Koi bhi muqadma ju ke nikah nama ke indraj ke bare main hu us ko family court ma hi chalaya jai ga.
![]() |
| Koi bhi muqadma ju ke nikah nama ke indraj ke bare main hu us ko family court ma hi chalaya jai ga. |
تمہید
پاکستان میں خاندانی قوانین کے نفاذ اور ان کی مؤثر عملداری کے لیے فیملی کورٹس ایکٹ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ نکاح نامہ چونکہ خاندانی تعلق کی بنیاد اور قانونی دستاویز ہے، اس لیے اس میں درج اندراجات کو چیلنج کرنے سے متعلق دائر مقدمات کی نوعیت ہمیشہ ایک اہم قانونی سوال رہی ہے۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ 2023 SCMR 1002 اسی پس منظر میں ایک فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔
نکاح نامہ کی قانونی حیثیت
نکاح نامہ محض ایک سماجی دستاویز نہیں بلکہ ایک قانونی معاہدہ ہے، جس کے اندراجات فریقین کے حقوق و فرائض کا تعین کرتے ہیں۔ حقِ مہر، نکاح کی شرائط، وکالتِ طلاق اور دیگر اہم امور نکاح نامہ کے ذریعے طے پاتے ہیں، اس لیے اس میں کسی بھی اندراج کو چیلنج کرنا براہِ راست خاندانی تعلق اور ازدواجی حقوق سے جڑا ہوتا ہے۔
فیملی کورٹس ایکٹ 1964 میں 2015 کی ترمیم
سال 2015 میں فیملی کورٹس ایکٹ میں کی گئی ترمیم کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ خاندانی نوعیت کے تمام تنازعات ایک ہی فورم یعنی فیملی کورٹ میں نمٹائے جائیں۔ اس ترمیم کے بعد قانون ساز کا واضح ارادہ یہ تھا کہ نکاح، طلاق، مہر، نان نفقہ اور ان سے متعلقہ تمام معاملات کو فیملی کورٹ کے دائرہ اختیار میں لایا جائے۔
2023 SCMR 1002 کا بنیادی اصول
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے 2023 SCMR 1002 میں یہ اصول واضح کر دیا کہ نکاح نامہ کے کسی بھی اندراج کو چیلنج کرنے والا ہر مقدمہ، خواہ وہ 2015 کی ترمیم سے قبل دائر کیا گیا ہو یا بعد میں، فیملی سوٹ تصور ہو گا۔ ایسے تمام مقدمات لازمی طور پر فیملی کورٹ میں سنے جائیں گے، چاہے وہ کسی اور عدالت میں زیرِ سماعت ہی کیوں نہ ہوں۔
دائرہ اختیار سے متعلق قانونی وضاحت
عدالتِ عظمیٰ نے یہ بھی قرار دیا کہ اگر نکاح نامہ کے اندراجات سے متعلق کوئی مقدمہ کسی سول عدالت یا کسی اور فورم پر زیرِ سماعت ہو تو وہ قانوناً فیملی کورٹ کو منتقل شدہ تصور کیا جائے گا یا باضابطہ طور پر فیملی کورٹ منتقل کیا جائے گا۔ اس سے دائرہ اختیار کے بارے میں پیدا ہونے والا ابہام مکمل طور پر ختم ہو جاتا ہے۔
زیرِ سماعت مقدمات پر اطلاق
یہ فیصلہ نہ صرف آئندہ دائر ہونے والے مقدمات پر لاگو ہوتا ہے بلکہ ان مقدمات پر بھی اثر انداز ہوتا ہے جو پہلے ہی کسی عدالت میں زیرِ سماعت تھے۔ سپریم کورٹ نے واضح کر دیا کہ زیرِ التوا مقدمات بھی اسی اصول کے تحت فیملی کورٹ میں چلائے جائیں گے، تاکہ ایک ہی نوعیت کے معاملات مختلف فورمز پر تقسیم نہ ہوں۔
عدالتی نظام میں یکسانیت کا فروغ
اس فیصلے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اس نے خاندانی مقدمات کے لیے عدالتی نظام میں یکسانیت پیدا کر دی ہے۔ اب نکاح نامہ سے متعلق کسی بھی تنازع کو سول نوعیت کا مقدمہ قرار دے کر فیملی کورٹ کے دائرہ اختیار سے باہر نہیں رکھا جا سکتا، جس سے فورم شاپنگ کا راستہ بند ہو گیا ہے۔
عملی قانونی اثرات
اس فیصلے کے بعد وکلا، سائلین اور عدالتوں کے لیے یہ امر واضح ہو گیا ہے کہ نکاح نامہ کے اندراجات کو چیلنج کرنے کا واحد فورم فیملی کورٹ ہے۔ اس سے نہ صرف وقت اور وسائل کی بچت ہو گی بلکہ خاندانی تنازعات کے جلد اور مؤثر حل میں بھی مدد ملے گی۔
نتیجہ
2023 SCMR 1002 ایک رہنما فیصلہ ہے جو فیملی کورٹس ایکٹ 1964 کی روح اور 2015 کی ترمیم کے اصل مقصد کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔ سپریم کورٹ نے واضح کر دیا ہے کہ نکاح نامہ سے متعلق ہر تنازع خاندانی نوعیت کا ہے اور اسے لازماً فیملی کورٹ میں ہی سنا اور طے کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ خاندانی عدالتی نظام کو مضبوط بنانے اور قانونی ابہام کے خاتمے میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
نتیجہ اور فیملی کورٹ کا دائرہ اختیار۔
2023 SCMR 1002
کے مطابق، اگر کوئی مقدمہ نکاح نامے کے کسی اندراج کو چیلنج کرتا ہے اور یہ مقدمہ 2015 میں فیملی کورٹس ایکٹ میں ترمیم کے بعد دائر کیا گیا ہے یا زیرِ سماعت ہے، تو اس مقدمے کو فیملی سوٹ سمجھا جائے گا اور اسے فیملی کورٹ میں چلایا جائے گا، یا اگر پہلے ہی فیملی کورٹ میں زیرِ سماعت ہے تو اس کا مقدمہ فیملی کورٹ میں ہی جاری رہے گا۔ اس ترمیم کا مقصد خاندانی معاملات کو فیملی کورٹس میں مرکوز کرنا ہے۔
2023 SCMR 1002 کے تحت، نکاح نامے کے کسی اندراج کے خلاف دائر کردہ مقدمے کو فیملی کورٹ میں چلایا جائے گا، چاہے مقدمہ 2015 کی ترمیم کے بعد دائر کیا گیا ہو یا پہلے سے زیرِ سماعت ہو۔
Must read judgement
2023 SCMR 1002
Any suit pointing a finger at any entry of the Nikahnama instituted before and pending trial or filed subsequent to the amendment of 2015 in Family Courts Act shall be deemed to have been filed as a family suit and to be tried or transferred or deemed to have been transferred to a family court if already being tried by such court.
The 2023 SCMR 1002 refers to a legal decision in Pakistan's Supreme Court. This ruling highlights that any suit challenging entries in a Nikahnama (marriage contract) filed before or after the 2015 amendment to the Family Courts Act will be treated as a family suit. As a result, it should be tried, transferred, or deemed to have been transferred to a family court if it's already under consideration there. The amendment aimed to streamline the handling of family-related legal issues by centralizing them in family courts.
