G-KZ4T1KYLW3 FIR Denial and Alternative Remedies under Sections 22-A & 22-B Cr.P.C. — Civil Dispute Not Criminally Actionable: 2024 PCrLJ 786 Lahore High Court

FIR Denial and Alternative Remedies under Sections 22-A & 22-B Cr.P.C. — Civil Dispute Not Criminally Actionable: 2024 PCrLJ 786 Lahore High Court

FIR Denial and Alternative Remedies under Sections 22-A & 22-B Cr.P.C. — Civil Dispute Not Criminally Actionable: 2024 PCrLJ 786 Lahore High Court.


ایکس آفیشیو جسٹس آف پیس کے اختیارات اور مناسب قانونی راستے

(2024 PCrLJ 786 – لاہور ہائیکورٹ)

مقدمے کا پس منظر

درخواست گزار محمود احمد نے ایکس آفیشیو جسٹس آف پیس/ایڈیشنل سیشن جج نرول کے اس حکم کو چیلنج کیا جس میں درخواست گزار کی FIR درج کرنے کے لیے ہدایت جاری کرنے کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی۔
یہ معاملہ سیکشنز 22-A اور 22-B، Cr.P.C سے متعلق ہے، جو ایکس آفیشیو جسٹس آف پیس کو کچھ مخصوص اختیارات فراہم کرتی ہیں۔

عدالتی تشریح

عدالت نے واضح کیا کہ:
اگر پولیس نے FIR درج کرنے سے انکار کیا، تو درخواست گزار کے لیے دیگر متعدد قانونی راستے دستیاب تھے، جیسے:
متعلقہ Sessions Judge/Ex-Officio Justice of Peace کے پاس درخواست دائر کرنا (S. 22-A(6), Cr.P.C)
Magistrate کے پاس درخواست دائر کرنا (S. 156(3), Cr.P.C)
یا براہِ راست S. 200, Cr.P.C کے تحت شکایت دائر کرنا
اس مقدمے میں درخواست گزار نے پہلے SHO کے پاس FIR درج کرنے کی کوشش کی، جو مسترد ہو گئی۔ اس کے بعد درخواست گزار نے ایکس آفیشیو جسٹس آف پیس/سیشنز جج کے پاس S. 22-A & 22-B کے تحت درخواست دی، جو مسترد کر دی گئی۔
عدالت نے نوٹ کیا کہ درخواست گزار نے دو دیگر دستیاب قانونی راستے استعمال نہیں کیے، اس لیے رِٹ دائر کرنا قانونی طور پر مناسب نہیں تھا۔

اہم قانونی نکات

ایکس آفیشیو جسٹس آف پیس کے اختیارات محدود ہیں اور صرف مخصوص قانونی دائرہ اختیار میں استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
اگر قانونی طریقہ موجود ہو تو عدالت عالیہ کے رِٹ اختیار میں مداخلت نہیں کرے گی۔
اگر معاملہ سول کورٹ میں زیر التواء ہو (مثلاً فروخت کا معاہدہ یا Specific Performance) تو کرمنل کورٹ اس پر کارروائی نہیں کر سکتی۔

مقدمے کا حوالہ

درخواست گزار کی FIR درج کرنے کی درخواست مسترد کی گئی کیونکہ:
مناسب قانونی راستے موجود تھے اور درخواست گزار نے انہیں مکمل طور پر استعمال نہیں کیا۔
معاملہ ایک سول تنازعہ کے تحت زیر سماعت تھا، اور کرمنل عدالت کی جانب سے اس پر کارروائی غیر قانونی ہوتی۔

عدالتی نتیجہ

ہائی کورٹ نے درخواست گزار کی رِٹ درخواست مسترد کر دی۔ عدالت نے واضح کیا کہ قانونی طریقہ موجود ہونے کے باوجود براہِ راست رِٹ اختیار کرنا درست نہیں۔

قانونی اہمیت

ایکس آفیشیو جسٹس آف پیس کے اختیارات محدود ہیں اور صرف مخصوص حالات میں استعمال ہوتے ہیں۔
رِٹ دائر کرنے سے پہلے تمام دستیاب قانونی راستے استعمال کرنا لازمی ہے۔
سول اور کرمنل معاملات میں عدالتوں کا دائرہ اختیار متعلقہ قانون کے مطابق علیحدہ ہے۔
یہ فیصلہ واضح کرتا ہے کہ FIR درج نہ کرنے پر ہر صورت میں رِٹ دائر کرنا درست نہیں، جب مناسب قانونی راستہ موجود ہو۔



ہائی کورٹ نے قرار دیا:
اگر پولیس ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کرے تو متاثرہ فریق کے پاس متعدد متبادل قانونی راستے موجود ہوتے ہیں، جن میں:

1. سیشن جج/ایکس آفیشیو جسٹس آف پیس سے رجوع،



2. مجسٹریٹ کے پاس سیکشن 156(3) کے تحت درخواست دینا،


3. براہِ راست فوجداری شکایت (سیکشن 200 کے تحت) درج کرانا شامل ہیں۔



درخواست گزار نے صرف ایک راستہ اختیار کیا اور دیگر قانونی متبادل استعمال نہیں کیے، اس لیے سیدھا ہائی کورٹ میں رِٹ دائر کرنا قانون کے مطابق درست نہیں تھا۔
علاوہ ازیں، جس بیع نامے کو جعلسازی قرار دیا گیا وہ پہلے ہی سول مقدمے میں زیرِ بحث تھا، جس میں ڈگری ہو چکی تھی اور اُس کے خلاف درخواست (سیکشن 12(2) CPC) بھی زیرِ التواء تھی۔
لہٰذا، ہائی کورٹ نے کہا کہ فوجداری عدالت ایسے سول تنازع میں مداخلت نہیں کر سکتی۔

نتیجہ:

درخواست ناقابلِ سماعت قرار دے کر خارج کر دی گئی۔

Must read Judgement


Citation Name : 2024 PCrLJ 786 LAHORE-HIGH-COURT-LAHORE
Side Appellant : MEHMOOD AHMAD
Side Opponent : ADDITIONAL SESSIONS JUDGE/EX-OFFICIO JUSTICE OF PEACE, NAROWAL
Ss. 22-A & 22-B---Ex-officio Justice of Peace, powers of---Adequate remedy---Scope---Petitioner assailed the order passed by Justice of Peace whereby he had declined the request for issuance of direction for registration of FIR---Validity---If the FIR was refused to be registered by the police then other remedies were available for the aggrieved party; firstly, by approaching the Sessions Judge/Ex-Officio Justice of Peace, for exercising of power under S. 22-A(6), Cr.P.C; secondly, by approaching the Magistrate for exercising of power under S. 156(3), Cr.P.C; and lastly, by filing a direct complaint under S. 200, Cr.P.C.---Allegedly, the petitioner in the first instance approached the concerned SHO for registration of the FIR but he was refused, thereafter the petitioner had availed the second remedy of filing application under Ss. 22-A & 22-B, Cr.P.C. before Ex-Officio Justice of Peace/Sessions Judge, where his application was dismissed---Petitioner had not availed two other remedies available for him for redressal of his grievance---In such circumstances, invoking of writ jurisdiction in the presence of adequate remedy being available was not desirement of law---In the case in hand, alleged forged agreement to sell was used by the proposed accused in a civil suit for specific performance of agreement to sell, which was admittedly decreed, against which application under S. 12(2) , C.P.C. of the petitioner was pending but the operation of the judgment and decree had not been suspended---Moreover, Criminal Court was barred to take cognizable of the matter relating to civil agreement which was already under challenge before the civil Court---Petition was dismissed in limine.
کیس کی کہانی مختصر


For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.


































 




































Post a Comment

Previous Post Next Post