Court Sanction Mandatory for Compromise Involving Minors: 2023 PLD 181 Peshawar High Court.
🔷 نابالغ بچوں کے مقدمات میں صلح کے لیے عدالتی اجازت ضروری ہے – 2023 PLD 181 پشاور ہائی کورٹ
📌 کیس کا حوالہ:
2023 PLD 181 – پشاور ہائی کورٹ
فریقین:
درخواست گزار: انور علی
فریق مخالف: عبدالحکیم
🧾 پس منظر / مختصر کہانی:
یہ مقدمہ اس وقت سامنے آیا جب درخواست گزاروں نے سیکشن 12(2) سی پی سی کے تحت ایک حکم کے خلاف درخواست دائر کی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ نابالغ بچوں کی والدہ، جو ان کی قانونی سرپرست تھیں، نے ایک صلح نامہ عدالت میں جمع کروایا جو درحقیقت ملی بھگت پر مبنی تھا۔
درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ:
والدہ دیہی پس منظر سے تعلق رکھتی تھیں،
وہ اردو، پشتو یا انگریزی سے واقف نہ تھیں،
ان کی جانب سے نیا وکیل مقرر کیا گیا جس نے جلدبازی میں صلح کی درخواست داخل کر دی،
اسی دن فائل منگوائی گئی، مشترکہ بیان ریکارڈ کیا گیا اور صلح منظور کر لی گئی،
جبکہ عدالت نے یہ نہیں دیکھا کہ آیا آرڈر 32 رول 7 سی پی سی کے تحت عدالتی اجازت حاصل کی گئی تھی یا نہیں۔
⚖️ ہائی کورٹ کے اہم مشاہدات و نکات:
1. ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ نابالغ بچوں کے مفادات سے متعلق کسی بھی قسم کے معاہدے یا صلح کے لیے عدالت کی پیشگی اجازت لینا قانوناً ضروری ہے (آرڈر XXXII رول 7 سی پی سی)۔
2. ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ موجودہ کیس میں عدالت کی اجازت لیے بغیر صلح کی گئی، جو قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
3. ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ فریقین کو شواہد اور دلائل پیش کرنے کا موقع دیے بغیر مقدمے کا فیصلہ کرنا فطری انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔
4. ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے احکامات میں بنیادی قانونی بے ضابطگی (substantial irregularity) پائی گئی۔
5. ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ بغیر عدالتی اجازت صلح کے ذریعے کیے گئے احکامات غیر مؤثر اور غیر قانونی ہیں، لہٰذا کالعدم قرار دیے جاتے ہیں۔
6. ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ نئے سرے سے:
فریقین کے متضاد مؤقف کے مطابق نکات (Issues) مرتب کرے،
شواہد ریکارڈ کرے،
اور پھر قانون کے مطابق فیصلہ کرے۔
📚 قانونی اثرات:
یہ فیصلہ نابالغ بچوں کے مقدمات میں والدین یا سرپرستوں کی جانب سے کیے گئے معاہدوں کے حوالے سے ایک بنیادی اصول واضح کرتا ہے کہ:
> 🔹 "کوئی بھی صلح یا سمجھوتہ جو نابالغ کے حقوق کو متاثر کرے، اُس وقت تک مؤثر نہیں ہو سکتا جب تک عدالت اس کی باقاعدہ اجازت نہ دے دے۔"
Must read Judgement
Citation Name : 2023 PLD 181 PESHAWAR-HIGH-COURT
Side Appellant : ANWAR ALI
Side Opponent : ABDUL HAKIM
S. 12(2) & O. XXXII, R. 7---Suits by or against minors---Agreement or compromise by next friend or guardian for the suit---Scope---Petitioners contested the dismissal of their application under S. 12(2) , C.P.C.---Petitioners claimed that the minors were represented by their mother in the suits, and a collusive application was submitted to the Trial Court for suit resolution through compromise; that on the same day, files were requisitioned, and a joint statement was recorded, and that new counsel was engaged for the mother who was unfamiliar with Urdu, Pashto or English due to the her rural background---Validity---Impugned orders had failed to address compliance with O. XXXII, R. 7, C.P.C., requiring Court permission---When compromise-related matters involving minor's interests were presented, Court permission was necessary---Such permission was lacking in the present case---Thus, the impugned orders suffered from two issues, i.e. the parties were denied the chance to prove contentions through evidence, and O. XXXII, R. 7, C.P.C., was ignored during the compromise---Such flawed orders were declared illegal due to substantial irregularity and were set aside with the directions that the Trial Court shall frame issues based on divergent party pleas from the application under S. 12(2) , C.P.C and should then record evidence and decide the application's fate lawfully---Constitutional petitions were granted
