Free education | Legal Obligation of Private Schools to Provide Free Education to Disadvantaged Children.
![]() |
| "Legal Obligation of Private Schools to Provide Free Education to Disadvantaged Children" |
نجی اسکولوں پر مستحق بچوں کو مفت تعلیم دینے کی قانونی ذمہ داری
تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے، اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام شہریوں کو بلا تفریق معیاری اور مساوی تعلیمی مواقع فراہم کرے۔ پاکستان میں اس مقصد کے تحت مختلف قوانین نافذ کیے گئے ہیں، جن میں سے ایک پنجاب فری اینڈ کمپلسری ایجوکیشن ایکٹ 2014 ہے۔ اس قانون کے تحت نجی اسکولوں پر بھی لازم ہے کہ وہ مستحق بچوں کو مفت تعلیم فراہم کریں، لیکن عملی طور پر اس کے نفاذ میں کئی رکاوٹیں درپیش ہیں۔
قانونی پس منظر
پنجاب اسمبلی نے 2014 میں پنجاب فری اینڈ کمپلسری ایجوکیشن ایکٹ منظور کیا، جس کا مقصد 5 سے 16 سال کی عمر کے بچوں کے لیے مفت اور لازمی تعلیم کو یقینی بنانا تھا۔ اس قانون کے مطابق:
- تمام نجی اسکولوں کو اپنے داخلے کا کم از کم 10 فیصد مستحق بچوں کے لیے مختص کرنا ہوگا۔
- ان بچوں سے کوئی فیس نہیں لی جائے گی، اور انہیں وہی سہولیات دی جائیں گی جو فیس ادا کرنے والے طلبہ کو حاصل ہیں۔
- حکومت اس عمل کی نگرانی کرے گی اور اس قانون پر عمل نہ کرنے والے اسکولوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
عملدرآمد میں درپیش مسائل
حال ہی میں لاہور ہائی کورٹ میں Beaconhouse School System, Okara بمقابلہ Commissioner Sahiwal Division کیس میں یہ بات سامنے آئی کہ حکومت نے 10 سال گزرنے کے باوجود اس قانون کے لیے ضروری قواعد (Rules) مرتب نہیں کیے۔ اس کے نتیجے میں:
- نجی اسکولوں پر بغیر واضح رہنمائی کے جرمانے عائد کیے جا رہے تھے۔
- مستحق بچوں کے معیار، واؤچرز کی ادائیگی، اور اسکولوں میں اس نظام کے نفاذ کا کوئی واضح طریقہ کار موجود نہیں تھا۔
- عدالت نے قرار دیا کہ حکومت کی نااہلی کے باعث اسکولوں کو سزا نہیں دی جا سکتی اور پہلے قواعد مرتب کرنا ضروری ہے۔
عدالتی فیصلہ
لاہور ہائی کورٹ نے حکومت کو 30 دن کے اندر قواعد و ضوابط بنانے کا حکم دیا اور ہدایت کی کہ:
- پہلے قواعد بنائے جائیں، پھر قانون کا نفاذ کیا جائے۔
- جب تک قواعد مرتب نہیں ہوتے، اسکولوں کو زبردستی سزا دینا غیر قانونی ہوگا۔
- درخواست گزار اسکول کی رجسٹریشن بحال کی جائے۔
نجی اسکولوں کی ذمہ داری اور حکومت کا کردار
نجی اسکولوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ صرف کاروباری ادارے نہیں بلکہ معاشرتی فلاح کے بھی ذمہ دار ہیں۔ اگر حکومت مؤثر قواعد بناتی ہے اور اس قانون کا منصفانہ نفاذ کرتی ہے تو یہ ممکن ہوگا کہ:
- نجی اسکول مستحق بچوں کو ان کا حق دے سکیں۔
- والدین کو قانونی تحفظ ملے۔
- تعلیمی نظام میں مساوات اور شفافیت آئے۔
نتیجہ
مفت اور معیاری تعلیم ہر بچے کا حق ہے، اور اس میں نجی اسکولوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ تاہم، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ پہلے واضح قواعد و ضوابط بنائے تاکہ اس قانون کے نفاذ میں شفافیت اور انصاف یقینی بنایا جا سکے۔ عدالت کا حالیہ فیصلہ اس بات کی طرف واضح اشارہ ہے کہ قانون سازی صرف کاغذی کارروائی تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس پر مؤثر عملدرآمد بھی ضروری ہے۔
