G-KZ4T1KYLW3 Inheritance Rights of a Daughter Who Passes Away During Her Parents' Lifetime: Legal Status and Judicial Precedents 2024 MLD 1709

Inheritance Rights of a Daughter Who Passes Away During Her Parents' Lifetime: Legal Status and Judicial Precedents 2024 MLD 1709

Inheritance Rights of a Daughter Who Passes Away During Her Parents' Lifetime.2024 MLD 1709

Inheritance Rights of a Daughter Who Passes Away During Her Parents' Lifetime: Legal Status and Judicial Precedents

Inheritance Rights of a Daughter Who Passes Away During Her Parents' Lifetime: Legal Status and Judicial Precedents.

والدین کی زندگی میں فوت شدہ بیٹی کا حقِ وراثت: قانونی حیثیت اور عدالتی نظائر


وراثت کے معاملات میں اکثر پیچیدگیاں اس وقت پیدا ہوتی ہیں جب کسی بیٹی کا انتقال اس کے والدین کی زندگی میں ہو جائے۔ یہ سوال کہ آیا ایسی بیٹی کے بچے (یعنی نواسے اور نواسیاں) اپنے نانا کی جائیداد میں حق رکھتے ہیں یا نہیں، پاکستان میں مختلف قانونی اصولوں اور عدالتی نظائر کی روشنی میں دیکھا جاتا ہے۔

مسلم وراثتی قوانین اور سیکشن 4 کا اطلاق


پاکستان میں وراثتی قوانین اسلامی اصولوں پر مبنی ہیں، جن کے مطابق والدین کی زندگی میں فوت ہونے والی اولاد کے لیے وراثت کا کوئی حصہ مقرر نہیں۔ تاہم، مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کے سیکشن 4 کے تحت، اگر کوئی بیٹا یا بیٹی اپنے والد کی زندگی میں وفات پا جائے، تو ان کی اولاد (یعنی پوتے/پوتیاں یا نواسے/نواسیاں) کو وہ حصہ ملے گا جو ان کے والدین کو ملنا تھا، گویا وہ والدین کی جگہ پر وراثت کے حق دار ہوں گے۔

عدالتی نظیر:

 2024 MLD 1709


لاہور ہائی کورٹ کے ایک حالیہ فیصلے (2024 MLD 1709) میں اسی مسئلے پر روشنی ڈالی گئی۔ اس کیس میں محمد بشیر احمد نے اپنے نانا کی جائیداد میں حصہ لینے کے لیے مقدمہ دائر کیا، کیونکہ ان کی ماں اپنے والد (یعنی محمد بشیر احمد کے نانا) کی زندگی میں فوت ہو چکی تھی۔

عدالت نے فیصلہ دیا کہ:

1. چونکہ محمد بشیر احمد کی والدہ مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کے نفاذ سے پہلے فوت ہو چکی تھی، اس لیے ان کے بچوں کو سیکشن 4 کے تحت کوئی فائدہ نہیں دیا جا سکتا۔


2. اگرچہ اب یہ قانون نافذ ہے، لیکن یہ ماضی میں ہونے والی وفات پر لاگو نہیں ہو سکتا۔


3. وراثتی انتقال (Mutation of Inheritance) میں محمد بشیر احمد کی والدہ کا نام شامل نہ کرنا قانونی طور پر درست تھا، کیونکہ اس وقت وہ شرعی اصولوں کے مطابق وارث نہیں تھیں۔


4. درخواست گزاران نے پہلے ایک مقدمہ دائر کیا تھا، جو صلح پر واپس لے لیا گیا، مگر نئے مقدمے کے لیے اجازت نہ لی، اور 8 سال بعد دوبارہ مقدمہ دائر کیا، جو حدود (Limitation) کے قانون کے تحت ناقابلِ سماعت قرار پایا۔



قانونی نتائج اور اثرات


یہ فیصلہ ایک اہم عدالتی نظیر فراہم کرتا ہے، جو درج ذیل نکات کو واضح کرتا ہے:

اگر کسی شخص کی زندگی میں اس کی اولاد وفات پا جائے، تو اس اولاد کے بچے صرف اسی صورت میں حق دار ہوں گے جب مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 نافذ ہو۔

اگر کسی خاتون یا مرد کی والدین کی زندگی میں وفات آرڈیننس کے نفاذ سے پہلے ہوئی ہو، تو ان کے بچے نانا یا دادا کی جائیداد میں حصہ نہیں لے سکتے۔

اگر کوئی شخص صلح کے ذریعے مقدمہ واپس لے لے، تو اسے دوبارہ دائر کرنے کے لیے عدالتی اجازت ضروری ہوتی ہے، ورنہ نیا مقدمہ ناقابلِ سماعت ہوگا۔


نتیجہ


یہ کیس وراثتی قوانین کی تفہیم کے لیے ایک اہم حوالہ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کے تحت حقوق ماضی میں ہونے والے معاملات پر لاگو نہیں کیے جا سکتے۔ مزید یہ کہ، اگر کسی نے ایک مقدمہ واپس لے لیا ہو، تو نیا مقدمہ دائر کرنے سے پہلے قانونی شرائط کا پورا ہونا ضروری ہے، ورنہ وہ حدود (Limitation) قانون کے تحت مسترد ہو سکتا ہے۔

لہٰذا، وراثت کے معاملات میں قانونی پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ معاملات کو جلد از جلد حل کیا جائے  


Must read Judgement


********  Citation Name  : 2024  MLD  1709     LAHORE-HIGH-COURT-LAHORE
  ******  Side Appellant :** Muhammad Bashir Ahmad
  ******  Side Opponent :** Province of Punjab through District Officer (Revenue), Faisalabad
S. 42---Civil Procedure Code (V of 1908), S.115 & O.XXIII Rr.1 (2), (3), 2---Limitation Act (IX of 1908), First Sched., Art.120---Muslim Family Laws Ordinance (VIII of 1961), S.4---Suit for declaration---Limitation---Mutation of inheritance ---Death of daughter before the death of her father---Benefit of S.4 of Muslim Family Laws Ordinance, 1961---Concurrent findings of both the courts below---Revisional jurisdiction of High Court---Scope---Withdrawal of earlier suit on the basis of settlement without any specific permission to institute the suit afresh---Filing of a fresh suit---Legality---No permission was sought for filing the suit afresh, therefore, the petitioners were precluded from instituting the fresh suit---Fresh suit was barred by limitation, because the fresh suit was filed after about 08 years of the withdrawal of earlier suit---Daughter (predecessor of petitioners) having died prior to death of her father was rightly excluded from the inheritance Mutation as to legacy of her father, because at that time Muslim Family Laws Ordinance, 1961 had not been promulgated and enacted; therefore, no benefit of S.4 of the Ordinance ibid was available to the petitioners---Courts below had rightly appreciated and evaluated evidence of the parties and had reached a just conclusion, concurrently, that the petitioners had failed to prove their case by leading cogent, confidence inspiring and trustworthy evidence, thus, concurrent findings on record could not be disturbed in exercise of revisional jurisdiction under S.115, C.P.C.---Judgments and decrees passed by the courts below were upheld---Revision petition


For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.


































 




































Post a Comment

Previous Post Next Post