G-KZ4T1KYLW3 2017 SCMR 704 – Inheritance and Proof of Parentage: Non-Appearance of Plaintiff Not Fatal When Overwhelming Evidence

2017 SCMR 704 – Inheritance and Proof of Parentage: Non-Appearance of Plaintiff Not Fatal When Overwhelming Evidence

2017 SCMR 704 – Inheritance and Proof of Parentage: Non-Appearance of Plaintiff Not Fatal When Overwhelming Evidence.


2017 SCMR 704 – وراثت اور نسب کا ثبوت: مدعیہ کا گواہی نہ دینا مقدمے کے لیے مہلک نہیں

پس منظر


وراثتی مقدمات میں اکثر یہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر مدعی/مدعیہ بطور گواہ عدالت میں پیش نہ ہو سکے تو کیا اس کی غیر حاضری مقدمے کو کمزور بنا دیتی ہے؟ سپریم کورٹ آف پاکستان نے 2017 SCMR 704 میں اس اہم نکتے پر روشنی ڈالی اور یہ اصول واضح کیا کہ اگر ریکارڈ پر زبردست شہادت موجود ہو تو مدعیہ کا گواہی نہ دینا مقدمے کے لیے مہلک نہیں سمجھا جائے گا۔

کیس کے حقائق


مدعیہ نے دعویٰ کیا کہ وہ مرحوم کی بیٹی ہے اور اس حیثیت سے مرحوم کی جائیداد میں وراثتی حصہ رکھتی ہے۔

دورانِ ٹرائل مدعیہ کا انتقال ہوگیا، اس لیے وہ عدالت میں بطور گواہ پیش نہ ہو سکی۔

ریکارڈ پر مضبوط شہادتیں موجود تھیں جن میں مرحوم کے بھانجے (maternal nephew) کی تصدیق بھی شامل تھی کہ مدعیہ درحقیقت مرحوم کی بیٹی ہے۔

پیدائش کا سرٹیفکیٹ بطور ثبوت پیش کیا گیا تھا، جو نمائش (Exhibit) بھی ہو چکا تھا اور اس پر مدعا علیہان نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ


سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ:

مدعیہ یا اس کے مختار کا گواہی نہ دینا مقدمے کو ناکام نہیں بناتا جب ریکارڈ پر زبردست زبانی اور دستاویزی شہادت موجود ہو۔

مرحوم کے بھانجے کی شہادت اور پیدائش کے سرٹیفکیٹ نے مدعیہ کا نسب ثابت کر دیا۔

جب کسی دستاویز کو عدالت میں نمائش دے دی جائے اور اس پر بروقت اعتراض نہ کیا جائے تو وہ معتبر شہادت شمار ہوتی ہے۔

لہٰذا مدعیہ کا مرحوم کی بیٹی ہونا ثابت ہو گیا اور وہ وراثت کی حقدار قرار پائی۔


اہم نکات (سپریم کورٹ نے قرار دیا):


سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مدعیہ کا گواہی کے لیے پیش نہ ہونا مقدمے کے لیے مہلک نہیں جب مضبوط شہادت ریکارڈ پر موجود ہو۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ زبانی شہادت، جیسے مرحوم کے بھانجے کا بیان، نسب ثابت کرنے کے لیے فیصلہ کن اہمیت رکھتا ہے۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ پیدائش کا سرٹیفکیٹ جب نمائش ہو جائے اور اس پر اعتراض نہ اٹھایا جائے تو وہ معتبر اور قابلِ اعتماد شہادت ہے۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ وراثتی مقدمات میں نسب کے ثبوت کے لیے زبانی اور دستاویزی شہادت کو اکٹھا دیکھنا ضروری ہے۔

نتیجہ


یہ فیصلہ وراثتی اور نسبی دعووں کے حوالے سے ایک اہم قانونی نظیر ہے۔ اس میں عدالت نے یہ واضح کر دیا کہ کسی فریق کی غیر حاضری یا بطور گواہ پیش نہ ہونے سے مقدمہ لازماً ناکام نہیں ہوتا، بلکہ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ ریکارڈ پر دستیاب شہادت کتنی مضبوط اور غیر متنازع ہے۔


Must read Judgement



2017 SCMR 704
Inheritance ---Parentage, proof of---Non-appearance of plaintiff in the witness box---Effect---Plaintiff filed a suit claiming that she is the daughter of deceased and therefore was entitled to iherit his estate---Plaintiff died before the conclusion of the trial, thus she could not appear in the witness box---Overwhelming evidence was available on record to prove that plaintiff was the daughter of deceased---Such fact was also confirmed by the maternal nephew of deceased---Besides, there was no rebuttal of the birth certificate which had been brought on the record, duly exhibited and at that time no objection qua its proof was taken by the defendants---Non-appearance of plaintiff or her attorney in the witness box in such circumstances was not fatal to the case of the plaintiffs, because of the overwhelming oral evidence and also on account of the documentary evidence which had not been rebutted by the defendants---



For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.



































 




































Post a Comment

Previous Post Next Post