G-KZ4T1KYLW3 Lahore High Court order punjab government to make rules for registration of divorce.

Lahore High Court order punjab government to make rules for registration of divorce.

Lahore High Court order punjab government to make rules for registration of divorce. 

Lahore High Court order punjab government to make rules for registration of divorce. 

مسیحی شہریوں کی طلاق کے اندراج اور پنجاب حکومت کی آئینی و قانونی ذمہ داری

مقدمے کا پس منظر

یہ معاملہ طلاق کے سرکاری اندراج اور اس سے متعلق سرٹیفکیٹ کے اجرا سے جڑا ہوا ہے، جس میں بالخصوص اقلیتی برادری، خصوصاً مسیحی برادری کو عملی مشکلات کا سامنا تھا۔ یونین کونسلز کی جانب سے طلاق کے اندراج اور سرٹیفکیٹ کے اجرا کے لیے واضح قواعد موجود نہ ہونے کے باعث شہریوں کو قانونی اور انتظامی مسائل درپیش تھے۔

لوکل گورنمنٹ کا قانونی فریضہ

عدالت نے واضح کیا کہ پیدائش، وفات، شادی اور طلاق کا اندراج اور ان سے متعلق سرٹیفکیٹس کا اجرا مقامی حکومت کا بنیادی فریضہ ہے۔ ماضی میں یہ ذمہ داری مختلف بلدیاتی اداروں کے سپرد رہی، جبکہ موجودہ قانونی نظام کے تحت یہ اختیار اور ذمہ داری یونین کونسل کو حاصل ہے۔

پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے تحت ذمہ داریاں

عدالت نے نشاندہی کی کہ پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے تحت حکومت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ قانون کے مقاصد پورے کرنے کے لیے قواعد وضع کرے۔ اس کے باوجود طلاق، بالخصوص اقلیتی برادری کی طلاق کے اندراج اور سرٹیفکیٹ کے اجرا سے متعلق کوئی مؤثر قواعد یا ذیلی قوانین تاحال نافذ نہیں کیے گئے۔

اقلیتی برادری کو درپیش مسائل

عدالت کے سامنے یہ حقیقت بھی آئی کہ درخواست گزار واحد فرد نہیں بلکہ مسیحی برادری کے متعدد افراد اس مسئلے سے دوچار ہیں۔ طلاق کے اندراج کے واضح طریقۂ کار کی عدم موجودگی کے باعث نہ صرف سرکاری ریکارڈ متاثر ہو رہا ہے بلکہ شہریوں کی ازدواجی حیثیت کے تعین میں بھی رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔

قواعد اور ذیلی قوانین کی ضرورت

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ موجودہ حالات میں پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے تحت قواعد اور ذیلی قوانین بنانا ناگزیر ہو چکا ہے تاکہ طلاق کے اندراج اور سرٹیفکیٹ کے اجرا کا ایک واضح، یکساں اور قانونی طریقہ کار وضع کیا جا سکے اور شہریوں کو غیر ضروری مشکلات سے بچایا جا سکے۔

پنجاب حکومت کو عدالتی ہدایت

عدالت نے پنجاب حکومت کو ہدایت کی کہ وہ مقررہ مدت کے اندر طلاق کے اندراج سے متعلق ضروری قواعد مرتب کرے اور اس ضمن میں تمام متعلقہ نوٹیفکیشنز اور ہدایات جاری کرے تاکہ مقامی حکومتیں اس قانون پر مؤثر عملدرآمد کر سکیں۔

نادرا کی عبوری پالیسی

عدالتی کارروائی کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ نادرا کی موجودہ پالیسی کے تحت حلف نامے کی بنیاد پر ازدواجی حیثیت میں تبدیلی کی اجازت دی جاتی ہے۔ عدالت نے ہدایت کی کہ جب تک صوبائی حکومت طلاق کے اندراج سے متعلق قواعد مرتب نہیں کر لیتی، اس وقت تک نادرا اسی عبوری طریقۂ کار کے تحت شہریوں کو سہولت فراہم کرتا رہے۔

عدالتی فیصلے کی اہمیت

یہ فیصلہ نہ صرف طلاق کے اندراج کے قانونی خلا کو پُر کرنے کی سمت ایک اہم قدم ہے بلکہ اس سے اقلیتی برادری کے حقوق کے تحفظ اور انتظامی نظام میں شفافیت کو بھی فروغ ملے گا۔ عدالت کا یہ حکم مقامی حکومتوں اور صوبائی انتظامیہ کے لیے واضح رہنمائی فراہم کرتا ہے کہ شہری معاملات میں تاخیر اور ابہام ناقابلِ قبول ہے۔


PLD 2024 لاہور 443 میں، عدالت نے پنجاب حکومت کو 90 دنوں کے اندر پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2022 کے تحت طلاق کے اندراج کے لیے قوانین بنانے کی ہدایت کی۔ اس وقت تک نادرا ازدواجی حیثیت میں تبدیلی کے حلف نامے قبول کرے گا۔


PLD 2024 Lahore 443

It is the function of the Local Government to register births, deaths, marriages, and divorces and issue certificates in respect thereof. 

Under section 51(2)(x) of the Punjab Local Government Act, 2013, the Municipal Committees were charged with this duty. The Punjab Local Government Act, 2019 (read with the Third and Fourth Schedules), the Metropolitan Corporations, Municipal Corporations, Municipal Committees, and the Town Committees performed this function. And now, under section 33(1)(j) of the recently-enacted PLGA 2022, it is the mandate of the Union Council. At this stage, it is pertinent to mention that Section 21 of the National Database and Registration Authority Ordinance, 2000, ordains that the marriage or divorce of a citizen should be reported to NADRA.

Section 202 of PLGA 2022 empowers the Government to make rules for carrying out the purposes of the said Act. However, it has not framed any rules for the registration of divorces of minorities in general and the Christian community in particular and the issuance of divorce certificates. The local governments have also not made any bye-laws in this regard in terms of section 203.

The Petitioner is not the only person who has complained of non-issuance of a divorce certificate by a Union Council. This is a general issue that the Christian community is facing. This Court considers that rules/bye-laws under sections 202/203 of the PLGA 2022 are necessary to meet the situation. Accordingly, the Government of the Punjab is directed to frame the requisite rules and issue notifications and letters, etc., within 90 days from the date of announcement of this judgment. 

During the proceedings, it has been brought to the notice of this Court that NADRA’s Registration Policy dated 06.04.2021 (Version 5.0.2) allows a change of marital status of a divorcee on the basis of an affidavit in the prescribed form. Until the Provincial Government frames rules as directed above, NADRA shall accommod

For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.

































 































Post a Comment

Previous Post Next Post