا؟
کیا خلاف ورزی یا نافرمانی ثابت کی جا سکی؟
عدالت کا تفصیلی تجزیہ
1️⃣ Status Quo کی تشریح
ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ:
عبوری حکم میں status quo کی تشریح خود حکم میں موجود تھی،
جس کے تحت صرف جائیداد کی منتقلی (alienation) سے روکا گیا تھا۔
درخواست گزاروں نے منتقلی کا کوئی الزام ہی عائد نہیں کیا۔
2️⃣ تعمیرات کا الزام اور شہادت
مدعا علیہ نمبر 1 نے حلفیہ جواب میں مؤقف اختیار کیا کہ:
صرف مرمت (repair) کی گئی،
کوئی نئی تعمیر نہیں کی گئی۔
درخواست گزاروں نے:
اس جواب کے خلاف affidavit-in-rejoinder داخل نہیں کیا،
لہٰذا یہ مؤقف ناقابلِ تردید رہا۔
نتیجہ: خلاف ورزی ثابت نہ ہو سکی۔
3️⃣ حکمِ امتناعی کی مدت (Order XXXIX Rule 2B CPC)
یہ فیصلہ اس نکتے پر نہایت اہم ہے:
عبوری حکم 05-12-2019
توثیق: 28-01-2021
قانون کے مطابق (O.39 R.2B CPC):
عارضی حکم کی زیادہ سے زیادہ مدت 6 ماہ ہے،
جب تک عدالت اس میں باقاعدہ توسیع نہ کرے۔
عدالت نے قرار دیا کہ:
28-01-2021 کا حکم 27-07-2021 کو خود بخود ختم ہو گیا،
کوئی توسیعی حکم ریکارڈ پر موجود نہیں تھا۔
4️⃣ توہینِ عدالت کا سوال
ہائی کورٹ نے واضح اصول بیان کیا:
جب مبینہ خلاف ورزی کے وقت کوئی مؤثر حکمِ امتناعی موجود ہی نہ ہو،
تو:
نہ تو Order XXXIX Rule 2(3) CPC لاگو ہو سکتا ہے،
نہ توہینِ عدالت کا تصور۔
حتمی فیصلہ
حکمِ امتناعی مبینہ خلاف ورزی کے وقت مؤثر نہیں تھا؛
خلاف ورزی کا الزام ثبوت سے ثابت نہیں ہوا؛
ٹرائل کورٹ اور اپیلیٹ عدالت کے فیصلے درست قرار پائے؛
آئینی درخواست خارج کر دی گئی۔
اہم قانونی اصول (Key Takeaways)
عارضی حکمِ امتناعی ہمیشہ محدود مدت کے لیے ہوتا ہے۔
Order XXXIX Rule 2B CPC کے تحت:
6 ماہ بعد حکم خود بخود ختم ہو جاتا ہے،
جب تک عدالت باقاعدہ توسیع نہ دے۔
Status quo کا مطلب وہی ہوگا جو حکم میں واضح کیا گیا ہو۔
محض الزام کافی نہیں، خلاف ورزی کا ٹھوس ثبوت لازم ہے۔
مؤثر حکم کے بغیر توہینِ عدالت کی کارروائی نہیں چل سکتی۔
نتیجہ
یہ فیصلہ وکلاء اور سائلین دونوں کے لیے ایک واضح تنبیہ ہے کہ:
عارضی حکمِ امتناعی پر انحصار کرتے وقت اس کی مدت اور توسیع پر کڑی نظر رکھنا ناگزیر ہے،
بصورتِ دیگر نہ صرف قانونی تحفظ ختم ہو جاتا ہے بلکہ بعد کی تمام کارروائیاں بھی غیر مؤثر ہو سکتی ہیں۔
اگر آپ چاہیں تو میں اسی فیصلے پر:
نچلی عدالتوں نے درخواست گزاروں کی توہین عدالت کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ ٹرائل کورٹ نے قرار دیا تھا کہ حکم امتناع کی خلاف ورزی ثابت نہیں ہوئی کیونکہ عبوری حکم صرف جائیداد کی منتقلی سے متعلق تھا، اور مدعا علیہان نے کہا کہ انہوں نے صرف مرمت کا کام کیا ہے، نئی تعمیرات نہیں کیں۔ درخواست گزاروں نے اس کے خلاف کوئی ثبوت پیش نہیں کیا اور نہ ہی کوئی حلف نامہ داخل کیا۔ اپیل کورٹ نے بھی ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے درخواست مسترد کر دی تھی۔
اس کیس کی کہانی
یہ ہے کہ آفتاب احمد خان اور دیگر نے دلاور خان اور دو دیگر افراد کے خلاف ایک مقدمہ دائر کیا، جس میں جائیداد کی ملکیت، میزان منافع کی وصولی، قبضے کی بحالی، اور مستقل حکم امتناع کا مطالبہ کیا گیا۔ عدالت نے عبوری حکم جاری کیا تھا جس کے تحت مدعا علیہان کو جائیداد کی فروخت یا منتقلی سے روکا گیا تھا۔ درخواست گزاروں نے الزام لگایا کہ مدعا علیہان نے اس حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر قانونی تعمیرات کیں، لیکن مدعا علیہان نے کہا کہ وہ صرف مرمت کر رہے تھے، تعمیر نہیں۔ چونکہ درخواست گزاروں نے اس کے خلاف کوئی ثبوت یا حلف نامہ جمع نہیں کروایا اور حکم امتناع کی مدت بھی ختم ہو چکی تھی، اس لیے عدالت نے درخواست گزاروں کا دعویٰ مسترد کر دیا۔
یہ مقدمہ آفتاب احمد خان اور ایک دوسرے بمقابلہ دلاور خان اور دو دیگر کے عنوان سے ہے، جو 9 دسمبر 2022 کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس سمن رفعت امتیاز کے سامنے سنا گیا۔
اہم قانونی نکات:
درخواست گزاروں نے ایک رٹ پٹیشن دائر کی تھی جس میں:
اعلامیہ (ڈیکلریشن)
میزان منافع (مِنز پرافٹ) کی وصولی
قبضہ
لازمی اور مستقل حکم امتناعی (انجکشن) شامل تھے۔
درخواست گزاروں نے الزام لگایا کہ عدالت کے جاری کردہ حکم امتناع (اسٹے آرڈر) کی خلاف ورزی کی گئی ہے، کیونکہ مدعا علیہان نے متنازعہ جائیداد پر غیر قانونی تعمیرات کیں۔
اہم قانونی نکات:
1. حکم امتناع کی تشریح
: ٹرائل کورٹ نے یہ قرار دیا کہ عبوری حکم میں صرف مدعا علیہان کو جائیداد کی منتقلی سے روکا گیا تھا، نہ کہ مرمت کرنے سے۔
This case is titled Aftab Ahmed Khan and another v. Dilawar Khan and 2 others, decided on 9th December 2022, by Justice Saman Rafat Imtiaz in the Islamabad High Court.
Key Legal Issues:
The petitioners filed a writ petition in a case involving a suit for:
Declaration
Recovery of mesne profits
Possession
Mandatory and permanent injunction
They alleged that there was disobedience or breach of a stay order issued by the court, as the respondents had engaged in illegal construction on the disputed property.
Key Legal Points:
1. Interpretation of Stay Order: The trial court found that the stay order (ad-interim) only restrained the respondents from alienating the property, not from making repairs. The respondent's stance, stating that only repair work was done, remained unchallenged by the petitioners, as they did not submit a rejoinder or counter-affidavit.
2. Expiry of Stay Order: The court noted that the stay order dated 5th December 2019, which had been confirmed on 28th January 2021, had a validity of six months under Order XXXIX, Rule 2B, Civil Procedure Code (CPC). It expired on 27
Must read Judgement
2024 M L D 316
