Legal Status and Requirements of Hiba (Gift) – A Judicial Review
 |
Legal Status and Requirements of Hiba (Gift) – A Judicial Review |
ھبہ کی قانونی حیثیت اور شرائط – ایک عدالت جائزہ
ھبہ (Gift) اسلامی فقہ اور ملکی قوانین میں ایک اہم معاہدہ ہے جس کے ذریعے کوئی شخص اپنی جائیداد یا کسی اور قابلِ ملکیت چیز کو بلا عوض کسی دوسرے کو منتقل کرتا ہے۔ پاکستان میں، عدالتوں نے مختلف فیصلوں میں ھبہ کے بنیادی اصولوں کو واضح کیا ہے، جن میں سے ایک اہم فیصلہ سپریم کورٹ کا مقدمہ 2024 SCMR 734 ہے۔ اس فیصلے میں ھبہ کے بنیادی اجزاء اور قانونی تقاضے بیان کیے گئے ہیں، جو کہ درج ذیل ہیں:
---
1. ھبہ کی تعریف اور قانونی فریم ورک
ھبہ ایک بلا معاوضہ اور رضاکارانہ عمل ہے جس میں مالک اپنی جائیداد کو کسی دوسرے شخص کو مستقل طور پر دیتا ہے۔ مسلم قانون اور عدالتی نظائر کے مطابق، ھبہ کی تکمیل کے لیے تین بنیادی عناصر ضروری ہیں:
1. ایجاب (Offer): واہب (Donor) کی طرف سے واضح طور پر یہ اعلان کہ وہ فلاں جائیداد کسی کو ھبہ کر رہا ہے۔
2. قبولیت (Acceptance): موہوب لہ (Donee) کی طرف سے ھبہ کو قبول کیا جانا ضروری ہے۔
3. قبضہ (Possession): ھبہ مکمل ہونے کے لیے ضروری ہے کہ جائیداد کا قبضہ موہوب لہ یا اس کے نمائندے کو دے دیا جائے۔
یہ تینوں عناصر پورے ہونے کے بعد ہی ھبہ قانونی اور مؤثر تصور کیا جائے گا۔
---
2. سپریم کورٹ کا فیصلہ 2024 SCMR 734 اور ھبہ کی شرائط
اس فیصلے میں سپریم کورٹ نے وضاحت کی کہ ھبہ کی قانونی اور شرعی حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے درج ذیل شرائط کا پورا ہونا ضروری ہے:
(الف) واہب (Donor) کی اہلیت:
وہ صاحبِ عقل و شعور (Compos Mentis) ہو، یعنی ذہنی طور پر درست فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
وہ بالغ ہو، کیونکہ نابالغ شخص اپنی جائیداد کا قانونی طور پر ھبہ نہیں کر سکتا۔
وہ جائیداد کا مکمل مالک ہو، یعنی جس چیز کو ھبہ کیا جا رہا ہے، وہ اس کی قانونی ملکیت میں ہو۔
(ب) ھبہ کی جانے والی چیز کی شرائط:
وہ چیز وجود میں ہونی چاہیے، یعنی کوئی خیالی یا غیر موجود چیز ھبہ نہیں کی جا سکتی۔
وہ چیز ایسی ہو جس کا استعمال شرعی طور پر جائز ہو۔
جائیداد یا چیز کو زبردستی یا دباؤ کے تحت ھبہ نہیں کیا جانا چاہیے۔
(ج) قبضہ (Possession) کی منتقلی:
عدالت نے اس اصول کو خاص طور پر واضح کیا کہ ھبہ اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک جائیداد کا عملی قبضہ موہوب لہ کو نہ دے دیا جائے۔ اس فیصلے میں بیان کیا گیا کہ:
واہب کو اپنے ملکیتی حقوق اور جائیداد پر اختیار مکمل طور پر ختم کرنا ہوگا۔
قبضے کی زبانی منتقلی کافی نہیں ہوگی، بلکہ موہوب لہ کو جائیداد پر عملی تصرف حاصل ہونا چاہیے۔
اگر قبضہ موہوب لہ کو نہیں دیا گیا تو یہ محض ایک وعدہ ہوگا، جو قانونی طور پر ھبہ تصور نہیں کیا جا سکتا۔
---
3. عدالتی نظائر اور عملی اطلاق
پاکستانی عدالتوں نے ھبہ کے مقدمات میں اکثر قبضے کی منتقلی پر زور دیا ہے۔ کئی کیسز میں، فریقین کے درمیان تنازع اس بات پر پیدا ہوا کہ آیا قبضہ واقعی منتقل ہوا تھا یا نہیں۔
مثلاً:
اگر کسی شخص نے اپنی جائیداد زبانی طور پر اپنے بیٹے کو ھبہ کر دی لیکن قبضہ اپنے پاس رکھا، تو یہ قانونی طور پر نامکمل ھبہ ہوگا۔
اگر کسی نے اپنی جائیداد ھبہ کی اور موہوب لہ نے اس پر قبضہ کر لیا، تو یہ مکمل اور قانونی ھبہ سمجھا جائے گا۔
---
4. عملی نکات: ھبہ کرتے وقت کن باتوں کا خیال رکھا جائے؟
اگر کوئی شخص اپنی جائیداد کسی کو ھبہ کرنا چاہتا ہے تو اسے درج ذیل نکات پر عمل کرنا چاہیے:
✅ ھبہ کا اظہار واضح اور غیر مبہم ہونا چاہیے۔
✅ موہوب لہ کو ھبہ کی قبولیت ظاہر کرنی چاہیے۔
✅ جائیداد کا عملی قبضہ فوراً منتقل کیا جانا چاہیے۔
✅ ھبہ کے معاہدے کو تحریری طور پر درج کرنا بہتر ہوگا، تاکہ بعد میں قانونی پیچیدگی نہ ہو۔
---
5. نتیجہ
سپریم کورٹ کے فیصلے 2024 SCMR 734 نے ھبہ کے قانونی تقاضوں کو ایک بار پھر واضح کر دیا ہے۔ خاص طور پر، قبضے کی منتقلی کو اس فیصلے میں بنیادی شرط قرار دیا گیا ہے۔ اگر قبضہ منتقل نہیں کیا جاتا، تو ھبہ ناقص تصور ہوگا اور عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا، جو بھی شخص ھبہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ وہ شرعی اور قانونی اصولوں کے مطابق اس عمل کو مکمل کرے تاکہ کسی بھی تنازع سے بچا جا سکے۔
Must read Judgement
Citation Name : 2024 SCMR 734 SUPREME-COURT
Side Appellant : BABAR ANWAR
Side Opponent : MUHAMMAD ASHRAF
Gift---Pre-requisites----Doner should be compos mentis, meaning thereby a person who is of sound mind and has the mental capacity to understand the legal implications of his act of making a gift, and he must be of age and also the owner of the property intended to be gifted; the thing gifted should be in existence at the time of making hiba ; the thing gifted should be such that benefitting from it is lawful under the Shariah; the donor must be free from any coercion/duress or undue influence while making a gift; the thing gifted should come into the possession of the donee himself or through his representative/guardian for an effective hiba ---Under Muslim law, the constituents and components of a valid gift are tender, acceptance and possession of property---It is also obligatory that the donor divest and dissociate himself from the dominion and ownership over the property of the gift and put into words his categorical intention to convey the ownership to the donee distinctly and unambiguously with the delivery of possession of the property and ensure that donee has secured physical ascendency over the property to constitute the delivery of possession.
For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp
Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.
Popular articles