G-KZ4T1KYLW3 Occupancy Tenant Claim Rejected Due to Lack of Historical Possession and Record – 2025 YLR 322

Occupancy Tenant Claim Rejected Due to Lack of Historical Possession and Record – 2025 YLR 322

Occupancy Tenant Claim Rejected Due to Lack of Historical Possession and Record – 2025 YLR 322.


دخیل کار کرایہ دار کون؟ کب وہ زمین کا حق دار نہیں ہوتا؟ – 2025 YLR 322 کا تجزیہ

🔎 تعارف:


پاکستان میں زرعی زمین سے متعلق مقدمات میں اکثر یہ سوال اٹھتا ہے کہ کون شخص دخیل کار کرایہ دار (Occupancy Tenant) کہلا سکتا ہے؟ اور کیا محض ریونیو ریکارڈ میں اندراج سے کوئی شخص زمین پر قانونی حق رکھتا ہے؟ لاہور ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے 2025 YLR 322 میں ان اہم سوالات کا واضح جواب دیا گیا ہے۔

⚖️ کیس کا پس منظر:


مقدمہ: عبدالرحمٰن و دیگر بنام نذیر احمد و غیرہ
نوعیت: سول ریویژن
نمبر: Civil Revision No. 59188 of 2024
فیصلہ: جناب جسٹس چوہدری محمد اقبال

مدعیان نے دعویٰ کیا کہ وہ زمین کے دخیل کار ہیں اور کئی سالوں سے زمین پر قابض ہیں، اس لیے انہیں بے دخل نہ کیا جائے۔ انہوں نے ریونیو ریکارڈ میں اپنی انٹری کو بنیاد بنایا۔ تاہم مخالف فریق نے کہا کہ مدعیان نہ تو پرانے ریکارڈ میں درج ہیں اور نہ ہی وہ اتنے طویل عرصے سے زمین پر قابض ہیں کہ دخیل کار کہلا سکیں۔

🧾 مختصر فیصلہ:


عدالت نے قرار دیا کہ مدعیان پنجاب ٹیننسی ایکٹ 1887 کی شرائط پر پورا نہیں اُترتے، اس لیے وہ دخیل کار نہیں کہلا سکتے۔ ان کا دعویٰ مسترد کر دیا گیا۔

📌 اہم نکات (ہر نکتہ عدالت کے الفاظ میں):


1. ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ دخیل کار وہ شخص ہوتا ہے جو 21 اکتوبر 1868 سے پہلے کے ریکارڈ میں بطور کرایہ دار درج ہو اور زمین پر مسلسل قبضہ رکھتا ہو۔


2. ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ قبضہ کی مدت کم از کم 20 سال ہونی چاہیے اور یہ قبضہ قانون کے نفاذ سے پہلے سے ہو۔


3. ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ اگر کوئی شخص ان شرائط پر پورا نہیں اُترتا تو وہ occupancy tenant کا قانونی دعویٰ نہیں کر سکتا۔


4. ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ ریونیو ریکارڈ میں محض نام درج ہونا دخیل کاری کا حق پیدا نہیں کرتا۔


5. ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ زمین پر عارضی یا حالیہ قبضہ، یا بغیر قانونی جواز کے انٹری، حق ملکیت یا دخیل کاری کا ثبوت نہیں۔


6. ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ مدعیان چونکہ پرانے ریکارڈ میں درج نہیں اور نہ ہی مستقل قبضہ ثابت کر سکے، اس لیے ان کا دعویٰ ناکام قرار دیا جاتا ہے۔

📚 قانونی سبق:


یہ فیصلہ اس بات کی اہم قانونی نظیر ہے کہ قانونی حق صرف اس بنیاد پر نہیں دیا جا سکتا کہ کوئی شخص زمین پر قابض ہے یا اس کا نام ریونیو ریکارڈ میں ہے، جب تک کہ وہ قانونی شرائط پر پورا نہ اُترے۔

📝 نتیجہ:


اگر کوئی شخص زمین پر طویل عرصے سے قابض ہے تو یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے قبضے کو قانون کے مطابق ثابت کرے، ورنہ عدالت ریونیو ریکارڈ یا زبانی دعوے کو کافی نہیں سمجھے گی۔
2025 YLR 322 اس اصول کو مضبوط بناتا ہے اور ریونیو انٹریز کی قانونی حیثیت کو واضح کرتا ہے۔

Must read judgement 



2025 YLR 322

Section 5 & 6 the Punjab Tenancy Act, 1887, Dakheelkar occupancy tenant--- A tenant who has been recorded in periodical record of right before 21.10.1868 and has been in possession upon the land about 20 years prior to promulgation of the said Act is termed as occupancy tenant whereas tenant who does not fulfil the said condition is debarred to claim right of occupancy tenancy and any entry in the revenue record made contrary to the above does not create any right.

Civil Revision 59188/24

Abdul Rehman & 16 Others Vs Nazir Ahmad etc

Mr. Justice Ch. Muhammad Iqbal



For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.


































 




































Post a Comment

Previous Post Next Post