Mental torture from Husband or Husband family |Husband and his family torture me? wife ke sath mar peet hota hai . tu wife .kia qanuni karwai kar sakti.
![]() |
| Wife ke sath mar peet |
اکثر دیکھا گیا ہے
اور اکثر یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ اگر شوہر یا شوہر کے خاندان کا کوئی فرد بیوی پر ہاتھ اٹھاتا ہو، تشدد کرتا ہو یا ذہنی و جسمانی اذیت دیتا ہو تو ایسی صورت میں بیوی قانونی طور پر کیا کارروائی کر سکتی ہے؟ ذیل میں اس سوال کا جامع مگر آسان اردو میں جواب دیا جا رہا ہے۔
پاکستان میں بیوی پر تشدد
نہ صرف اخلاقی طور پر قابلِ مذمت ہے بلکہ قانونی طور پر جرم بھی ہے۔ شوہر یا اس کے اہلِ خانہ کی طرف سے مارپیٹ، گالم گلوچ، دھمکیاں دینا، زبردستی گھر سے نکالنا یا ذہنی اذیت دینا قانون کی نظر میں ظلم شمار ہوتا ہے۔
سب سے پہلے، بیوی پولیس سے رجوع کر سکتی ہے۔ اگر جسمانی تشدد ہوا ہو تو قریبی تھانے میں ایف آئی آر درج کروائی جا سکتی ہے۔ تعزیراتِ پاکستان کے تحت مارپیٹ، زخمی کرنا اور دھمکیاں دینا قابلِ سزا جرائم ہیں۔ اگر پولیس ایف آئی آر درج نہ کرے تو بیوی مجسٹریٹ کے سامنے درخواست دے سکتی ہے۔
دوسرا اہم قانونی
راستہ گھریلو تشدد کے خلاف قانون ہے۔ پنجاب، سندھ اور اسلام آباد میں گھریلو تشدد کے خلاف خصوصی قوانین موجود ہیں۔ ان قوانین کے تحت بیوی فیملی کورٹ میں درخواست دے سکتی ہے جس میں:
تحفظ کا حکم (Protection Order)
شوہر کو تشدد سے روکنے کا عدالتی حکم
الگ رہائش
مالی معاونت
جیسے احکامات حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
تیسرا راستہ فیملی کورٹ ہے۔ اگر شوہر یا اس کے گھر والے مسلسل ظلم کریں تو بیوی فیملی کورٹ میں:
- خلع
- نان نفقہ
- جہیز یا حقِ مہر
- بچوں کی حوالگی
کے لیے درخواست دائر کر سکتی ہے۔ عدالت شوہر کے رویے اور تشدد کو سنجیدگی سے دیکھتی ہے۔
اگر تشدد کی وجہ سے بیوی کو طبی امداد لینی پڑے تو میڈیکل لیگل رپورٹ (MLR) بنوانا انتہائی اہم ہوتا ہے، کیونکہ یہی رپورٹ بعد میں عدالت میں مضبوط ثبوت بنتی ہے۔
یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے
یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ خاموشی اختیار کرنا مسئلے کا حل نہیں۔ قانون بیوی کو تحفظ دیتا ہے، مگر اس کے لیے بروقت قدم اٹھانا ضروری ہے۔ کسی قابلِ اعتماد شخص، خواتین کے ہیلپ لائن، یا قانونی ماہر سے رہنمائی لینا بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
خلاصہ یہ کہ اگر شوہر یا اس کے اہلِ خانہ بیوی پر ہاتھ اٹھائیں یا تشدد کریں تو بیوی کے پاس قانونی طور پر کئی راستے موجود ہیں، اور قانون اس کے ساتھ کھڑا ہے، بشرطیکہ وہ اپنے حق کے لیے آواز بلند کرے۔
Aksar dekha gia hai or aksar swalat poocha jata hai ke Mera husband ya koi family member husband family ka wife per hath uthata hai tu wife kistarh se Husband ya us ki family ke khalaf karwai kar sakti.hai.
Orat per hath uthana ya galin zadokob karna aik criminal case hai.
Agar aap per koi tashdad karta hai tu aap ko foran 15 per call karni chahye.
Or foran police station main application dain.
Application Dene ke baad app ko agar chot lagi hai tu foran apna medical through police ya court karwana chahye.
Or agar aap ka issue family court se related hai or ap janana chahte hain ke women rights kia hain after divorce agar mazeed guzara nahi kar sakte or family courts ke through apna nan wa nafqa , kharcha na balghan , khulla ,Haq mahar lena chahte hain tu Family court se rajoo kar sakti hain.
Agar aap ki sulah hu jati hai through court ya through rishtadaran tu aap razinama kese kar saktien hain.

Assalamualaikum sir mere Bhai police k pass ja k fir darj karwani thi unho ne nimble pen se likh k code bhej diya wo fir online show nai ho Rahi kia Hal hai iska please reply me on WhatsApp+923077038020
ReplyDelete