12(2) CPC Petition Dismissed: No Right Without Title – Sale Agreement Does Not Confer Ownership | 2024 CLC 900 (Sindh High Court)
سیل ایگریمنٹ صرف معاہدہ، ملکیت نہیں — فریق نہ بنانا دھوکہ دہی نہیں: سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ
🔖 حوالہ:
(2024 CLC 900) — سندھ ہائیکورٹ
👥 فریقین:
درخواست گزار: سید محمد غوث
مدعیہ: مسمات نجمہ
📜 زیر غور قانون:
سیکشن 12(2)، دیوانی طریق کار قانون 1908
---
📝 پس منظرِ مقدمہ:
سید محمد غوث نامی شخص نے دعویٰ کیا کہ اس نے ایک فلیٹ خرید رکھا ہے اور وہ اس کا حسن نیت پر مبنی خریدار (Bona Fide Purchaser) ہے۔ بعد ازاں، مسمات نجمہ نے اسی فلیٹ سے متعلق کچھ افراد (بیچنے والے فریق) کے خلاف سول مقدمہ دائر کیا اور ایک عدالتی ڈگری حاصل کرلی، مگر اُس نے درخواست گزار کو فریق نہیں بنایا۔
درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ اس کو مقدمے میں شامل نہ کرنا عدالت سے دھوکہ دہی اور غلط بیانی کے زمرے میں آتا ہے۔ لہٰذا، اُس نے سیکشن 12(2) کے تحت ڈگری کو چیلنج کیا۔
⚖️ عدالتوں کا مؤقف:
1. ٹرائل کورٹ نے شواہد ریکارڈ کرنے کے بعد درخواست مسترد کر دی۔
2. ڈسٹرکٹ کورٹ نے فیصلے کو برقرار رکھا۔
3. سندھ ہائیکورٹ نے بھی درخواست مسترد کرتے ہوئے فیصلہ دیا:
📌 اہم نکات:
1. ✅ سیل ایگریمنٹ صرف ایک معاہدہ ہے، ٹائٹل ڈیڈ نہیں؛ اس سے ملکیت حاصل نہیں ہوتی۔
2. ✅ جب تک درخواست گزار اپنی قانونی ملکیت ثابت نہ کر لے، اسے مقدمے میں فریق بنانے کا کوئی قانونی تقاضا نہیں۔
3. ✅ دھوکہ دہی یا غلط بیانی کا الزام تب ہی قابلِ سماعت ہوتا ہے جب واضح ثبوت ہوں، جو اس کیس میں موجود نہ تھے۔
4. ✅ عدالت نے کہا کہ صرف دعویٰ کرنا کہ میں خریدار ہوں، اس وقت تک ناقابل قبول ہے جب تک قانوناً ملکیت کا حق ثابت نہ ہو۔
5. ✅ کسی بھی مقدمے میں فریق بنانے کے لیے قانونی حیثیت کا ہونا ضروری ہے، نہ کہ صرف خریداری کا دعویٰ۔
📚 فیصلے کا خلاصہ:
درخواست گزار کے پاس نہ تو قانونی حیثیت تھی، نہ کوئی ٹائٹل، اور نہ ہی کوئی ایسا حق جو اُسے مقدمے کا فریق بننے کا جواز دیتا۔ لہٰذا، عدالت نے یہ قرار دیا کہ مدعیہ کا اُسے فریق نہ بنانا نہ تو دھوکہ دہی ہے اور نہ ہی قانون کی خلاف ورزی۔
🧾 نتیجہ:
سندھ ہائیکورٹ نے آئینی درخواست خارج کر دی اور ماتحت عدالتوں کے فیصلے کو برقرار رکھا۔
Must read judgement
Citation Name : 2024 CLC 900 KARACHI-HIGH-COURT-SINDH
Side Appellant : Syed MUHAMMAD GHOUS
Side Opponent : Mst. NAJMA
S.12(2)---Fraud and misrepresentation---Non-impleadment of a party---Petitioner (who asserted himself as bona fide purchaser) filed an application under S. 12(2) of the Civil Procedure Code, 1908, (C.P.C) alleging that lady plaintiff (vendee) did not implead him as a necessary party in her suit against defendants/vendors regarding the flat (suit-property) and obtained a decree in her favour by playing fraud and misrepresentation on the Court---Trial court, after recording evidence , dismissed the said application under S.12(2), C.P.C., which order was maintained by the District Court---Validity---There was no reason for respondent No.1/plaintiff to implead the petitioner/applicant for the reason that petitioner/applicant neither had nor could establish legal character or right on the basis of the Sale Agreement---Sale Agreement by itself could not confer any title on the petitioner/applicant also because the same was not a title deed, and such agreement did not confer any proprietary right---Thus, impleading petitioner/applicant before he had established his right in the flat would have been meaningless---No illegality or material irregularity had been noticed in the impugned orders passed by both the Courts below---Constitution petition was dismissed, in circumstances
