G-KZ4T1KYLW3 Police Officer Dismissed for Downgrading Rape Case from Section 376 to 511 – Supreme Court Upholds Termination

Police Officer Dismissed for Downgrading Rape Case from Section 376 to 511 – Supreme Court Upholds Termination

Police Officer Dismissed for Downgrading Rape Case from Section 376 to 511 – Supreme Court Upholds Termination


تفتیشی افسر کا ریپ کیس میں بدنیتی سے قانون کی خلاف ورزی، سپریم کورٹ نے برخاستگی کی سزا برقرار رکھی


(2024 SCMR 510 کا جائزہ)

پاکستان کے قانونی نظام میں تفتیشی افسران کا کردار انصاف کے قیام میں انتہائی اہم ہوتا ہے۔ لیکن جب یہی افسر اپنے فرض سے غفلت یا بدنیتی کا مظاہرہ کرتے ہیں تو نہ صرف متاثرین کے حقوق متاثر ہوتے ہیں بلکہ عدالتی نظام پر بھی سوالات اٹھتے ہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے حال ہی میں ایک ایسا ہی اہم فیصلہ سنایا ہے جس میں ایک تفتیشی افسر نے ایک ریپ کیس میں دفعہ 376 کی بجائے دفعہ 511 لگا کر کیس کو کمزور کرنے کی کوشش کی۔

کیس کا پس منظر


مقدمہ ایک کم عمر لڑکی کے ساتھ زیادتی کے واقعے کا تھا، جس کی ایف آئی آر اس کے والد نے درج کروائی۔ میڈیکل رپورٹ میں متاثرہ لڑکی کی جھلی پھٹنے اور خون آنے کی تصدیق تھی، جبکہ کیمیکل رپورٹ میں انسانی نطفہ کی موجودگی نے جرم کی صداقت کو مزید مستحکم کیا۔

بدنیتی اور قانون کی خلاف ورزی


تفتیشی افسر نے بغیر کسی قانونی جواز کے دفعہ 376 کو ختم کر کے صرف دفعہ 511 لگا دی، جو کہ جرم کی کوشش سے متعلق ہے، جبکہ شواہد نے جرم کی مکمل انجام دہی ظاہر کی۔ اس اقدام کو عدالت نے بد دیانتی اور انصاف میں مداخلت قرار دیا۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ


سپریم کورٹ نے تفتیشی افسر کی نوکری سے برخاستگی کی سزا کو برقرار رکھا اور واضح کیا کہ ایسا بدنیتی سے کی گئی تفتیش انصاف کے نظام کو نقصان پہنچاتی ہے۔ عدالت نے کہا کہ تفتیشی افسر کا رویہ ناقابل قبول ہے اور اس کی وجہ سے عدالت کو مجبوراً سخت فیصلہ لینا پڑا۔

اہم قانونی نکات


دفعہ 376 کا تعلق ریپ کے مکمل جرم سے ہے۔

دفعہ 511 جرم کی ناکام کوشش کے لیے ہے۔

جرم کے واضح ثبوت کے باوجود دفعہ 511 لگانا بے ایمانی اور قانونی خلاف ورزی ہے۔


نتیجہ


یہ فیصلہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خبردار کرتا ہے کہ تفتیش میں بے ضابطگی اور بدنیتی سے گریز کیا جائے۔ انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے والے اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی تاکہ آئندہ ایسے واقعات کا سد باب ممکن ہو۔

2024 SCMR 510

تفتیشی افسر نے بے ایمانی کی وجہ سے تفتیش کے دوران دفعہ 376 P.P.C کے تحت درج ریپ کیس کو دفعہ511 P.P.C میں تبدیل کر دیا۔ سپریم کورٹ نے نوکری سے برخاست کرنے کی سزا برقرار رکھی


Must read judgement 




Supreme Court
The allegation against the Investigation
Officer (petitioner) in the case is that due to an unfair and dishonestinvestigation, he converted a rape case registered under Section 376 P.P.C. into Section 511 P.P.C. However, the petitioner, throughout the departmental proceedings, never denied that the father of the victim was an eye witness of the incident who lodged the FIR for the offence of rape; the petitioner never disputed the medical report
indicating the rupture of the victim girl’s hymen and bleeding vagina, establishing the commission of rape; he never challenged the
chemical examiner’s report confirming the presence of human sperm in the vaginal swab and the shalwar of the victim. In view of such
overwhelming evidence, there was no lawful justification to insert Section 511 P.P.C., which was nothing but an attempt to weak the
prosecution case and provide benefit to the accused.

Supreme Court maintained the order of dismissal from service.

Ikramuddin Rajput…Petitioner
Vs.
The Inspector General of Police, Sindh
and others

Date of Hearing
19.12.2023
CIVIL PETITION NO.940-K OF 2022
Supreme Court
#


For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.


































 




































Post a Comment

Previous Post Next Post