Supreme Court Ruling on Discretionary Grant of Decree for Specific Performance of Agreement to Sell.
سپریم کورٹ کا معاہدہ برائے فروخت کی تکمیل کے لیے حکم دینے کی صوابدید پر فیصلہ
سپریم کورٹ کا فیصلہ: تعمیل مختص کے لیے عدالت کی صوابدید
سپریم کورٹ نے کیس 2025 SCMR 64 میں یہ واضح کیا کہ مخصوص عمل (Specific Performance) کے لیے دائر کی گئی درخواست پر حکم نامہ عدالت کی صوابدیدی امداد ہے۔ یعنی عدالت کے پاس اختیار ہے کہ وہ کسی بھی معاہدے کے تحت مخصوص عمل کے لیے حکم نامہ جاری کرے یا نہ کرے۔
مقدمے کا پس منظر اور قانونی اصول
اس کیس میں درخواست گزار، افاد گل، نے مخصوص عمل کے لیے درخواست دی تاکہ فروخت کے معاہدے کے تحت جائیداد کی منتقلی ممکن ہو سکے۔ عدالت نے کہا کہ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ انصاف اور مساوات کے تقاضے کس طرف جھک رہے ہیں۔ اگر عدالت محسوس کرے کہ حکم دینے میں انصاف کے تقاضے درخواست گزار کے حق میں ہیں تو عدالت حکم دے سکتی ہے۔
عدالت کی صوابدید اور ثبوت کا کردار
عدالت نے مزید کہا کہ حتیٰ کہ اگر درخواست گزار نے فروخت کے معاہدے کو ثابت کر دیا ہو، تب بھی عدالت کے پاس اختیار ہے کہ وہ حکم نامہ جاری کرے یا نہ کرے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ عدالت ہر مقدمے میں انصاف کے تقاضوں کو مقدم رکھے اور صرف قانونی ثبوت پر منحصر نہ ہو، بلکہ مساوات اور حالات کے مطابق فیصلہ کرے۔
نتیجہ
نتیجتاً، اس فیصلے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مخصوص عمل کے لیے دائر درخواست پر عدالت کی صوابدیدی اختیار کو محدود نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت اپنی صوابدید کے مطابق فیصلہ کرتی ہے کہ آیا فروخت کے معاہدے کی بنیاد پر حکم نامہ دیا جائے یا نہیں۔
سپریم کورٹ نے اپنے ایک حالیہ فیصلے میں یہ قرار دیا
کہ معاہدہ برائے فروخت کی تکمیل کے لیے حکم دینا عدالت کی صوابدید پر منحصر ہے۔ اس فیصلے میں عدالت نے کہا کہ اگر عدالت کو یہ لگے کہ حکم دینے سے فریقِ مدعی کے حق میں انصاف ہوگا، تو وہ اس معاہدے کی تکمیل کے لیے حکم جاری کر سکتی ہے، تاہم اگر عدالت کو انصاف کی تکمیل میں رکاوٹ محسوس ہو، تو وہ حکم دینے سے انکار بھی کر سکتی ہے۔
اس کیس میں، افیض گل نے مست فَرکھندہ ایوب خان کے خلاف معاہدہ برائے فروخت کی تکمیل کے لیے دعویٰ کیا تھا۔
عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ مدعی نے معاہدہ کو ثابت کیا، تاہم اس کے باوجود یہ فیصلہ عدالت کی صوابدید پر ہوتا ہے کہ آیا معاہدے کی تکمیل کا حکم دیا جائے یا نہیں۔
سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ اس بات کو اجاگر کرتا ہے
کہ معاہدوں کی تکمیل کے حوالے سے عدالتوں کو مکمل صوابدید حاصل ہے، اور عدالتیں ہر کیس میں فریقین کے حق میں انصاف کی بنیاد پر فیصلہ کرتی ہیں۔ اس فیصلے کے ذریعے عدالت نے اس بات کی وضاحت کی کہ معاہدے کی تکمیل کے لیے حکم دینا صرف قانونی حق نہیں بلکہ ایک عدلیہ کی ذمہ داری اور صوابدید ہے۔
