G-KZ4T1KYLW3 Banker reinstated | The Supreme Court set aside the High Court's compulsory retirement decision and ordered the bank employee to be reinstated to a lower grade and to be given all back and pension benefits from termination to retirement, stating that the punishment was proportionate to the nature of the offence. Should be. 2024 S C M R 92

Banker reinstated | The Supreme Court set aside the High Court's compulsory retirement decision and ordered the bank employee to be reinstated to a lower grade and to be given all back and pension benefits from termination to retirement, stating that the punishment was proportionate to the nature of the offence. Should be. 2024 S C M R 92

Banker reinstated  | The Supreme Court set aside the High Court's compulsory retirement decision and ordered the bank employee to be reinstated to a lower grade.





----ملازم پر عائد کردہ سزا---تناسب---سزا جرم کے مطابق ہونی چاہیے---جدید تصور کے مطابق سزا کا تعین جرم کی اخلاقی ذمہ داری کے تناسب سے کیا جانا چاہیے۔


تمہید

سپریم کورٹ آف پاکستان کا فیصلہ 2024 SCMR 92 ملازم پر عائد کی جانے والی سزا، اس کی نوعیت اور جرم کے ساتھ اس کے تناسب (Proportionality) کے حوالے سے ایک نہایت اہم نظیر ہے۔ اس فیصلے میں عدالتِ عظمیٰ نے واضح کیا کہ محض غفلت ثابت ہونے کی صورت میں انتہائی سخت سزائیں دینا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے، خصوصاً جب ملازم کا ماضی کا کیریئر بے داغ ہو اور اس پر بددیانتی یا غبن ثابت نہ ہو۔

مقدمے کا پس منظر

یہ مقدمہ ایک نجی بینک کی ملازمہ، مسز شاہدہ صدیقہ، سے متعلق ہے جو تقریباً 28 سال تک بینک میں خدمات انجام دیتی رہیں۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنی غفلت اور لاپرواہی کے باعث ایک خفیہ کوڈ اپنے سابق بینک مینیجر کو فراہم کیا، جس کے نتیجے میں بینک کو مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ تاہم، ان پر براہِ راست غبن یا رقم خردبرد کرنے کا الزام ثابت نہ ہو سکا۔
بینک انتظامیہ نے اس بنیاد پر انہیں ملازمت سے برطرف کر دیا، جو کہ ایک بڑی سزا تھی۔

لیبر کورٹ اور اپیلیٹ ٹربیونل کا فیصلہ

لیبر کورٹ نے یہ قرار دیا کہ اپیل کنندہ غفلت کی مرتکب ضرور ہوئی ہیں، لیکن غبن یا بددیانتی کا الزام ثابت نہیں ہوتا۔ اس بنیاد پر لیبر کورٹ نے انہیں ملازمت میں بحال کرنے کا حکم دیا، تاہم کم درجے (Lower Grade) میں تنزلی کے ساتھ، اور سابقہ فوائد دینے سے انکار کر دیا۔ اپیلیٹ ٹربیونل نے لیبر کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا۔

ہائی کورٹ کا متنازع فیصلہ

لاہور ہائیکورٹ نے لیبر کورٹ اور اپیلیٹ ٹربیونل کے فیصلے میں ترمیم کرتے ہوئے اپیل کنندہ کو لازمی ریٹائرمنٹ (Compulsory Retirement) کی سزا دے دی۔ ہائی کورٹ نے ایک طرف یہ مشاہدہ کیا کہ اپیل کنندہ کا 28 سالہ کیریئر بے داغ ہے اور اسے ملازمت سے نکالنا ایک سخت سزا ہوگی، لیکن دوسری طرف لازمی ریٹائرمنٹ کو مناسب قرار دے دیا۔
سپریم کورٹ کے مطابق، یہ مشاہدات باہم متضاد تھے اور انصاف کے اصولوں کو تقویت دینے کے بجائے ان کی نفی کرتے تھے۔

سپریم کورٹ میں بنیادی قانونی سوال

سپریم کورٹ کے سامنے اصل سوال یہ تھا کہ آیا محض غفلت ثابت ہونے کی صورت میں، جبکہ غبن یا بددیانتی کا الزام ثابت نہ ہو، کسی ملازم کو لازمی ریٹائرمنٹ جیسی بڑی سزا دینا قانونی اور منصفانہ ہے یا نہیں، اور آیا سزا جرم کی نوعیت اور شدت کے تناسب سے ہم آہنگ ہے۔

سزا اور تناسب کا اصول

سپریم کورٹ نے جدید قانونی اصول Proportionality کو تفصیل سے بیان کرتے ہوئے واضح کیا کہ سزا ہمیشہ جرم کی نوعیت اور اس سے وابستہ اخلاقی ذمہ داری کے تناسب سے دی جانی چاہیے۔ عدالت کے مطابق، جہاں محض غفلت ثابت ہو اور بددیانتی کا عنصر موجود نہ ہو، وہاں سخت ترین سزائیں دینا انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔

لازمی ریٹائرمنٹ پر سپریم کورٹ کا مؤقف

عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ لازمی ریٹائرمنٹ بذاتِ خود ایک بڑی اور سخت سزا ہے، جو ملازم کے کیریئر، وقار اور مالی حقوق پر گہرے اثرات ڈالتی ہے۔ ایسے حالات میں، جب اپیل کنندہ کا طویل کیریئر بے داغ ہو اور صرف غفلت ثابت ہو، لازمی ریٹائرمنٹ دینا یقیناً سخت سلوک کے مترادف ہوگا۔

سپریم کورٹ کا حتمی فیصلہ

سپریم کورٹ نے اپیل کو جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ منسوخ کر دیا۔ عدالت نے لیبر کورٹ اور اپیلیٹ ٹربیونل کے فیصلے کو اس حد تک برقرار رکھا کہ اپیل کنندہ کو کم درجے میں تنزلی دی جائے، تاہم اس میں اہم ترمیم کرتے ہوئے یہ قرار دیا کہ اپیل کنندہ کو برطرفی کی تاریخ سے ریٹائرمنٹ کی تاریخ تک گریڈ-III افسر کے طور پر تمام سابقہ فوائد دیے جائیں گے، اور وہ اسی گریڈ کے تحت پنشن اور دیگر ریٹائرمنٹ فوائد کی بھی حقدار ہوں گی۔

عدالتی نظائر کا حوالہ

اس فیصلے میں سپریم کورٹ نے سابقہ نظائر، بشمول 2006 SCMR 63، 2016 SCMR 1430 اور 2023 SCMR 803 پر انحصار کیا، جن میں یہ اصول تسلیم کیا گیا کہ سزا کا تعین ہمیشہ جرم کے اخلاقی اور قانونی پہلوؤں کو مدنظر رکھ کر کیا جانا چاہیے۔

قانونی و عملی اہمیت

یہ فیصلہ ملازم اور آجر کے تعلقات میں توازن، انصاف اور تناسب کے اصول کو مضبوط کرتا ہے۔ اس فیصلے سے یہ اصول واضح ہوتا ہے کہ ہر غلطی بددیانتی نہیں ہوتی، اور ہر غفلت سخت ترین سزا کی متقاضی نہیں ہوتی۔ عدالتوں اور اداروں پر لازم ہے کہ وہ سزا دیتے وقت ملازم کے ماضی، جرم کی نوعیت اور اس کے اثرات کو مجموعی طور پر مدنظر رکھیں۔



2024 S C M R 92

[سپریم کورٹ آف پاکستان]

حاضر: سید منصور علی شاہ، سید مظہر علی اکبر نقوی اور عرفان سعادت خان، ججز

مسز شاہدہ صدیقہ اور دیگر---اپیل کنندگان

بنام

الائیڈ بینک لمیٹڈ بذریعہ صدر اور دیگر---مدعا علیہان

سول اپیلز نمبر 836-ایل اور 837-ایل برائے 2013، فیصلہ 14 نومبر 2023 کو سنایا گیا۔

(لاہور ہائی کورٹ، لاہور کے 16.1.2013 کے فیصلے کے خلاف، جو W.Ps. نمبر 25273 اور 23756 برائے 2011 میں سنایا گیا تھا)

(a) پنجاب انڈسٹریل ریلیشنز ایکٹ (XIX برائے 2010)---

----سیکشن 47(3)---نجی بینک کی ملازمہ---غفلت اور لاپرواہی کا الزام---نچلے درجے پر تنزلی کے ساتھ تمام سابقہ فوائد کا حق---مدعا علیہ بینک نے اپیل کنندہ (ملازمہ) پر بڑی سزا عائد کرتے ہوئے اسے ملازمت سے برطرف کر دیا---لیبر کورٹ نے اسے بینک میں دوبارہ بحال کر دیا، لیکن نچلے گریڈ کے ساتھ اور سابقہ فوائد دینے سے انکار کر دیا---اپیلیٹ ٹربیونل نے لیبر کورٹ کے حکم کو برقرار رکھا---تاہم ہائی کورٹ نے سزا کو لازمی ریٹائرمنٹ میں تبدیل کر دیا---قانونی حیثیت---اپیل کنندہ پر الزام تھا کہ اس نے اپنے سابق بینک منیجر کو خفیہ کوڈ بتایا تھا، جس نے بینک کو دھوکہ دیا اور بڑی رقم غبن کی---ہائی کورٹ کا فیصلہ خود متضاد دکھائی دیتا ہے کیونکہ عدالت نے پہلے کہا کہ اپیل کنندہ کا 28 سالہ کیریئر بے داغ تھا اور اسے ملازمت سے نکالنا ایک سخت سزا ہوگی؛ لیکن پھر اپیل کنندہ کو لازمی ریٹائرمنٹ کی سزا دینا مناسب سمجھا---ایسے مشاہدات انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی بجائے ان کی نفی کرتے ہیں، کیونکہ لازمی ریٹائرمنٹ دینا اپیل کنندہ کے ساتھ سخت سلوک کرنے کے مترادف ہوگا---لیبر کورٹ اور اپیلیٹ ٹربیونل نے اپیل کنندہ کو غفلت کا مرتکب پایا تھا، لیکن غبن کے الزامات میں کوئی وزن نہیں دیکھا، اس لیے لازمی ریٹائرمنٹ کی بڑی سزا دینا یقیناً سخت ہوگا---اپیل جزوی طور پر منظور کی گئی، ہائی کورٹ کا فیصلہ منسوخ کیا گیا، اور لیبر کورٹ اور اپیلیٹ ٹربیونل کے فیصلے کو نچلے درجے کی تنزلی تک برقرار رکھا گیا؛ اس ترمیم کے ساتھ کہ اپیل کنندہ کو برطرفی کی تاریخ سے ریٹائرمنٹ کی تاریخ تک گریڈ-III افسر کے طور پر تمام سابقہ فوائد ملیں گے اور اسے اس گریڈ کے تحت پنشن کے تمام فوائد بھی ملیں گے۔

(b) ماسٹر اور ملازم---

----ملازم پر عائد کردہ سزا---تناسب---سزا جرم کے مطابق ہونی چاہیے---جدید تصور کے مطابق سزا کا تعین جرم کی اخلاقی ذمہ داری کے تناسب سے کیا جانا چاہیے۔


2024 S C M R 92

[Supreme Court of Pakistan]

Present: Syed Mansoor Ali Shah, Sayyed Mazahar Ali Akbar Naqvi and Irfan Saadat Khan, JJ

Mst. SHAHIDA SIDDIQA and others---Appellants

Versus

ALLIED BANK LIMITED through President and others---Respondents

Civil Appeals Nos. 836-L and 837-L of 2013, decided on 14th November, 2023.

            (Against the judgment dated 16.1.2013 passed by Lahore High Court, Lahore in W.Ps. Nos. 25273 and 23756 of 2011)

(a) Punjab Industrial Relations Act (XIX of 2010)---

----S. 47(3)---Employee of a private bank---Allegation of negligence and carelessness in performing duties---Demotion to a lower grade with entitlement to all back benefits---Respondent Bank imposed a major penalty on the appellant (employee) and dismissed her from service---Labour Court reinstated her in the Bank's service albeit with a lower Grade, and declined to award her any back benefits---Appellate Tribunal, upheld the order of the Labour Court---However, the High Court modified the penalty to compulsory retirement---Validity---Main allegation against the appellant was that she had been negligent in performing her duties by disclosing a secret code to her former Bank Manager,  who defrauded the Bank and misappropriated hefty amounts---Impugned Judgment of the High Court appeared to be self-contradictory as the High Court had first observed that the appellant had an unblemished past career, spanning over 28 years, and that her dismissal from service would be a harsh punishment; and yet, the High Court found it appropriate to then observe that the appellant be compulsory retired from service---Such observations of the High Court in fact defeat the ends of justice rather than fostering the same, as awarding compulsory retirement would be equivalent to meting out harsh treatment to her---Given the fact that the Labour Court and the Appellate Tribunal found the appellant negligent of not properly keeping the secret code but did not see any merit in the allegations of embezzlement, the imposition of a major penalty of compulsory retirement from service would definitely be harsh---Appeal was partly allowed, impugned judgment of the High Court was set-aside, and judgments of the Labour Court and Appellate Tribunal were upheld to the extent of the demotion to a lower grade; with the modification that the appellant will be entitled to all back benefits as available to a Grade-III Officer, from the date of her dismissal to the date of her retirement, and she will also be entitled to all the pensionary benefits as available to the said Grade Officer.

       Saifullah v. Divisional Superintendent, Postal Services 2016 SCMR 1430 and Auditor-General of Pakistan v. Muhammad Ali 2006 SCMR 63 ref.

(b) Master-servant---

----Penalty imposed on employee---Proportionality---Penalty should be proportionate to the guilt---Modern notion of proportionality requires that the punishment ought to reflect the degree of moral culpability associated with the offence for which it is imposed.

       Divisional Superintendent, Postal Services v. Nadeem Raza 2023 SCMR 803 ref.

            Appellants in Person (in C.A. No. 836-L of 2013).

            Farooq Zaman Qureshi, Advocate Supreme Court (through video link from Lahore) for Appellants (in C.A. No. 837-L of 2013).

            Farooq Zaman Qureshi, Advocate Supreme Court (through video link from Lahore) for Respondents (in C.A. No. 836-L of 2013).

            Respondents in person (in C.A. No. 837-L of 2013).

 


For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.


































 































Post a Comment

Previous Post Next Post