Father's Denial of Paternity Rejected in Maintenance Case – Quetta High Court Upholds Family Court Decree
یہ فیصلہ 2025 CLC 276 (بلوچستان ہائیکورٹ، کوئٹہ بینچ) ایک اہم قانونی اصول کو واضح کرتا ہے کہ باپ پر اپنی نابالغ بیٹیوں کا نان نفقہ دینا شرعاً اور قانوناً لازم ہے، اور اس ذمہ داری سے انکار محض دعویٰ کرنے سے نہیں کیا جا سکتا۔
خلاصۂ فیصلہ:
- فریقین:
- درخواست گزار/اپیل کنندہ: علی اکبر
- مدعا علیہ/جوابی فریق: مسز نسیم
اہم نکات:
-
نان نفقہ کا نفاذ:
عدالت نے واضح کیا کہ اگر نان نفقہ کا حکم نامہ (decree) ایک بار جاری ہو جائے اور حتمی حیثیت اختیار کر لے، تو باپ (judgment-debtor) اس کی ادائیگی سے انکار نہیں کر سکتا، محض اس بنیاد پر کہ بچیاں اس کی بیٹیاں نہیں ہیں۔ -
دعویٰ انکارِ نسب:
- علی اکبر نے پہلی بار decree کے نفاذ کے دوران دعویٰ کیا کہ بچیاں اس کی نہیں۔
- لیکن ریکارڈ سے ثابت ہوا کہ وہ پہلے ان بچیوں کی تحویل (custody) کے لیے عدالت سے رجوع کر چکا تھا، اور ملاقات کا حق بھی حاصل کر چکا تھا۔
-
خود تضاد بیانی:
ایک طرف وہ بچیوں کی ملاقات و تحویل مانگتا رہا، دوسری طرف وہی بچیاں اپنی نہ ہونے کا دعویٰ کرنے لگا، جو خود اس کے مؤقف میں تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔ -
عدالتی رویہ:
عدالت نے اس دلیل کو بدنیتی پر مبنی قرار دیا اور کہا کہ یہ صرف نان نفقہ سے بچنے کی کوشش ہے۔
-
نتیجہ:
- علی اکبر کی آئینی درخواست ابتدائی مرحلے پر ہی مسترد کر دی گئی۔
- عدالت نے اسے بچیوں کے شرعی و قانونی حقوق کو مؤخر کرنے کی کوشش قرار دیا۔
اگر آپ چاہیں تو میں اس فیصلے پر مبنی ایک مختصر قانونی نوٹ، بلاگ پوسٹ، یا اردو میں خلاصہ تحریر بھی تیار کر سکتا ہوں۔
Citation: 2025 CLC 276
عدالت: بلوچستان ہائی کورٹ، کوئٹہ
فریقِ اول (درخواست گزار): علی اکبر
فریقِ دوم (مدعا علیہہ): مسمات نسیم
قانونی نکات:
- قانون: فیملی کورٹس ایکٹ 1964، سیکشن 5 اور شیڈول آئٹم 12
- موضوع: کم سن بیٹیوں کے لیے نان نفقہ، ڈگری پر عمل درآمد، والد کی ذمہ داری، نسب سے انکار
خلاصہ فیصلہ:
- مدعا علیہہ (مسمات نسیم) نے دو کم سن بیٹیوں کے لیے نان نفقہ کی ڈگری حاصل کی۔
- درخواست گزار (علی اکبر) نے فیملی کورٹ میں یہ دعویٰ دائر کیا کہ وہ ان لڑکیوں کا والد نہیں ہے، اس لیے اُسے نان نفقہ ادا کرنے سے بری کیا جائے۔
- فیملی کورٹ نے یہ درخواست مسترد کر دی اور اس فیصلہ کو برقرار رکھا گیا۔
- مسمات نسیم نے Oaths Act کی دفعہ 9 کے تحت حلف لینے کی درخواست دی، کہ اگر علی اکبر حلفاً ان لڑکیوں کا نسب قبول نہیں کرتا تو وہ نان نفقہ کا دعویٰ واپس لے لے گی۔
- علی اکبر نے عدالت میں حلف دیا، مگر اس کا بیان متضاد اور غیر واضح تھا۔
- عدالت نے فیصلہ دیا کہ علی اکبر ڈگری پر مکمل عمل درآمد کرے۔
- عدالت عالیہ نے قرار دیا کہ درخواست گزار کوئی قانونی سقم یا بے ضابطگی ظاہر نہ کر سکا جو مداخلت کا جواز بنے۔
- عدالت نے اس آئینی درخواست کو صرف التواء اور بیٹیوں کو ان کے شرعی و قانونی حق سے محروم کرنے کی کوشش قرار دیا اور فوری طور پر خارج کر دیا۔
نتیجہ:
درخواست گزار کی آئینی درخواست ابتدائی سماعت پر ہی خارج کر دی گئی۔
اگر آپ کو اس کیس سے متعلق مزید قانونی نکتے یا مشابہہ فیصلے درکار ہوں تو ضرور بتائیں۔
Must read Judgement
Citation Name : 2025 CLC 276 QUETTA-HIGH-COURT-BALOCHISTAN
Side Appellant : ALI AKBAR
Side Opponent : Mst. NASEEM
S.9---Family Courts Act (XXXV of 1964), Ss. 5 Sched.12---Maintenance allowance of minor girls---Enforcement of decree ---Father (judgment-debtor), responsibility of---Scope---Denial of parentage---Scope---Judgment-debtor filed an application before the Executing/Family Court praying to discharge him from maintenance of lady/decree -holder's two minor daughters (also decree -holders)---Executing Court dismissed said application which judgment was maintained---Judgment-debtor filed a constitutional petition---Claim/plea of the petitioner (judgment-debtor) was that the minor girls were not his daughters---Validity---Record revealed that the plaintiff/respondent applied under section 9 of the Oaths Act with the prayer that if the petitioner on Oath refused the parentage of the minors girls, she would withdraw the claim of their maintenance, and if he refused, then she was ready to take Oath---Executing Court (Family Judge) allowed the application---Resultantly the petitioner recorded his statement on Oath, which was ambiguous and self-contradictory---Executing Court directed the petitioner to comply with the decree in letter and spirit---Petitioner failed to point out any illegality, irregularity, or non-observance of the mandatory law provisions in the proceedings, warranting interference by the High Court---Instead, the institution of the constitutional petition was just an attempt to cause delay, and deprive the daughters of their legal and Islamic rights---Constitutional petition, filed by judgment-debtor/father, was dismissed in limine, in circumstances
