G-KZ4T1KYLW3 Supreme Court on Departmental Inquiry: Recording of Evidence, Right of Cross-Examination, and De Novo Inquiry – 2025 SCMR 632

Supreme Court on Departmental Inquiry: Recording of Evidence, Right of Cross-Examination, and De Novo Inquiry – 2025 SCMR 632

Supreme Court on Departmental Inquiry: Recording of Evidence, Right of Cross-Examination, and De Novo Inquiry – 2025 SCMR 632.

Department inquiry 


محکمانہ انکوائری میں قانون کی پابندی 

— 2025 SCMR 632 کی روشنی میں

تمہید

محکمانہ انکوائریاں سول سرونٹس کے نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے ایک اہم قانونی ذریعہ ہیں، تاہم یہ اختیار مطلق نہیں بلکہ قانون، قواعد اور آئینی تقاضوں کا پابند ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کا فیصلہ Aamir Akbar v. Additional Superintendent of Police (2025 SCMR 632) محکمانہ انکوائریوں میں طریقۂ کار، شواہد کی ریکارڈنگ، جرح کے حق اور شفاف ٹرائل کے بنیادی اصولوں کو واضح کرتا ہے۔

مقدمہ کے بنیادی حقائق

درخواست گزار ایک پولیس افسر تھا جس کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔ انکوائری کے دوران نہ تو باقاعدہ شواہد ریکارڈ کیے گئے اور نہ ہی درخواست گزار کو گواہوں پر جرح کا مؤثر موقع فراہم کیا گیا۔ محکمانہ سزا کو ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا، تاہم درخواست خارج ہونے پر معاملہ سپریم کورٹ کے سامنے آیا۔

Rule 7 پنجاب سول سرونٹس (ای اینڈ ڈی) رولز 1999 کی تشریح

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ Rule 7 محکمانہ انکوائری کا بنیادی ستون ہے، جس کے تحت ملزم سرکاری ملازم کو الزامات سے آگاہ کرنا، شواہد پیش کرنا، اور صفائی کا پورا موقع دینا لازمی ہے۔ اس رول کی خلاف ورزی انکوائری کو محض رسمی کارروائی بنا دیتی ہے جو قانوناً ناقابلِ قبول ہے۔
پنجاب ایسٹاکوڈ 2013 اور محکمانہ انکوائریاں
عدالت نے پنجاب Estacode 2013 کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ محکمانہ انکوائری کوئی داخلی یا صوابدیدی عمل نہیں بلکہ ایک باقاعدہ نیم عدالتی کارروائی ہے۔ ایسٹاکوڈ میں درج طریقۂ کار کی پابندی ہر انکوائری افسر اور کمیٹی پر لازم ہے، اور اس سے انحراف پوری کارروائی کو مشکوک بنا دیتا ہے۔

انکوائری آفیسر یا کمیٹی کے لیے لازم طریقۂ کار

سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ انکوائری آفیسر یا کمیٹی پر لازم ہے کہ وہ استغاثہ کے گواہوں کے بیانات باقاعدہ ریکارڈ کرے، دستاویزی شہادت کو ثبوت کے طور پر شامل کرے، اور ملزم کو ان گواہوں پر جرح کا مکمل حق دے۔ محض فائل نوٹنگ، سمری یا خفیہ رپورٹس پر انحصار قانون کے منافی ہے۔
شہادت ریکارڈ نہ کرنے اور جرح کے حق سے انکار کے نتائج
عدالت نے دوٹوک الفاظ میں قرار دیا کہ اگر انکوائری میں شہادت ریکارڈ نہ کی جائے یا ملزم کو جرح کا حق نہ دیا جائے تو ایسی انکوائری آئین کے آرٹیکل 10-A کے تحت فیئر ٹرائل کے حق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اس نوعیت کی کارروائی پر مبنی سزا قانوناً برقرار نہیں رہ سکتی۔

خفیہ (Discreet) اور باقاعدہ (Regular) انکوائری میں فرق

سپریم کورٹ نے واضح امتیاز قائم کیا کہ خفیہ یا ڈسکریٹ انکوائری صرف ابتدائی معلومات اکٹھی کرنے کے لیے ہوتی ہے اور اسے سزا کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔ جب کسی سرکاری ملازم کے خلاف باقاعدہ کارروائی کی جائے تو وہ لازماً ریگولر انکوائری ہوگی، جس میں تمام قانونی تقاضے پورے کرنا ضروری ہیں۔

ڈی نوو (De Novo) انکوائری کا مقصد

عدالت نے وضاحت کی کہ ڈی نوو انکوائری کا مطلب محض پرانی انکوائری کو درست کرنا نہیں بلکہ ازسرِ نو، قانون کے مطابق، شفاف اور غیر جانبدارانہ انکوائری کرنا ہے۔ اگر پہلی انکوائری بنیادی قانونی خامیوں سے دوچار ہو تو ڈی نوو انکوائری کا مقصد انہی خامیوں کا ازالہ ہوتا ہے، نہ کہ پہلے سے طے شدہ نتیجہ حاصل کرنا۔

سپریم کورٹ کا حتمی فیصلہ

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ چونکہ درخواست گزار کے خلاف انکوائری میں Rule 7، Estacode 2013 اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی گئی، اس لیے محکمانہ سزا اور اس پر مبنی تمام احکامات کالعدم قرار دیے جاتے ہیں، اور معاملہ قانون کے مطابق دوبارہ کارروائی کے لیے واپس بھیجا گیا۔

نتیجہ اور عملی رہنمائی

یہ فیصلہ محکمانہ انکوائری کرنے والے افسران اور انتظامی حکام کے لیے ایک واضح وارننگ ہے کہ قانون سے ہٹ کر کی گئی کوئی بھی کارروائی دیرپا نہیں ہو سکتی۔ شواہد کی ریکارڈنگ، جرح کا حق، اور شفاف طریقۂ کار نہ صرف قانونی تقاضے ہیں بلکہ انصاف کی بنیاد بھی ہیں۔ 2025 SCMR 632 مستقبل میں محکمانہ انکوائریوں کے لیے ایک مضبوط عدالتی نظیر کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔



2025 SCMR 632 – 

محکمہانہ  انکوائری اور قانونی تقاضے


سپریم کورٹ نے عامر اکبر بمقابلہ ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (C.P.L.A.921-L/2017) کے کیس میں محکمہ جاتی انکوائری کے اہم اصول واضح کیے۔ عدالت نے رول 7 پنجاب سول سروسز (E&D) رولز، 1999 اور پنجاب اسٹاٹ کوڈ 2013 کی روشنی میں فیصلہ دیا۔

اہم نکات:


سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ انکوائری افسر یا کمیٹی کو ہر فریق کے بیانات ریکارڈ کرنا لازمی ہے۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ فریق کو کراس ایکزامینیشن کا حق دینا لازمی ہے، اس سے روکنا انکوائری کو ناقابل قبول بناتا ہے۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ شواہد کو نا ریکارڈ کرنا یا قانونی تقاضے پورے نہ کرنا کارروائی کو کالعدم قرار دیتا ہے۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ڈسکریٹ اور ریگولر انکوائری میں فرق ہونا چاہیے اور مناسب طریقہ اختیار کرنا لازم ہے۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اگر پہلی انکوائری ناقص ہو تو نئی (de novo) انکوائری کرانا ضروری ہے۔

سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ پہلی انکوائری کالعدم ہے اور محکمہ کو شفاف اور قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے نئی انکوائری کرانے کا حکم دیا۔


نتیجہ:

یہ فیصلہ سول سرونٹس اور محکمہ جاتی افسران کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے کہ ہر انکوائری میں شفافیت، شواہد کی مکمل ریکارڈنگ اور فریقین کے قانونی حقوق کا تحفظ لازمی ہے۔

English Title: Supreme Court on Departmental Inquiry: Recording of Evidence, Right of Cross-Examination, and De Novo Inquiry – 2025 SCMR 632


Must read part of judgement 



2025 SCMR 632
(1) Rule 7 of Punjab Civil Servants (E&D) Rules, 1999
(2) Punjab Estacode, 2013, for Departmental Inquiries
(3) Procedure to be followed by the Inquiry Officer/Committee
(4) Consequences of non-recording (naeem)evidence and denial to the right of cross-examination
(5) Distinction between discreet & regular inquiry
(6) Purpose of holding de novo inquiry.
C.P.L.A.921-L/2017
Aamir Akbar v. Additional Superintendent of Police



For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.


































 





































Post a Comment

Previous Post Next Post