Women's Inheritance Rights and Un-Islamic Customs.
عورت کو وراثت سے محروم کرنے کی رسم (رواج) غیر اسلامی اور ناقابلِ نفاذ ہے
اردو خلاصۂ فیصلہ
پشاور ہائی کورٹ نے قرار دیا
عدالت نے واضح طور پر قرار دیا کہ عورت کو وراثت سے محروم کرنے کا کوئی بھی رواج اسلامی احکامات کے خلاف ہے،
خواتین کے وراثتی حقوق اور غیر اسلامی رواج
وراثت اسلام کا ایک بنیادی حکم ہے، جس میں خواتین کو ان کا شرعی حصہ دینے کی سختی سے تاکید کی گئی ہے۔ مگر بدقسمتی سے بعض علاقوں میں خواتین کو وراثت سے محروم رکھنے کے لیے غیر اسلامی رواج کو جواز بنایا جاتا ہے۔
پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے 2016 YLR 23 میں ایک ایسا ہی معاملہ زیر بحث آیا، جہاں مدعا علیہ نے دعویٰ کیا کہ ان کے علاقے میں خواتین کو وراثت نہیں دی جاتی۔ عدالت نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ اسلامی قوانین قرآن کی بنیاد پر ہیں، اور خواتین کو وراثت سے محروم کرنے والا کوئی بھی رواج غیر قانونی اور غیر اسلامی ہے۔
قانونی سبق
یہ فیصلہ نہ صرف اسلامی احکامات کی پاسداری کو یقینی بناتا ہے بلکہ خواتین کے حقوق کے تحفظ میں بھی ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا۔ وقت آ گیا ہے کہ معاشرہ غیر اسلامی روایات کے بجائے قرآن و سنت کی روشنی میں خواتین کو ان کا حق دے، تاکہ انصاف اور مساوات کو فروغ ملے۔
Must read judgement
Citation Name : 2016 YLR 23 PESHAWAR-HIGH-COURT
Side Appellant : RIAZ AHMAD
Side Opponent : FAQIR AHMAD KHAN
Succession---Custom (Riwaj)---Scope---Riwaj (custom) of not giving Inheritance to female---Inheritance mutation ---Contention of defendant was that Inheritance mutation was made according to such custom (Riwaj)---Validity---Riwaj (custom) claimed by defendant had no record and the area where property-in-dispute was located was totally Muslim inhabited area and there was no evidence on record that non-muslims were residing there and alleged Riwaj was enforced---Riwaj of not giving Inheritance to female was contrary to Injunctions of Islam and could not be enforced or promulgated----In presence of Islamic Law of Inheritance which was based on Quranic injunctions, it could not be presumed that un-Islamic Riwaj could be enforced---Under the law of Inheritance , plaintiff would become co-owner in legacy of her deceased father to the extent of her share---Revision was allowed and suit stood decreed as prayed.
