Advance Income Tax on Inheritance Mutation: A Landmark Lahore High Court Decision.
![]() |
Advance Income Tax on Inheritance Mutation: A Landmark Lahore High Court Decision |
وراثتی انتقال پر ایڈوانس انکم ٹیکس: لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ
وراثتی جائیداد کی منتقلی کے دوران ایڈوانس انکم ٹیکس کے نفاذ پر اکثر قانونی سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ نے حالیہ فیصلے (2022 PTD 1510) میں واضح کیا ہے کہ وراثتی انتقال (Mutation of Inheritance) پر ایڈوانس انکم ٹیکس لاگو نہیں ہوتا۔ یہ فیصلہ ان تمام افراد کے لیے اہم ہے جو وراثتی جائیداد کی منتقلی کے دوران غیر ضروری ٹیکس سے بچنا چاہتے ہیں۔
دفعہ 236C اور اس کا اطلاق
انکم ٹیکس آرڈیننس، 2001 کی دفعہ 236C جائیداد کی فروخت یا منتقلی پر ایڈوانس انکم ٹیکس کے نفاذ سے متعلق ہے۔ اس کے تحت:
- اگر کوئی شخص اپنی جائیداد فروخت کرتا ہے، تو اسے مقررہ شرح کے مطابق ایڈوانس انکم ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔
- جائیداد کی رجسٹریشن یا انتقال (Mutation) کے وقت متعلقہ ریونیو اتھارٹی یہ ٹیکس وصول کرتی ہے۔
- تاہم، اگر جائیداد وراثت میں منتقل ہو رہی ہو، تو یہ ٹیکس لاگو نہیں ہوگا۔
عدالتی فیصلہ اور اس کی قانونی حیثیت
لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا کہ:
- وراثتی انتقال کا مقصد محض ریونیو ریکارڈ میں اندراج ہے، یہ کسی کو نیا قانونی حق نہیں دیتا۔
- جائیداد کی ملکیت مالک کی وفات کے وقت ہی قانونی وارثوں کو خودبخود منتقل ہو جاتی ہے، اور اس کے لیے کسی سرکاری محکمے کی منظوری ضروری نہیں۔
- ایڈوانس انکم ٹیکس صرف اس صورت میں لاگو ہوتا ہے جب کوئی جائیداد فروخت کرے، جبکہ وراثتی انتقال کسی تجارتی لین دین کے زمرے میں نہیں آتا۔
- دفعہ 236C کے تحت 3 یا 5 سال کی مدت کا آغاز انتقال (Mutation) کی تاریخ سے نہیں بلکہ اصل مالک کی وفات کی تاریخ سے ہوگا۔
فیصلے کے اثرات
یہ فیصلہ ملک بھر کے وارثوں کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے، کیونکہ یہ وراثتی جائیداد کی منتقلی کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیتا ہے۔ اس سے نہ صرف قانونی پیچیدگیاں کم ہوں گی بلکہ عوام کو غیر ضروری مالی بوجھ سے بھی نجات ملے گی۔
لہٰذا، اگر کوئی وراثتی جائیداد منتقل ہو رہی ہے، تو ایڈوانس انکم ٹیکس کا مطالبہ غیر قانونی ہوگا۔
