![]() |
| 2026 CLC 381 |
اسلام آباد ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: نابالغ شادی جرم ہے، لیکن ہر صورت میں باطل نہیں
⚖️ پس منظر
اسلام آباد ہائی کورٹ نے
2026 CLC 381
میں ایک اہم قانونی سوال کا جواب دیا کہ اگر لڑکی اٹھارہ سال سے کم عمر میں اپنی مرضی سے نکاح کر لے تو کیا ایسا نکاح خود بخود کالعدم ہو جاتا ہے؟
عدالت کے سامنے ایک درخواست آئی جس میں شوہر نے اپنی بیوی کی بازیابی کے لیے آئینی درخواست دائر کی۔ لڑکی عدالت میں پیش ہوئی اور واضح طور پر بتایا کہ اس نے اپنی مرضی سے نکاح کیا ہے اور وہ اپنے شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہے۔
📌 عدالت نے کیا قرار دیا؟
🔹 نابالغ شادی قابلِ سزا جرم ہے
اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2025 کے تحت اٹھارہ سال سے کم عمر کی شادی جرم ہے اور اس پر سزا مقرر ہے۔
🔹 ہر نابالغ شادی خود بخود باطل نہیں ہوتی
عدالت نے قرار دیا کہ قانون ایسی شادی کو کالعدم قرار نہیں دیتا بلکہ صرف اس میں ملوث افراد کے لیے سزا تجویز کرتا ہے۔
🔹 بلوغت اور رضامندی کو اہمیت حاصل ہے
مسلم پرسنل لاء کے مطابق اگر لڑکی بلوغت کو پہنچ چکی ہو اور اس نے آزادانہ رضامندی سے نکاح کیا ہو تو اس کی مرضی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
🔹 نکاح عام معاہدہ نہیں
عدالت نے وضاحت کی کہ نکاح ایک مذہبی اور خاندانی معاہدہ ہے، اس لیے اسے عام تجارتی معاہدوں کی طرح نہیں دیکھا جا سکتا۔
🔹 لڑکی کو اپنی مرضی سے رہنے کا حق حاصل ہے
چونکہ لڑکی نے عدالت کے سامنے شوہر کے ساتھ رہنے کی خواہش ظاہر کی، اس لیے عدالت نے اسے شوہر کے ساتھ رہنے کی اجازت دے دی۔
⚠️ اہم قانونی نکتہ
یہ فیصلہ واضح کرتا ہے کہ:
✅ چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2025 نابالغ شادی کو جرم بناتا ہے۔
✅ لیکن ہر ایسی شادی کو خودکار طور پر باطل یا غیر مؤثر قرار نہیں دیتا۔
✅ بلوغت اور آزادانہ رضامندی کو اب بھی اہم قانونی حیثیت حاصل ہے۔
📖 نتیجہ
اسلام آباد ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ اگرچہ اٹھارہ سال سے کم عمر میں نکاح قانوناً قابلِ سزا عمل ہے، لیکن جہاں لڑکی بلوغت کو پہنچ چکی ہو اور اس نے اپنی آزاد مرضی سے نکاح کیا ہو، وہاں صرف عمر کی بنیاد پر نکاح کو کالعدم قرار نہیں دیا جا سکتا۔
