Cheque Bounce and Criminal Liability – A Significant Lahore High Court Ruling
![]() |
| "Cheque Bounce and Criminal Liability – A Significant Lahore High Court Ruling" |
چیک باؤنس کے مقدمات میں اکثر یہ سوال اٹھتا ہے کہ آیا صرف چیک کی عدم ادائیگی کسی فرد کو فوجداری طور پر ذمہ دار ٹھہرانے کے لیے کافی ہے یا نہیں؟ لاہور ہائی کورٹ نے 2023 PCrLJ 1588 کیس میں اسی نکتے پر ایک اہم فیصلہ دیا، جس میں عدالت نے واضح کیا کہ چیک باؤنس ہونا ازخود جرم نہیں، بلکہ بدنیتی اور دھوکہ دہی کا ثبوت فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔
کیس کا پسِ منظر
ملزم کبیر اکبر ایک کمپنی کے سی ای او تھے۔ ان کی کمپنی نے اسٹیل خریدنے کے لیے مدعی کمپنی سے ایک معاہدہ کیا اور ادائیگی کے لیے چیک جاری کیا، جو بعد میں باؤنس ہو گیا۔ مدعی کمپنی نے اس بنیاد پر مقدمہ درج کرایا کہ ملزم نے دھوکہ دہی کے ذریعے چیک جاری کیا تھا۔
ملزم کا مؤقف تھا کہ:
- چیک ایک مشروط ادائیگی کے طور پر دیا گیا تھا، یعنی یہ مال کی ترسیل کے بعد کیش ہونا تھا۔
- مدعی کمپنی نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چیک کو بغیر مال فراہم کیے بینک میں جمع کرا دیا۔
- مقدمہ بدنیتی پر مبنی تھا اور محض دباؤ ڈالنے کے لیے درج کرایا گیا۔
عدالتی فیصلہ
لاہور ہائی کورٹ نے اس کیس میں درج ذیل نکات واضح کیے:
- چیک باؤنس بذاتِ خود فوجداری جرم نہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ بدنیتی اور دھوکہ دہی ثابت کی جائے۔
- کمپنی کے سی ای او کی ذاتی فوجداری ذمہ داری ثابت کرنا ضروری ہے۔ صرف کمپنی کا عہدہ رکھنا جرم کے ارتکاب کا ثبوت نہیں۔
- چونکہ مقدمے میں بدنیتی کے شواہد موجود تھے، عدالت نے قبل از گرفتاری ضمانت منظور کر لی۔
نتائج اور اہمیت
یہ فیصلہ کاروباری اور تجارتی لین دین میں چیک باؤنس کے مقدمات سے متعلق ایک اہم نظیر ہے۔ اس سے یہ اصول واضح ہوتا ہے کہ ہر چیک باؤنس کا کیس فوجداری جرم نہیں ہوتا، بلکہ عدالتیں اس بات کا بھی جائزہ لیتی ہیں کہ آیا چیک بدنیتی سے جاری کیا گیا تھا یا کسی معاہدے کی خلاف ورزی کے نتیجے میں تنازع پیدا ہوا۔
یہ فیصلہ کاروباری افراد اور کمپنیوں کے لیے ایک راهنما اصول فراہم کرتا ہے کہ چیک کے معاملات میں دیانت داری اور قانونی شرائط کا خیال رکھنا ضروری ہے، تاکہ بعد میں فوجداری کارروائی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
