G-KZ4T1KYLW3 Family courts jurisdiction .

Family courts jurisdiction .

Family courts jurisdiction .

Family courts jurisdiction .


یہ فیصلہ  فیملی کورٹس کی دائرہ اختیار کو واضح کرتا ہے، جیسا کہ فیملی کورٹس ایکٹ، 1964 میں درج ہے۔ یہاں اس کا خلاصہ درج ہے:


تمہید

PLD 2023 Lahore 433 میں لاہور ہائی کورٹ نے فیملی کورٹس ایکٹ 1964 کے دائرۂ اختیار، خصوصاً نابالغ بچوں کی حضانت اور والدین کے ملاقات کے حقوق کے حوالے سے قانون کو نہایت وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اس فیصلے میں یہ اصول مضبوط کیا گیا کہ حضانتِ طفل کے معاملات میں فیملی کورٹ کا دائرۂ اختیار خصوصی اور بالادست ہے۔

فیملی کورٹس ایکٹ 1964 کا مقصد

عدالت نے قرار دیا کہ فیملی کورٹس ایکٹ 1964 کا بنیادی مقصد خاندانی تنازعات، شادی اور خاندانی امور سے متعلق مقدمات کا فوری، مؤثر اور آسان تصفیہ ہے۔ یہ قانون مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 اور کنسیلی ایشن کورٹس آرڈیننس 1961 کے تابع رہتے ہوئے نافذ کیا گیا ہے۔
فیملی کورٹس کا خصوصی دائرۂ اختیار
فیملی کورٹس ایکٹ کے شیڈول کے حصہ اوّل میں جن معاملات کو شامل کیا گیا ہے، ان پر فیملی کورٹ کو خصوصی دائرۂ اختیار حاصل ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ان معاملات میں کسی اور عدالت کو مداخلت کا اختیار حاصل نہیں۔

بچوں کی حضانت اور ملاقات کے حقوق

شیڈول کے حصہ اوّل کی اندراج نمبر پانچ کے تحت بچوں کی حضانت اور والدین کے ملاقات کے حقوق واضح طور پر فیملی کورٹ کے دائرۂ اختیار میں شامل ہیں۔ لہٰذا نابالغ بچوں کی تحویل یا ملاقات سے متعلق تمام تنازعات فیملی کورٹ ہی میں طے کیے جائیں گے۔

گارڈین شپ کے معاملات

اندراج نمبر چھ کے تحت گارڈین شپ کے معاملات بھی فیملی کورٹ کے اختیار میں دیے گئے ہیں۔ اس ضمن میں عدالت نے نشاندہی کی کہ بچوں کی سرپرستی اور حضانت کے معاملات آپس میں مربوط ہیں اور ان کا فیصلہ ایک ہی فورم پر ہونا چاہیے۔

سیکشن 25 فیملی کورٹس ایکٹ

عدالت نے سیکشن 25 فیملی کورٹس ایکٹ 1964 کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ فیملی کورٹ کو گارڈینز اینڈ وارڈز ایکٹ 1890 کے مقاصد کے لیے ڈسٹرکٹ کورٹ تصور کیا جائے گا۔ اس شق کے تحت فیملی کورٹ کو وہی اختیارات حاصل ہیں جو عام طور پر ڈسٹرکٹ کورٹ کو حاصل ہوتے ہیں۔

گارڈین جج کے دائرۂ اختیار کی نفی

عدالت نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ سیکشن 1 کی ذیلی دفعات میں بیان کردہ چند محدود استثنائی صورتوں کے علاوہ، حضانتِ طفل کے معاملات میں گارڈین جج یا کوئی اور عدالت دائرۂ اختیار نہیں رکھتی۔ ایسے تمام مقدمات صرف فیملی کورٹ کے روبرو ہی قابلِ سماعت ہیں۔

قانونی اصول کا خلاصہ

اس فیصلے سے یہ اصول واضح ہوتا ہے کہ نابالغ بچوں کی حضانت، تحویل اور ملاقات کے حقوق سے متعلق تنازعات میں فیملی کورٹ واحد مجاز فورم ہے، اور کسی متبادل عدالت سے رجوع کرنا قانون کے منافی ہوگا۔

نتیجہ

PLD 2023 Lahore 433 فیملی لاء کے حوالے سے ایک اہم نظیر ہے جو اس امر کی تصدیق کرتی ہے کہ حضانتِ طفل کے معاملات میں فیملی کورٹ کا دائرۂ اختیار خصوصی، حتمی اور دیگر تمام عدالتوں پر فوقیت رکھتا ہے۔



1. **فیملی کورٹس ایکٹ، 1964 کا مقصد**

: اس قانون کا مقصد شادی اور خاندان کے امور سے متعلق تنازعات کو جلدی حل کرنے کے لیے فیملی کورٹس قائم کرنا ہے۔

2. **دائرہ اختیار

**: فیملی کورٹس کو بچوں کی تحویل، ملاقات کے حقوق اور سرپرستی سے متعلق امور پر خصوصی دائرہ اختیار حاصل ہے، جیسا کہ ایکٹ کے شیڈول میں درج ہے۔

3. **خصوصی دفعات**:

   - **بچوں کی تحویل**

: فیملی کورٹس بچوں کی تحویل اور ملاقات کے حقوق سے متعلق امور کو ہینڈل کرتی ہیں، جیسا کہ شیڈول کی مد 5 میں درج ہے۔

   - **سرپرستی**

: سرپرستی سے متعلق امور مد 6 میں درج ہیں۔
   - **فیملی کورٹس اور ضلعی عدالتیں**: ایکٹ کی دفعہ 25 کے تحت فیملی کورٹس کو Guardians and Wards Act، 1890 کے تحت ضلعی عدالتوں کے برابر سمجھا جاتا ہے۔

4. **دائرہ اختیار کی خصوصی نوعیت*

*: کچھ مستثنیات کے علاوہ، فیملی کورٹ کی تحویل کے امور پر خصوصی دائرہ اختیار ہے، یعنی دوسرے عدالتیں، بشمول Guardian Judge، ان معاملات پر فیصلہ نہیں کر سکتیں۔

یہ خلاصہ فیملی کورٹ کے دائرہ اختیار اور اس کے حدود کو سمجھنے میں مددگار ہوگا۔

Must read Judgement 


PLD 2023 Lahore 433

Jurisdiction of Family Courts --- Custody of minor --- Scope --- As evident from its Preamble , the Family Courts Act , 1964 , has been enacted for the establishment of Family Courts for expeditious settlement and disposal of disputes relating to marriage and family affairs and for matters connected therewith --- Subject to the Muslim Family Laws Ordinance . 1961 and the Conciliation Courts Ordinance , 1961 . exclusive jurisdiction has been conferred upon the Family Courts to entertain , hear and adjudicate upon matters specified in Part I of the Sched , to the Family Courts Act , 1964 --- Said subject matters include custody of children and the visitation rights of the parents to meet them as specified in Entry No.5 of Part 1 of the Sched , whereas the matters of Guardianship are also stipulated in Entry No.6 thereof --- Section 25 of the Family Courts Act , 1964 , deems the Family Court to be a District Court for the purposes of Guardians and Wards Act , 1890 Barring a few exceptions specified in subsections ( 4 ) & ( 5 ) of S. 1 of the Family Courts Act , 1964 , jurisdiction of the Family Court over matters of custody is exclusive and no otherCourt including the Guardian Judge has any jurisdiction to deal with such matters .



For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.


































 































Post a Comment

Previous Post Next Post