PLD 2026 Lahore 501: Lahore High Court Rules Joint Property of an Absconding Accused Cannot Be Auctioned Without Demarcation

Section 88 crpc proceedings

PLD 2026 Lahore 501:

 اشتہاری ملزم کی مشترکہ جائیداد کی نیلامی کب غیر قانونی ہوگی؟

تعارف

لاہور ہائی کورٹ نے PLD 2026 Lahore 501 (غلام عباس بنام محمد اعجاز) میں ایک اہم اصول طے کیا کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 88 کا مقصد صرف اشتہاری ملزم کی عدالت میں حاضری یقینی بنانا ہے، نہ کہ شریک مالکان کو نقصان پہنچانا یا ان کے قانونی حقوق سلب کرنا۔ عدالت نے واضح کیا کہ مشترکہ جائیداد کی نیلامی سے پہلے شریک مالکان کے حصص کی علیحدگی اور حد بندی ناگزیر ہے۔

مقدمے کا پس منظر

درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ متعلقہ عدالت نے اشتہاری ملزم کی جائیداد ضبط کرنے کے بعد پوری مشترکہ جائیداد کی نیلامی کا حکم دے دیا، حالانکہ اس جائیداد میں دوسرے شریک مالکان کے بھی قانونی حصے موجود تھے۔ مزید یہ کہ ایک مرتبہ حکم جاری ہونے کے بعد مجسٹریٹ نے سابقہ حکم ختم یا نظرثانی کیے بغیر مزید احکامات بھی جاری کیے۔

⚖️ لاہور ہائی کورٹ کے اہم قانونی نکات

✅ لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ دفعہ 88 ضابطہ فوجداری کا مقصد صرف اشتہاری ملزم کی حاضری یقینی بنانا ہے، نہ کہ کسی دوسرے شخص کو ہراساں کرنا۔
✅ لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ مشترکہ جائیداد کو شریک مالکان کے حصص الگ کیے بغیر مکمل طور پر نیلام نہیں کیا جا سکتا۔
✅ لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ شریک مالکان کے حقوق کو نظر انداز کرتے ہوئے پوری جائیداد کی نیلامی قانون کے منافی ہے۔
✅ لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ مشترکہ جائیداد کی نیلامی سے پہلے ہر شریک کے حصے کی حد بندی (Demarcation) ضروری ہے۔
✅ لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ ایک مرتبہ حتمی حکم جاری ہونے کے بعد مجسٹریٹ Functus Officio ہو جاتا ہے اور سابقہ حکم کو ختم یا نظرثانی کیے بغیر نیا حکم جاری نہیں کر سکتا۔
✅ لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ پہلے حکم کو مناسب قانونی طریقہ سے چیلنج یا منسوخ کیے بغیر بعد کا حکم قانونی حیثیت نہیں رکھتا۔
✅ لاہور ہائی کورٹ نے درخواست منظور کرتے ہوئے غیر قانونی احکامات کو کالعدم قرار دیا۔
📖 فیصلے سے حاصل ہونے والا قانونی اصول
یہ فیصلہ واضح کرتا ہے کہ اشتہاری ملزم کی جائیداد ضبط کرنے کا اختیار لامحدود نہیں۔ اگر جائیداد مشترکہ ہو تو عدالت دوسرے شریک مالکان کے حقوق کا مکمل تحفظ کرے گی، اور ان کے حصص الگ کیے بغیر پوری جائیداد کی نیلامی نہیں کی جا سکتی۔ اسی طرح ایک بار حتمی حکم جاری ہونے کے بعد مجسٹریٹ اسی معاملے میں ازخود نیا حکم جاری نہیں کر سکتا۔

✍️ نتیجہ

یہ فیصلہ شریک مالکان کے املاک کے حقوق کے تحفظ اور ضابطہ فوجداری کی دفعہ 88 کے درست استعمال کے حوالے سے ایک اہم نظیر ہے۔ اس سے یہ اصول بھی مستحکم ہوتا ہے کہ عدالتی اختیارات قانون کی مقرر کردہ حدود کے اندر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

⚖️ حوالہ: PLD 2026 Lahore 501, Criminal Misc. No. 27723/2025, Ghulam Abbas Vs. Muhammad Ijaz


Must read Judgement.

PLD 2026 Lahore 501
Methods of procuring attendance of absconding accused; property of absconding accused can be attached but provision of Section 88 of Cr.P.C is not meant to deprive or harass or be used as a sword of Damocles against any other person; auction of the property in toto, at the expense and detriment of the co-sharers/joint owners, without first demarcation of the property vis-a-vis the shares of the joint/co-sharers should not have been ordered; once order is passed, Magistrate becomes functus officio and no order could have been passed until the previous order was assailed/revised; petition accepted.
Crl. Misc.27723/25
Ghulam Abbas Vs Muhammad Ijaz

For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.

Post a Comment

Previous Post Next Post