Pre-emption |The Supreme Court rejected the right of intercession. The buyer bought the land and bequeathed it to his sons. 2024 S C M R 105.
![]() | ||
| حق شفعہ |
حقِ شفعہ اور ھبہ: فروخت کے بغیر شفعہ کا حق پیدا نہیں ہوتا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس اہم فیصلے میں واضح کر دیا ہے کہ حقِ شفعہ صرف فروخت (Sale) کی صورت میں پیدا ہوتا ہے، جبکہ ھبہ (Gift) حقِ شفعہ کو جنم نہیں دیتا۔ عدالت نے خیبر پختونخوا پری ایمپشن ایکٹ 1987 کی دفعات 2(d) اور 13 کی تشریح کرتے ہوئے اس اصول کو مزید مستحکم کیا۔
قانونی پس منظر
خیبر پختونخوا پری ایمپشن ایکٹ 1987 کے تحت:
دفعہ 2(d) میں "فروخت" کی تعریف دی گئی ہے
اس تعریف میں ھبہ شامل نہیں
لہٰذا، جہاں زمین کی منتقلی ھبہ کے ذریعے ہو، وہاں شفعہ کا حق پیدا نہیں ہوتا۔
کیس کے حقائق
زیرِ نظر مقدمے میں:
زمین پہلے ایک شخص “M” کو فروخت کی گئی
اس فروخت کے فوراً بعد، اور شفعہ کی کارروائی سے قبل
“M” نے وہی زمین اپنے بیٹوں (موجودہ اپیلنٹس) کے نام ھبہ کے ذریعے منتقل کر دی
اہم قانونی اصول
عدالت نے واضح کیا کہ:
کوئی بھی شخص قانونِ شفعہ سے بچنے کے لیے جائز اور قانونی طریقے اختیار کر سکتا ہے
جیسے:
ھبہ
تبادلہ (Exchange)
یہ طریقے اگر بظاہر قانونی ہوں تو محض اس بنیاد پر کالعدم نہیں ہو سکتے۔
پری ایمپٹر کی قانونی ذمہ داری
اگر پری ایمپٹر یہ مؤقف اختیار کرتا کہ:
دوسری منتقلی درحقیقت فروخت ہے جسے ھبہ کا نام دیا گیا تاکہ شفعہ کا حق ختم کیا جا سکے
اور اس نے دوسری منتقلی کے خلاف بھی تمام Talbs (طلبِ شفعہ) پوری کی ہیں
تو معاملہ مختلف ہو سکتا تھا۔
Talb کی عدم تکمیل — مقدمہ ناکام
عدالت نے قرار دیا کہ:
مدعی نے:
نہ تو دوسری منتقلی (ھبہ) کے خلاف کوئی Talb کی
نہ ہی Talb-i-Ishhad کا نوٹس اپیلنٹس کو دیا
یہ قانونی خامی اس کے مقدمے کے لیے مہلک (Fatal) ثابت ہوئی۔
عدالتی نتیجہ
سپریم کورٹ نے اپیل منظور کر لی
ریویژنل کورٹ کا وہ حکم بحال کر دیا جس کے ذریعے:
مدعی کا دعویٰ مسترد کیا گیا تھا
قانونی خلاصہ
🔹 حقِ شفعہ صرف فروخت سے پیدا ہوتا ہے، ھبہ سے نہیں
🔹 ھبہ ایک جائز ذریعہ ہے جس سے شفعہ کے قانون سے بچا جا سکتا ہے
🔹 اگر ھبہ کو فروخت قرار دینا مقصود ہو تو:
اس کے خلاف باقاعدہ Talbs لازم ہیں
🔹 Talb کی عدم تکمیل شفعہ کے دعویٰ کو ناکام بنا دیتی ہے
Must read judgement
2024 S C M R 105
Tags
pre-emption
