G-KZ4T1KYLW3 2023 SCMR 870: Acquittal in Conspiracy Case for Lack of Evidence

2023 SCMR 870: Acquittal in Conspiracy Case for Lack of Evidence

 Acquittal in Conspiracy Case for Lack of Evidence.2023 SCMR 870:




سازش کے مقدمے میں ناکافی شواہد کی بنیاد پر بریت –

پس منظر:


فیصلہ 2023 SCMR 870 سپریم کورٹ پاکستان کا ایک اہم فیصلہ ہے، جو فوجداری سازش (Criminal Conspiracy) کے مقدمات میں ثبوت کی قانونی حیثیت، استغاثہ کی ذمہ داری اور ملزم کے بنیادی حقوق پر روشنی ڈالتا ہے۔ اس مقدمے میں عدالت نے ملزمان کو بری کر دیا کیونکہ استغاثہ سازش کا جرم ثابت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا۔

کیس کی مختصر کہانی:


استغاثہ کا مؤقف تھا کہ کچھ افراد نے آپس میں مل کر ایک غیر قانونی سازش تیار کی۔ تاہم:

ایف آئی آر میں نہ سازش کی تاریخ، وقت یا مقام کا ذکر تھا۔

کوئی گواہ نامزد نہیں کیا گیا۔

بعد میں پیش کیے گئے تین گواہ بھی سازش کے وقوع کی تفصیل نہ دے سکے۔

واٹس ایپ وائس پیغامات کو بطور ثبوت پیش کیا گیا، مگر ان کا متن (Transcript) کسی جرم کی تشکیل نہیں کرتا تھا۔

سپریم کورٹ کے اہم ریمارکس:


1. "سازش جیسے الزام کو ثابت کرنے کے لیے صرف قیاس آرائی کافی نہیں، بلکہ ٹھوس شواہد ناگزیر ہیں۔"


2. "ڈیجیٹل پیغامات تب تک جرم نہیں بناتے جب تک ان میں کوئی غیر قانونی منصوبہ بندی واضح طور پر ظاہر نہ ہو۔"


3. "فوجداری قانون کا اصول ہے کہ شک کا فائدہ ملزم کو دیا جائے۔"

بریت کی وجوہات (مختصراً):


سازش کی کوئی تاریخ، وقت یا جگہ بیان نہیں کی گئی۔

کوئی عینی گواہ موجود نہیں تھا۔

گواہان کی گواہیاں ناقابلِ اعتبار اور مبہم تھیں۔

ڈیجیٹل ثبوت جرم کی تشکیل کے لیے ناکافی تھے۔

استغاثہ جرم ثابت کرنے میں ناکام رہا۔

قانونی و تربیتی اہمیت:


یہ فیصلہ ان تمام افراد کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہے جو فوجداری قانون، خاص طور پر سازش سے متعلق مقدمات میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ نئے وکلا، پراسیکیوٹرز اور تفتیشی افسران کے لیے یہ ایک اہم مثال ہے کہ کس طرح شک کا فائدہ، ناقص تفتیش اور مبہم گواہی کسی مقدمے کو کمزور کر سکتی ہے۔

اختتامیہ:


2023 SCMR 870 نہ صرف فوجداری مقدمات میں انصاف کے اصولوں کی پاسداری کا مظہر ہے، بلکہ یہ فیصلہ یاد دلاتا ہے کہ ہر الزام، خواہ وہ کتنا ہی سنگین کیوں نہ ہو، قانونی معیار کے مطابق شواہد سے ثابت ہونا ضروری ہے۔

Must read judgement 

2023 SCMR 870

No specific date , time and place where the conspiracy was hatched had been mentioned in the crime report -- Name and number of witnesses to that extent also did not find mention in the crime report --- Although three prosecution witnesses were subsequently brought into picture by the prosecution in support of its case but their testimonies also did not reveal any exact date and time when the conspiracy was hatched --- Prosecution presented voice messages from the Whatsapp chat of the co - accused persons and the principal accused , however the transcript of the messages showed that the same did not constitute any offence



For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.

































 




































Post a Comment

Previous Post Next Post